Sunday, November 30, 2025
HomeUrdu StoriesZaal Ka Imtihaan Khatm Urdu Story زال کا امتحان ختم ڈاکٹر اقبال...

Zaal Ka Imtihaan Khatm Urdu Story زال کا امتحان ختم ڈاکٹر اقبال ثاقب

Zaal Ka Imtihaan Khatm Urdu Story

زال کا امتحان ختم ڈاکٹر اقبال ثاقب

Zaal Ka Imtihaan Khatm Urdu Story زال کا امتحان ختم ڈاکٹر اقبال ثاقب

Click Here To Read In English 

زال کا امتحان ختم

تحریر و ترتیب و تحقیقی: ڈاکٹر محمد اقبال ثاقب

زال اور محراب تک خبر پہنچ گئی کہ ایران کی فوجیں کابل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ محراب یہ اطلاع سن کر سہم گیا اور زال کو بڑا غصہ آیا۔ وہ فوراً گھوڑے پر سوار ہو گیا اور ایران کے لشکر کی طرف چل دیا، جس کا سالار اس کا اپنا باپ سام نریمان تھا۔

جب ایران کے لشکر کو زال کے آنے کی خبر ملی تو فوج کے کچھ سردار اس کے استقبال کے لیے نکلے اور پھر اسے سام کے خیمے میں لے گئے۔ سام نے جب اپنے بیٹے کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ زال کیوں اور کس مقصد سے آیا ہے۔ زال نے سلام کرنے کے بعد یوں گفتگو کا آغاز کیا:

“اے بہادر پہلوان! دوستوں سے آپ کا برتاؤ بے مثال ہے، مگر اپنے بیٹے سے دشمنی کیوں کر رہے ہیں آپ؟ جب میں پیدا ہوا تو آپ نے مجھے پہاڑوں میں مرنے کے لیے پھینک دیا۔ مگر جب خدا نے مجھے زندہ رکھا تو آپ کو خیال آیا کہ یہ اچھا نہیں کیا گیا۔ اب جبکہ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری ہر خواہش پوری کریں گے، تو میری اور رودابہ کی شادی روکنے کے لیے اس کے باپ پر حملہ کیوں کر رہے ہیں؟ حالانکہ میرے خط کے جواب میں آپ نے لکھا تھا کہ آپ میرے لیے رودابہ کا ہاتھ مانگنے آ رہے ہیں۔ لیکن آپ نے منوچہر شاہ کے ساتھ مل کر حملے کی سازش تیار کی اور اب رودابہ کے خاندان کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہماری شادی ممکن نہ ہو سکے۔ یاد رکھیں! سچائی اور اچھائی کبھی شکست نہیں کھاتی۔ جب تک میں زندہ ہوں، میں آپ کو کابل پر حملہ نہیں کرنے دوں گا۔”

یہ کہہ کر زال اپنے گھٹنوں کے بل باپ کے سامنے بیٹھ گیا اور بولا:
“ابا جان! آرے سے میرے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، لیکن کابل پر حملہ نہ کریں۔”

سام نے جب زال کو اس حالت میں دیکھا تو گہری سوچ میں پڑ گیا۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ بادشاہ کے حکم پر عمل کرنا اس کے لیے مشکل ہے۔ آخر کار پشیمان ہو کر بیٹے کے قریب آیا، اسے اٹھایا اور بولا:

“ہاں بیٹے! تم بالکل درست کہہ رہے ہو۔ میں نے تمہارے ساتھ کبھی اچھا سلوک نہیں کیا۔ لیکن اب پریشان نہ ہو۔ مجھے ایک تدبیر سوجھی ہے۔ میں ابھی منوچہر شاہ کو خط لکھتا ہوں تاکہ تمہاری خواہش پوری ہو اور کابل پر لشکر کشی نہ ہو۔”

زال یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ سام نے اپنے منشی کو بلایا اور یوں لکھوایا:

“اے بادشاہ! میں ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں، اُمید ہے آپ قبول کریں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ اور آپ کے ملک کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ میں نے مازندران اور گرگساران کے بڑے بڑے پہلوانوں کو شکست دی، خطرناک اژدہوں کو مار گرایا۔ مگر اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ میرے بڑھاپے کا سہارا میرا بیٹا زال ہے۔ وہ محراب کی بیٹی رودابہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس آرزو کو پورا ہونے دیں اور کابل پر لشکر کشی کا ارادہ ترک کر دیں۔ مجھے اپنے بیٹے کے سامنے جھوٹا نہ بنائیں، کیونکہ میں اس سے وعدہ کر چکا ہوں۔”

زال یہ خط لے کر منوچہر شاہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

رودابہ کے والد کی سختی

ادھر محراب کو جب ایرانی لشکر کی خبر ملی تو وہ پریشان ہوا۔ اس نے رودابہ کی ماں کو بلایا اور غصے سے بولا:
“نادان عورت! وہی کچھ ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ تو نے سام کے بارے میں غلط اندازہ لگایا اور مجھے بھی گمراہ کیا۔ اب لشکر ہمیں نیست و نابود کرنے والا ہے۔ ایک ہی حل ہے: رودابہ کو قتل کر کے منوچہر شاہ کے پاس بھیج دوں!”

رودابہ کی ماں یہ سن کر کانپنے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ محراب غصے میں باپ کی محبت بھول چکا ہے۔ وہ سوچنے لگی کہ کس طرح اپنی بیٹی کو بچایا جائے۔ اچانک بولی:

“اے کابل کے والی! مجھے سام کے پاس جانے دو۔ شاید وہ جنگ سے باز آ جائے۔ مگر وعدہ کرو کہ جب تک میں واپس نہ آؤں رودابہ کو کچھ نہ کہو، اور مجھے خزانے سے قیمتی تحفے بھی دو تاکہ سام کو ساتھ لے جاؤں۔”

Zaal Ka Imtihaan Khatm Urdu Story زال کا امتحان ختم ڈاکٹر اقبال ثاقب

محراب نے مجبوری میں یہ تجویز قبول کر لی۔ رودابہ کی ماں تحفے لے کر روانہ ہو گئی۔

سام اور رودابہ کی ماں کی ملاقات

سام کے سپاہیوں نے جب اس قافلے کو دیکھا تو پوچھا کون ہیں۔ جواب ملا کہ “میں محراب کی بیوی اور رودابہ کی ماں ہوں، صلح کے لیے آئی ہوں۔” سام نے قافلے کو اندر بلوا لیا۔

سام نے پوچھا:
“کیا تم نے رودابہ کو دیکھا ہے؟ وہ کیسی ہے؟”

رودابہ کی ماں بولی:
“اے بہادر پہلوان! پہلے وعدہ کریں کہ مجھے نقصان نہ پہنچائیں گے، پھر جواب دوں گی۔”

سام نے وعدہ کیا تو وہ بولی:
“میری بیٹی رودابہ حسین اور نیک ہے۔ اگر آپ کو ہمارے ساتھ رشتہ داری میں شرمندگی ہے تو ہم اصرار نہیں کریں گے، لیکن اگر آپ چاہیں تو یہ بندھن قائم ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فضول جنگ نہ کریں اور بے گناہوں کا خون نہ بہائیں۔”

سام اس کی عقل مندی سے متاثر ہوا اور بولا:
“اے دانا خاتون! کابل لوٹ جاؤ اور سب کو بتا دو کہ سام نریمان بھی جنگ کے حق میں نہیں۔ میں زال اور رودابہ کی شادی چاہتا ہوں۔ چاہے منوچہر راضی ہو یا نہ ہو، یہ شادی ضرور ہو گی۔”

Zaal Ka Imtihaan Khatm Urdu Story زال کا امتحان ختم ڈاکٹر اقبال ثاقب

خوشخبری

رودابہ کی ماں خوشی خوشی واپس لوٹ گئی۔ چند دن بعد زال بھی منوچہر شاہ کا جواب لے کر آیا اور بولا:

“ابا جان! خوشخبری ہے! منوچہر شاہ پشیمان ہے۔ اس نے لشکر واپس بلا لیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ شادی میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔”

یہ سن کر سام کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس نے لشکر کو کابل روانہ کیا، لیکن اس بار جنگ کے لیے نہیں بلکہ صلح اور دوستی کے لیے۔

کابل پہنچ کر شادی کی تیاریاں ہوئیں۔ تقریباً دو ہفتے تک جشن جاری رہا۔ زال اور رودابہ کی محبت نے دو دشمن خاندانوں کو قریب کر دیا۔ شادی کے بعد خوشی کا ماحول قائم ہو گیا۔

جلد ہی اللہ نے زال کو ایک بیٹا عطا کیا جس کا نام رستم رکھا گیا۔ نجومیوں نے بتایا کہ یہ بچہ ایک دن ایسا پہلوان بنے گا جس کے سامنے دنیا کا کوئی اور پہلوان سر نہیں اٹھا سکے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe