Urdu Story Naya Dost
اردو کہانی نیا دوست از حسن ذکی کاظمی

Click Here To Read In English
نیا دوست
از حسن ذکی کاظمی
حمزہ نے کمرے کے دروازے کی گھنٹی بجائی تو ایک اجنبی لڑکے نے دروازہ کھولا جو عمر میں اس سے بڑا لگتا تھا۔
حمزہ نے اسے دیکھ کر ذرا حیرانی سے سوال کیا:
”مسٹر میسن کمرے میں نہیں ہیں؟“
نوجوان نے جواب دیا:
”جی، واش روم میں ہیں۔ آپ اندر آجائیے اور بیٹھئے۔“
حمزہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا:
”آپ کا نام پینٹو ہے؟“
پینٹو نے ہاں میں سر ہلایا اور کہنے لگا:
”جی ہاں، میں پینٹو ہوں اور آپ غالباً حمزہ؟“
حمزہ نے بھی سر ہلاتے ہوئے ہنس کر کہا:
”غالباً نہیں، یقینا۔“
مسٹر میسن واش روم سے باہر آئے تو حمزہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بولے:
”چلو اچھا ہوا تم دونوں نے آپس میں تعارف کر لیا اور مجھے اس کی ضرورت نہیں پڑی۔ ارے یہ شہلا اور ڈاکٹر کو ہی آج ابھی تک نہیں آئے؟“
یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ وہ دونوں بھی پہنچ گئے۔ سب مل کر بیٹھ گئے تو مسٹر میسن نے پینٹو سے کہا:
”بیٹے! پلیز ایک گلاس میں حمزہ کو جوس دے دو اور تھوڑا سا مجھے بھی۔ اگر دل چاہے تو خود بھی پی لینا۔“
پھر انہیں کچھ خیال آیا اور بولے:
”اوہ، آئی ایم سوری… بھئی مجھے یاد نہیں رہا تھا کہ—“
”نہیں،“ شہلا نے ان کا جملہ پورا کیا، ”روبوٹ کھاتے پیتے نہیں۔“
مسٹر میسن تو بس گردن ہلاتے اور مسکراتے رہے لیکن ڈاکٹر کو ہی بولے:
”چلو جب ہم یہاں تک پہنچ گئے تو وہ دن بھی آہی جائے گا جب کھانے پینے لگیں گے۔ کیوں حمزہ، میرا مطلب ہے تمہارا کیا خیال ہے؟“
حمزہ حیرانی سے پینٹو کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لینے میں مصروف تھا اور دل ہی دل میں اس کے بنانے والوں کی تعریف کر رہا تھا کہ انہوں نے ہو بہو اُسے انسان سے ملا دیا تھا۔ ڈاکٹر کو ہی کے سوال سے وہ چونک پڑا۔ پھر اس نے سنبھلتے ہوئے جواب دیا:
”جی جی ہاں، وہ دن ضرور آئے گا جب مٹھائی اور پھلوں کی ٹرے لے کر میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں گا۔ لیکن ڈاکٹر کو ہی! اس وقت تو آپ یہ بتائیے کہ وہ آپریشن جو آپ نے کیا تھا، اس کا نتیجہ کیا رہا؟“
ڈاکٹر کو ہی بولے:
”ہاں ہاں، اچھا یاد دلایا تم نے۔ بھئی میں تو یہی کہوں گا کہ یہ تجربہ بہت کامیاب رہا۔ میں بھی مطمئن ہوں اور میری ٹیم کے ممبر بھی، جن میں دو انسان ہیں اور دو روبوڈوکس یعنی روبوٹ ڈاکٹر۔ مریض کی یادداشت کافی واپس آگئی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو چِپ (Chip) ہم نے اس کے دماغ میں لگایا تھا وہ ٹھیک کام کر رہا ہے۔ اور ہاں، ہم نے کل ایک پریس کانفرنس بلائی ہے۔ اس میں ہم اس آپریشن کے بارے میں اخباری نمائندوں کو بتائیں گے۔ تم اس کی رپورٹ ضرور پڑھنا یا ریڈیو ٹی وی پر سننا۔“
مسٹر میسن بڑے غور سے ڈاکٹر کو ہی کی باتیں سن رہے تھے۔ انہوں نے بڑے تپاک سے ڈاکٹر کو ہی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا:
”ڈاکٹر کو ہی! آپ کو اور آپ کی ٹیم کو یہ کامیابی بہت بہت مبارک ہو۔ سچ یہ ہے کہ سرجری کے میدان میں آپ لوگوں نے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔“
پھر مسٹر میسن نے کچھ سوچا اور ذرا مایوسی کے لہجے میں بولے:
”شاید کبھی سائنس دان میری بیماری کا علاج بھی تلاش کر لیں۔“
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔ شہلا نے اندازہ لگایا کہ مسٹر میسن کچھ رنجیدہ سے ہو گئے ہیں۔ لہذا اس نے ان کا موڈ ٹھیک کرنے کو جلدی سے کہا:
”ارے مسٹر میسن، آپ کو فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ کے تو مزے ہی مزے ہیں۔ جب دل چاہا بچہ بن گئے، جب دل چاہا بوڑھا۔ جب دل چاہا انسان بنتے رہے اور جب دل چاہا روبوٹ بن گئے۔ آپ اتنے روپ بدل سکتے ہیں جو کسی کے بس کی بات نہیں۔“
مسٹر میسن کے چہرے پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آئی لیکن وہ خاموش رہے۔ البتہ ڈاکٹر کو ہی نے جلدی سے کہا:
”مسٹر میسن! میرا خیال ہے کہ میڈیکل سائنس جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، وہ جلد ہی آپ کی بیماری کا علاج بھی تلاش کر لے گی۔ جینز پر آج کل بہت تحقیق ہو رہی ہے۔ حیرت میں ڈالنے والی باتیں پتا چل رہی ہیں۔ کیا عجب کہ جلد ہی کسی ایسی جین کی شناخت کر لی جائے جو آپ کی بیماری سے تعلق رکھتی ہو اور پھر اس بیماری کا علاج دریافت کر لیا جائے۔“
حمزہ نے ڈاکٹر کو ہی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے کہا:
”واقعی سائنس ہر شعبے میں جس تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے، اس نے حیران کر دیا ہے۔ آج جو بات ناممکن ہے، کل ممکن ہو جائے گی اور پرسوں دس قدم اور آگے۔ اب اس آپریشن ہی کو لیجیے جو آپ نے ہفتہ دس دن پہلے کیا ہے۔ کبھی کوئی سوچ سکتا تھا کہ دماغ کے حصے اس طرح بدلے جائیں گے جیسے مشین کے پرزے… اے ہاں، یہ پوچھنا تو یاد ہی نہیں رہا کہ وہ شخص کون ہے جس کا آپریشن ہوا ہے اور اسے آپریشن کے بعد کیا کچھ یاد آیا؟“
ڈاکٹر کو ہی جیسے ایک دم چونک پڑے۔ پھر انہوں نے دھیمے دھیمے حمزہ کا جملہ دہرایا:
”وہ شخص کون ہے اور اسے آپریشن کے بعد کیا کچھ یاد آیا؟“
ایسا لگا جیسے حمزہ نے ان کا کوئی راز پا لیا ہے۔ حمزہ سے نظریں چراتے ہوئے وہ کھڑے ہو گئے اور بولے:
”مائی سن، ڈونٹ بی ام پیشنٹ! وقت آنے پر سب پتا لگ جائے گا۔ یہ بات تو ہم ابھی پریس کانفرنس میں بھی نہیں بتائیں گے کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن تمہیں جلد بتا دوں گا۔ نوٹ ٹوڈے… آج نہیں۔ اچھا چلتا ہوں۔“
یہ کہہ کر ڈاکٹر کو ہی کمرے سے باہر چلے گئے۔ کسی کو یہ خیال ہی نہ رہا تھا کہ پینٹو بھی اس کمرے میں ہے۔ جب اس نے ڈاکٹر کو ہی کے لیے دروازہ کھولا اور تعظیم سے جھک کر انہیں رخصت کیا تو سب کی نظریں اس پر پڑیں۔
”ارے میرے دوست، تم کہاں چھپے ہوئے تھے؟“ حمزہ نے اس کے پاس جاتے ہوئے کہا۔
پینٹو مسکرا کر بولا:
”میں ادھر کونے میں بیٹھا تھا۔ آپ لوگوں کی باتوں میں بڑا مزا آیا۔ کچھ سمجھ میں آگئیں، کچھ آئندہ سمجھ میں آجائیں گی۔“
مسٹر میسن نے بڑے نرم لہجے میں پینٹو کو پاس بلایا اور حمزہ سے کہنے لگے:
”تم دونوں ایک دوسرے کو جان تو گئے ہو، لیکن میں ذرا تفصیل سے تعارف کرا دوں۔ بھئی بات یہ ہے کہ شہلا بیٹی میری ایم۔ پی۔ ڈی کی بیماری سے تو پریشان تھی ہی، اب جو مجھے دل کا دورہ پڑا تو یہ اور بھی پریشان ہو گئی۔ اسے ہر وقت میری فکر رہنے لگی کہ میں کہیں تنہائی میں لڑھک ہی نہ جاؤں۔ لہٰذا اس نے روبوٹس ہوسٹل سے ایک اٹنڈنٹ کا انتظام کیا ہے اور یہ اٹنڈنٹ ہیں مسٹر پینٹو جو سائے کی طرح میرے ساتھ رہیں گے۔ جہاں جاؤں گا میرے ساتھ جائیں گے، کمرے میں ہر وقت میرے پاس رہیں گے۔ انہیں فرسٹ ایڈ کی تربیت دی گئی ہے اور ایمرجنسی سے نپٹنے کے طریقے سکھائے گئے ہیں۔ ان کے پاس ایک ایسا فون بھی ہر وقت رہے گا جس پر یہ براہ راست ایمبولینس اور میرے ڈاکٹر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہیں ان دواؤں کے بارے میں بھی سمجھا دیا گیا ہے جو میں کھاتا ہوں اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ میں کبھی کبھی روپ بدل لیتا ہوں۔“
اتنا بتا کر مسٹر میسن خاموش ہو گئے جیسے تھک گئے ہوں اور پھر بولے:
”میں نے پینٹو کے بارے میں اتنی باتیں بتا دیں، اب ان کے کمالات کے بارے میں شہلا سے سنو۔“
شہلا نے مسکرا کر پینٹو کو دیکھا اور بولی:
”بات یہ ہے کہ پینٹو کا ایک کمال ہو تو بتاؤں۔ یہ تو سر سے پیر تک کمال ہی کمال ہیں۔“
پینٹو نے سر جھکا کر شہلا کا شکریہ ادا کیا اور پاس پڑی ہوئی ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔ شہلا نے حمزہ کو مخاطب کر کے بتانا شروع کیا:
”حمزہ! میرا خیال ہے کہ پہلے پینٹو کی تھوڑی سی ہسٹری بیان کر دوں۔ اسیمو روبوٹس کے بارے میں تو تم جانتے ہی ہو کہ ان کا پہلا ماڈل ہونڈا کمپنی نے تقریباً بیس سال پہلے جاپان میں تیار کیا تھا۔ پھر اس کے بہتر سے بہتر ماڈل آتے رہے جو انسان سے بہت ملنے لگے—شکل صورت میں، سمجھ بوجھ میں اور حرکات میں۔ اور اب یہ زمانہ آ چکا ہے کہ ہم روبوٹس انسان کے ساتھ ہر میدان میں کام کر رہے ہیں۔ میرا، ڈاکٹر کو ہی کا، اور پینٹو کا اسی برادری سے تعلق ہے۔“
حمزہ سے زیادہ صبر نہ ہو سکا۔ وہ بیچ میں بول پڑا:
”سِسٹر! یہ سب باتیں تو پہلے ہو چکی ہیں۔ ایک نئی بات جو میں نے ابھی پڑھی ہے وہ یہ ہے کہ دو پیروں پر چلنے والا روبوٹ جاپانی سائنس دانوں نے پہلی بار 1971ء میں کیٹو لیبارٹری میں بنایا تھا، جو چالیس سیکنڈ میں سترہ سنٹی میٹر کا ایک قدم لیتا تھا۔ پھر 1983ء میں اسی تجربہ گاہ میں ایک نیا روبوٹ بنا جو صرف چار سیکنڈ میں ایک قدم آگے بڑھ جاتا تھا، اور یہ قدم پچاس سنٹی میٹر کا ہوتا تھا۔ پہلا ماڈل 5-WL اور دوسرا 10-WL کہلایا۔“
پینٹو نے حیران ہو کر کہا:
”ارے! آپ کو تو ہماری برادری کے بارے میں بڑی باتیں معلوم ہیں۔“
شہلا نے اپنے خاص انداز میں حمزہ کے بالوں میں محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
”ارے یہ تو انسائیکلو پیڈیا ہے۔ اس سے سنبھل کر بات کرنا۔ اچھا بھئی حمزہ! اب پینٹو کے کمالات سنو۔ ان کا کام صرف مسٹر میسن کی دیکھ بھال ہی نہیں بلکہ ان کا دل بہلانا بھی ہے تاکہ وہ تنہائی سے نہ گھبرا جائیں۔ پینٹو گاتے بہت اچھا ہیں، باتیں بڑے مزے کی کرتے ہیں اور مسٹر میسن کو اخبار اور کتابیں وغیرہ پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔“
کمرے میں ذرا خاموشی ہوئی تو مسٹر میسن کے خراٹوں کی دھیمی دھیمی خرخراہٹ سنائی دینے لگی۔ وہ کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو چکے تھے۔ شہلا اور حمزہ نے اشاروں اشاروں میں بات شروع کی۔ شہلا نے اشارہ کیا کہ:
”چلو۔“
حمزہ نے اشارے میں جواب دیا کہ:
”آپ جائیں، میں تھوڑی دیر پینٹو سے باتیں کر کے خود گھر چلا جاؤں گا۔“
شہلا چلی گئی اور حمزہ پینٹو کو ساتھ لے کر لاؤنج میں جا بیٹھا۔ بیٹھتے ہی اس نے بڑی بے تابی سے کہا:
”یار پینٹو! کیا تم واقعی بہت اچھا گاتے ہو؟“
پینٹو نے مسکرا کر جواب دیا:
”بھائی! اچھے برے کی تو خبر نہیں، ہاں گا لیتا ہوں۔ تھوڑے دن ماسٹر میلوڈی کی شاگردی بھی کی ہے۔ جانتے ہو ماسٹر میلوڈی کو؟ نام سنا ہے کبھی؟“
حمزہ نے خوش ہو کر کہا:
”لو نام سنا ہے؟ ارے بھائی! میں تو ماسٹر میلوڈی کا کنسرٹ سن چکا ہوں روبوٹس کلب میں۔ زبردست فنکار ہیں وہ تو۔ استاد گاما-3 کے خاندان سے ہیں جنہوں نے 1921ء میں پیرس میں اپنے فن کا مظاہرہ کر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ بڑا مشہور گھرانہ ہے یہ تو!“
پینٹو نے بڑی حیرت سے کہا:
”ارے حمزہ! تم تو واقعی… وہ کیا کہا تھا سِسٹر شہلا نے؟ ہاں! تم تو پورے انسائیکلو پیڈیا ہو۔“
حمزہ نے جواب دیا:
”ارے نہیں، بس تھوڑا بہت پڑھ لیتا ہوں ادھر ادھر سے۔ سِسٹر شہلا تو بس ایسے ہی چڑھائی رہتی ہیں مجھے۔ اچھا چھوڑو یہ باتیں، تھوڑا سا گانا تو سناؤ۔“
پینٹو کو زور کی ہنسی آئی لیکن اس نے ضبط کر لی۔ پھر آہستہ سے ہنس کر بولا:
”بھلا یہ بھی کوئی جگہ ہے گانا سنانے کی؟ تماشہ بنا دو گے مجھے۔ لوگ کیا کہیں گے یہ کون؟“
”اچھا چلو پھر باہر باغ میں چلتے ہیں، وہاں محفل جمائیں گے،“ حمزہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔
پینٹو نے گردن ہلاتے ہوئے کہا:
”نہیں، ہاں محفل تو جمی گی، پھر میری شامت بھی خوب آئے گی۔ تمہیں معلوم ہے کہ میں مسٹر میسن کو چھوڑ کر اس لاؤنج سے آگے نہیں جا سکتا۔ مجھے ہدایات دی گئی ہیں کہ ہر وقت ان کے پاس رہوں۔“
حمزہ نے پینٹو کو غور سے دیکھا اور بولا:
”ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے۔ بڑی اچھی بات ہے کہ تمہیں اپنی ذمے داری کا اتنا احساس ہے۔“
پینٹو نے نظریں جھکا لیں اور چند سیکنڈ خاموش رہ کر بولا:
”حمزہ! ذمے داری تو ہے ہی، لیکن ایک اور بات بھی ہے۔ مجھے یہاں آئے دو تین دن ہی ہوئے ہیں، لیکن یقین جانو مجھے ان سے بڑی محبت اور ہمدردی محسوس ہونے لگی ہے۔ بڑے دکھی انسان ہیں لیکن بڑی ہمت والے۔ انہوں نے مجھے اپنی کہانی سنائی تو مجھے رونا آ گیا۔ اور دیکھو، باتیں کیسی اچھی اچھی کرتے ہیں۔“
حمزہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی:
”عالم ہیں، بہت پڑھا ہے انہوں نے۔ کتنے خوش قسمت ہوں گے وہ شاگرد جنہیں انہوں نے پڑھایا ہو گا، کتنوں ہی کی زندگی بنا دی ہو گی۔“
پینٹو مسکرا لیا اور کہنے لگا:
”تم بھی ان کے شاگرد ہو؟“
حمزہ نے بڑی سنجیدگی سے کہا:
”میں اتنا خوش قسمت کہاں؟ میری ان سے ملاقات تو چند مہینے کی بات ہے۔“
”ارے واہ!“ پینٹو نے بڑے جوش میں کہا، ”تو چند مہینے میں ہی تمہیں بقراط بنا دیا۔“
حمزہ کو ہنسی آ گئی۔ کہنے لگا:
”اچھا تو یہ نام بھی تمہیں معلوم ہو گیا۔ سِسٹر شہلا نے بتایا ہو گا۔ انہی نے رکھا ہے۔“
پینٹو نے گردن ہلائی اور اچانک اسے کچھ یاد آ گیا۔ اس نے پوچھا:
”ارے حمزہ! تم واسو بوٹ (WASU BOT) کو جانتے ہو؟“
حمزہ نے ذرا حیران ہو کر کہا:
”واسو بوٹ؟ نہیں بھئی، ایسا کوئی نام میری انسائیکلو پیڈیا میں نہیں ہے۔“
پینٹو نے اپنی قابلیت کا رعب جمانے کے انداز میں کہا:
”ہاں، کم ہی لوگ جانتے ہیں واسو بوٹ کو۔ بڑی دلچسپ کہانی ہے ان کی۔ میں تمہیں سناتا ہوں… وہ موسیقار تھے۔“
بات یہاں تک پہنچی تھی کہ پینٹو کے گلے میں لٹکے ہوئے لاکٹ کی طرح کے آلے میں بلیپ بلیپ شروع ہو گئی اور اس نے گھبرا کر کہا:
”لو بھئی، مسٹر میسن جاگ گئے۔ بلا رہے ہیں۔ چلو، واسو بوٹ کی کہانی اگلی ملاقات میں سہی۔“
حمزہ نے بڑی بے زاری سے کہا:
”ہر بات اگلی ملاقات میں! ڈاکٹر کو ہی اگلی ملاقات میں بتائیں گے کہ وہ مریض کون ہے اور اسے کیا باتیں یاد آئیں؟ تم اگلی ملاقات میں بتاؤ گے کہ واسو بوٹ کون ہے؟ اور میں اگلی ملاقات تک الجھتا رہوں گا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟ خیر، اب کیا کیا جا سکتا ہے۔“
”صبر کرو،“ پینٹو نے ہنس کر کہا، ”بقول ڈاکٹر کو ہی: ڈونٹ بی ام پیشنٹ!“
یہ کہہ کر پینٹو مسٹر میسن کے کمرے کی طرف چلا گیا اور حمزہ نے گھر کی راہ لی۔


