Wednesday, November 26, 2025
HomeHunting StoriesSurkh Jheel Ka Faraib Complete Urdu Story Shikaariyat Series

Surkh Jheel Ka Faraib Complete Urdu Story Shikaariyat Series

Surkh Jheel Ka Faraib Complete Urdu Story Shikaariyat Series

By Hassaan Ahmad Awan

Surkh Jheel Ka Faraib Complete Urdu Story Shikaariyat Series

Click Here to listen this story : 

سرخ جھیل کا فریب

باب 1: کالے کبوتر کا پیغام

سالار غازی اپنے پرانے شکاری کمرے میں بیٹھا تھا، جہاں دیواریں ٹرافیز اور کتابوں سے سجی ہوئی تھیں۔ دوپہر کا وقت تھا اور جنگل کی خاموشی میں، باہر کے درختوں سے صرف ہوا کی سرسراہٹ کی آواز آ رہی تھی۔ وہ ایک قدیم نقشے پر جھکا ہوا تھا، جس پر کسی دور افتادہ وادی کے پہاڑی سلسلے کو نشان زد کیا گیا تھا۔ یہ نقشہ اُسے چند روز قبل ایک ایسے درویش نے دیا تھا جو خود کو “جنگل کا مورخ” کہتا تھا۔ اس نقشے پر، گہرے نیلے رنگ کی جھیلوں کے بیچوں بیچ، ایک جگہ کو شوخ سرخ روشنائی سے نشان زد کیا گیا تھا— جھیل کا نام: سرخ جھیل۔

“سالار بھائی! آپ کب سے اس کاغذ کے ٹکڑے میں گم ہیں؟”

یہ کاشف بلوچ کی بھاری مگر پر مزاح آواز تھی۔ کاشف، اپنے مخصوص بلوچ لباس اور ایک ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے، دروازے پر کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ایک گہری، دوستانہ چمک موجود تھی۔

“آج شکار کا موڈ نہیں ہے کیا؟ مجھے لگا تھا کہ آپ آج صبح اُس بدنام زمانہ پہاڑی ہرن کا تعاقب کریں گے جس نے آپ کے جال کو تین دفعہ ناکام کیا ہے؟”

سالار غازی نے سر اُٹھایا، اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

“شکار تو ہمیشہ ہوتا رہے گا، کاشف۔” “مگر بعض اوقات، شکار خود کو شکاری کے سپرد نہیں کرتا بلکہ ایک راز دے کر جاتا ہے۔”

اس نے نقشہ میز پر پھیلا دیا، اور سرخ نقطے کی طرف اشارہ کیا۔

“یہ دیکھو۔”

کاشف بلوچ آگے بڑھا اور اپنی بھاری انگلی سے نشان کو چھوا۔

“سرخ جھیل؟ یہ تو ایک پرانی لوک کہانی ہے، سالار۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں کا پانی کبھی لال ہوتا تھا، مگر وہ ایک قدرتی عمل تھا۔ اب یہ ویران ہو چکی ہے۔ یہ جگہ تو نقشوں پر بھی مکمل طور پر موجود نہیں ہے۔”

“ویران ہو چکی ہے، مگر بھول نہیں چکی۔” سالار کی آواز میں ایک گہری سنجیدگی تھی۔

“میرے ذرائع بتاتے ہیں کہ پچھلے ایک ہفتے میں اس وادی سے تین مقامی چرواہے غائب ہوئے ہیں۔ اُن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اُن کے ساتھ موجود بھیڑ بکریاں بھی غائب نہیں ہوئیں، صرف انسان غائب ہوئے ہیں۔”

وہ یہ بات کہہ ہی رہا تھا کہ اچانک کھڑکی سے ایک زوردار آواز آئی۔ ایک بڑا، سیاہ فام کبوتر تیزی سے اندر آیا اور سالار کی میز پر گرا۔ کبوتر مردہ نہیں تھا، مگر شدید زخمی تھا اور اُس کے پروں سے گہرا لال رنگ ٹپک رہا تھا— بالکل اُسی رنگ کا جو نقشے پر موجود تھا۔

کاشف بلوچ فوراً چوکنا ہو گیا۔

“یہ کیا ہے؟ یہ پرندہ کسی شکاری کا نشانہ بنا ہے؟”

سالار غازی نے کبوتر کو احتیاط سے اُٹھایا۔ اُس کے پاؤں پر ایک چھوٹا سا چمڑے کا سفری تھیلا بندھا ہوا تھا، جس میں باریک فولادی تار لپٹی ہوئی تھی۔

“نہیں، کاشف۔ یہ محض نشانہ نہیں ہے۔” “یہ ایک پیغام ہے۔”

اس نے تھیلا کھولا۔ اندر ایک رول کیا ہوا چھوٹا کاغذ تھا اور کاغذ کے ساتھ ہی ایک کرسٹل کا ٹکڑا جو جھیل کے پانی جیسا ہلکا سرخ اور شفاف تھا۔ کاغذ پر صرف دو الفاظ اُردو میں لکھے تھے، مگر لکھائی غیر معمولی طور پر سجی ہوئی اور چمکدار تھی۔

” ‘تیار رہو، شکاری’ “

سالار نے یہ جملہ پڑھا۔ اس کی آنکھوں میں اچانک ایک چمک آئی، جو اس کے پُرانے، سنسنی خیز ماضی کی یاد دلا رہی تھی۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ محض کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔

“یہ لکیریں اور یہ کرسٹل… ان کی اپنی زبان ہے۔”

کاشف نے پریشانی کے عالم میں سوال کیا۔

“یہ سب کیا ہے؟ کیا یہ کال یار خان کا کوئی نیا جال ہے؟”

کال یار خان، وہ خطرناک اور حیوان صفت ولن جو سالار اور اس کے دوستوں کی زندگی میں ہمیشہ ایک خوفناک سایہ بن کر رہا تھا۔

سالار نے گہری سانس لی اور اپنی پرانی رائفل، ہالینڈ اینڈ ہالینڈ، کو تھام لیا جو دیوار سے لگی ہوئی تھی۔

“کال یار ہو یا کوئی اور درندہ، یہ اس کا انداز نہیں۔”

” The style is too ornate, too theatrical. This is a new player. “

وہ رائفل کا معائنہ کر رہا تھا، اس کا مضبوط، کھلاڑیوں جیسا جسم حرکت میں آ چکا تھا۔

“یہ پیغام صرف دھمکی نہیں ہے۔ یہ دعوت ہے۔”

“اور ہم شکاری، دعوت رد نہیں کرتے۔ ہم فوراً ڈاکٹر سلیم سے بات کرتے ہیں— ہمیں سرخ جھیل کے پانی اور اس کبوتر کے زخم دونوں کی حقیقت جاننی ہو گی۔ کیونکہ اگر یہ محض فریب ہے، تو فریب کا شکاری بھی ہم ہی ہوں گے۔”

کاشف نے سالار کی تیاری کو بھانپ لیا اور مسکرا کر بولا۔

“تب تو پھر دیر کس بات کی؟” ” Let’s pack the jeep. The Silent Valley awaits! “

سالار نے کبوتر کو اُس کے پروں سے پکڑ کر قریب پڑی لکڑی کی کریٹ میں رکھا اور پھر دروازے کی طرف بڑھا۔ اُس کی نگاہیں اُفق پر مرکوز تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ سرخ جھیل کا یہ پراسرار بلاوا اُسے صرف ایک مہم پر نہیں لے جا رہا تھا، بلکہ ایک ایسے قدیم راز کی طرف لے جا رہا تھا جہاں فطرت، انسانی ہوس اور غیر معمولی قوتیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔

“تیار ہو جاؤ، کاشف۔” “شکاریات کا اگلا باب ‘سرخ جھیل کا فریب’ سے شروع ہو رہا ہے۔ اور ہم اس کی گہرائیوں میں اُتریں گے۔”

وہ کبوتر کے لال رنگ کے کرسٹل کو ہتھیلی میں دبا کر، اپنی مہم کے آغاز کے لیے تیار ہو چکا تھا۔

باب 2: خاموش وادی کا زہر

سالار غازی اور کاشف بلوچ کی جیپ نے جب شہر کے شور کو پیچھے چھوڑا تو سورج پوری طرح غروب ہو چکا تھا۔ ان کی منزل ڈاکٹر سلیم کا دیہی تجربہ گاہ تھی، جو جنگلی حیات اور انسانوں کی آبادی کے سنگم پر واقع تھی۔ ڈاکٹر سلیم، جو ہمیشہ سفید کوٹ اور گہرے مطالعے کی عینک میں ملبوس ہوتے تھے، انتظار کر رہے تھے۔ ان کا کمرہ دواؤں اور کیمیائی بوتلوں سے بھرا ہوا تھا، مگر حیرت انگیز طور پر وہاں ایک عجیب و غریب سکون تھا۔

“تمہیں دیکھ کر اچھا لگا، سالار۔” ڈاکٹر سلیم نے اپنا سر جھکا کر کہا۔ ان کی آواز میں ہمیشہ کی طرح گرمجوشی تھی۔ “مگر تمہارے چہرے پر جو سنجیدگی ہے، وہ بتا رہی ہے کہ یہ کوئی دوستانہ ملاقات نہیں ہے۔”

سالار نے کرسٹل اور زخمی کبوتر کو میز پر رکھا۔ کبوتر کو انہوں نے ایک محفوظ باکس میں منتقل کر دیا تھا جہاں وہ قدرے سکون سے تھا، مگر اُس کے پروں سے ٹپکنے والا گہرا سرخ مادہ ڈاکٹر سلیم کے لیے سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث تھا۔

“ڈاکٹر صاحب، یہ ایک معمے کا آغاز ہے۔ تین آدمی غائب، اور یہ پیغام رساں۔” سالار نے تفصیل بتائی۔ “مجھے یہ جاننا ہے کہ یہ سرخ مادہ کیا ہے؟ کیا یہ کوئی عام خون یا رنگ ہے؟ اور کیا یہ کرسٹل، سرخ جھیل کے پانی کی ترجمانی کر سکتا ہے؟”

ڈاکٹر سلیم نے اپنے دستانے پہنے اور انتہائی احتیاط سے ایک سوئی کی مدد سے کبوتر کے پروں سے سرخ مادے کا ایک قطرہ حاصل کیا۔ انہوں نے اسے طاقتور مائیکروسکوپ کے نیچے رکھا۔ کاشف اور سالار سانس روکے کھڑے تھے۔

“حیرت انگیز!” ڈاکٹر سلیم نے سرگوشی کی۔ “سالار، یہ خون نہیں ہے۔ یہ کوئی عام رنگ بھی نہیں ہے۔ اس میں نباتاتی اور معدنی خصوصیات کا ایسا امتزاج ہے جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ ایک غیرمعمولی نامیاتی مرکب ہے، ایک طرح کا قدرتی زہر جو مصنوعی طریقے سے تقویت یافتہ ہے۔”

انہوں نے اپنی عینک درست کی اور مزید وضاحت کی۔

“یہ مادہ بظاہر تو گاڑھا خون معلوم ہوتا ہے، مگر اصل میں یہ ایک طاقتور اعصابی شکن دوا کا کام کر رہا ہے۔ جو بھی اس کے رابطے میں آیا ہوگا، وہ شدید درد اور مفلوج ہونے کی کیفیت سے گزرا ہو گا۔ اس کا مقصد جان لینا نہیں، بلکہ خاموش کر دینا ہے۔”

سالار کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ “خاموش کر دینا؟ کس لیے؟”

ڈاکٹر سلیم نے مائیکروسکوپ سے ہٹ کر سرخ کرسٹل کو اُٹھایا۔

“اس کے جواب کا تعلق شاید اس کرسٹل سے ہے۔”

انہوں نے کرسٹل کو ایک مخصوص آلے کے نیچے رکھ کر اس کے اجزاء کا تجزیہ کیا۔ تجزیاتی رپورٹ تیزی سے ان کی سکرین پر ظاہر ہوئی۔

“مجھے شک تھا کہ یہ سرخ جھیل کے علاقے کا کرسٹل ہو گا— وہاں پر خاص معدنیات پائی جاتی ہیں۔ مگر اس میں ایک ایسا مصنوعی مادہ شامل کیا گیا ہے جو صرف اعلیٰ درجے کی کیمیائی لیبارٹری میں ہی تیار ہو سکتا ہے۔ یہ مادہ کرسٹل کو حرارت اور روشنی جذب کرنے کی ایک غیر معمولی صلاحیت دے رہا ہے۔”

کاشف بلوچ، جو اب تک خاموشی سے یہ سائنسی باتیں سن رہا تھا، بول پڑا۔

“تو کیا کوئی اس کرسٹل کو ایک قسم کے خفیہ سگنل یا ٹریکر کے طور پر استعمال کر رہا ہے؟”

ڈاکٹر سلیم نے تائید میں سر ہلایا۔ “بالکل۔ کوئی شخص جھیل کی قدرتی خصوصیات کو سائنسی طریقے سے ‘اُٹھا’ رہا ہے۔ یہ معاملہ محض شکاری یا درندے کا نہیں رہا، سالار۔”

” This smells like high-tech crime, not just jungle savagery. “

وہ ابھی مزید کچھ کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر سلیم کا فون بجا۔ سکرین پر صوفیہ خان کا نام چمک رہا تھا۔ صوفیہ ایک نڈر صحافی تھی اور اکثر سالار کو اس کے ایڈونچرز میں مدد کرتی تھی۔

صوفیہ کی آواز میں پریشانی تھی:

“سالار! تم کہاں ہو؟ مجھے ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ غائب ہونے والے چرواہوں میں سے ایک کی بیوی نے مجھے رابطہ کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ غائب ہونے سے ایک دن پہلے، اُس کے شوہر کو کسی نے ایک سرخ کرسٹل دیا تھا، یہ کہہ کر کہ یہ جنگل کی بلاؤں کو دور رکھے گا۔”

سالار نے کرسٹل کو مضبوطی سے مٹھی میں دبا لیا۔

“صوفیہ، ہمارے پاس بھی وہی کرسٹل ہے۔ اور ہم ڈاکٹر سلیم کے پاس ہیں۔”

“میں نے ان لوگوں کی آخری لوکیشن ٹریک کی ہے۔ یہ سب سرخ جھیل کی طرف جا رہے تھے۔ لیکن سالار، میری ایک اور تحقیق بھی ہے۔ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے لیے پرانے جنگلات کی ریسرچ کر رہی تھی جہاں ایک تنظیم، ‘ڈارک فاریسٹ کنزرویشن’، کی پراسرار سرگرمیاں سامنے آئی ہیں۔ یہ لوگ کال یار خان کے پرانے اڈوں کے آس پاس اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔”

سالار نے گہری سانس لی۔ یہ ایک نیا انکشاف تھا، جو کال یار خان کے سائے کو کہیں دور سے جوڑ رہا تھا۔

“ڈارک فاریسٹ کنزرویشن… شکریہ صوفیہ۔ تم اس پر دھیان رکھنا۔ ہم جھیل کی طرف نکل رہے ہیں۔”

فون بند کرنے کے بعد، سالار نے رائفل کی طرف دیکھا۔

“یہ فریب بہت گہرا ہے۔” “صوفیہ کا شک، ڈاکٹر سلیم کی سائنس، اور یہ پراسرار سرخ کرسٹل۔ یہ سب ایک نئے ‘شکاری’ کی نشاندہی کر رہے ہیں جو ہمارے جنگل کے سادہ اصولوں کو توڑ رہا ہے۔”

ڈاکٹر سلیم نے انہیں کچھ طاقتور درد کش ادویات اور خاص قسم کے زہر کو بے اثر کرنے والی دوا دی اور کہا:

“تمہیں وہاں بہت احتیاط کی ضرورت ہو گی۔” “وہاں کا ماحول تمہارا دشمن نہیں ہو گا، بلکہ وہ زہر ہو گا جو خاموشی سے ماحول میں شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ کرسٹل، سالار، ایک جال ہے۔ اور تم اس جال کو توڑنے جا رہے ہو۔”

سالار غازی نے کاشف بلوچ کی طرف دیکھا، جس کے چہرے پر اب بھی عزم تھا۔

“چلو کاشف۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ‘خاموش وادی کا زہر’ ہمیں روک لے گا، تو انہیں اندازہ نہیں کہ ہمارا شکار کرنے کا انداز کیا ہے۔”

رات کے اس پہر، ان کی جیپ نے پہاڑوں کی طرف اپنا رُخ کر لیا، جہاں دور دراز کی وادی میں سرخ جھیل کا اسرار اپنے شکار کا انتظار کر رہا تھا۔

باب 3: جھیل کا سایہ

“وہ دیکھو، کاشف۔” سالار نے آہستہ سے کہا۔ “یہ کوئی قدرتی جگہ نہیں ہے۔ یہ کسی سائنسی تجربہ گاہ کی طرح لگتی ہے۔ ڈارک فاریسٹ کنزرویشن والوں نے جھیل کے قدرتی ماحول کو ہائی جیک کر لیا ہے۔”

اس وقت سالار نے دیکھا کہ ٹاور کے قریب زمین پر کچھ نئی کھدائی ہوئی ہے۔ وہاں ایک چمڑے کا چھوٹا تھیلا پڑا تھا، جو فوراً چرواہوں کے لوازمات میں سے لگ رہا تھا۔ سالار نے احتیاط سے آگے بڑھ کر وہ تھیلا اُٹھایا۔

تھیلے کو کھولتے ہی، اندر سے ایک سادہ سا چاقو اور کچھ پرانی لکڑیاں گریں۔ مگر تھیلے کے اندرونی حصے پر ایک چھپا ہوا جیبی خاکہ بنا ہوا تھا۔ یہ خاکہ کوئی نقشہ نہیں تھا، بلکہ ایک پہیلی تھی۔ خاکہ میں جھیل کے آس پاس کی چند چٹانوں کو دکھایا گیا تھا اور ان پر تین حروف لکھے تھے:

کوڈ: کے۔ اے ۔ ایل۔

اور اس کے ساتھ ہی ایک وقت درج تھا: رات کا ایک بجہ (1:00 AM)۔

“سالار، یہ…” کاشف نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔

“کے۔ اے ۔ ایل۔؟” سالار کے چہرے پر پہلی بار ایک گہری تشویش نمودار ہوئی۔

وہ جانتا تھا کہ یہ صرف ایک ہی نام کا ابتدائیہ ہو سکتا ہے— کال یار خان۔

یہ کوئی نیا شکاری نہیں تھا، بلکہ پرانا دشمن، جو نئے بھیس میں ایک سائنسی ہتھیار کے ساتھ واپس آیا تھا۔ کال یار، جس کا نام سن کر جنگل کے شکاری بھی کانپ اُٹھتے تھے، اب صرف درندوں کا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کر رہا تھا۔

“رات کے ایک بجے…” سالار نے اپنی رائفل کو کندھے سے اُتار کر تیار کیا۔

We don’t wait. We move now.

وہ جانتا تھا کہ اصل فریب سرخ جھیل کا رنگ نہیں تھا، بلکہ یہ وہ خاموش جال تھا جو کال یار خان نے اسے اپنی طرف کھینچنے کے لیے بچھایا تھا۔ شکاری خود شکار بن چکا تھا، اور رات کا ایک بجہ اُس کے استقبال کا وقت تھا۔

باب 4: تاریکی میں کوڈ

رات اپنے آخری پہر کو چھو رہی تھی۔ سرخ جھیل کے آس پاس کی خاموشی اب اور بھی گہری اور وحشت ناک ہو چکی تھی۔ گھڑی کی سوئیوں میں محض آدھا گھنٹہ باقی تھا، اور سالار غازی کے ہاتھوں میں وہ پزل تھی جو چرواہے نے مرنے سے پہلے اپنے تھیلے میں چھوڑی تھی۔

“یہ پہیلی ہے یا موت کا پروانہ؟” کاشف بلوچ نے سرگوشی میں پوچھا۔ وہ ایک بڑے پتھر کے سائے میں چھپے ہوئے تھے، اور ان کے حواس ہر آنے جانے والی آواز پر مرکوز تھے۔ “کال یار خان کو ‘K. A. L.’ کا کوڈ استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ کبھی اتنا نفاست پسند نہیں رہا۔ اس کا طریقہ تو تباہی اور خوف ہے۔”

سالار غازی نے اپنے شکاری جیکٹ کے اندر سے ایک چھوٹا سا آلہ نکالا۔ یہ وہی حساس ریسیور تھا جو ڈاکٹر سلیم نے اُسے ہنگامی صورتحال کے لیے دیا تھا۔

“یہ اس کا نیا ڈھونگ ہے۔” سالار نے پُراعتماد لہجے میں جواب دیا۔ “وہ جانتا ہے کہ ہمارے دور میں ہر کوئی ‘کال یار خان’ کو ڈھونڈے گا، مگر کوئی اس کے ‘نئے منصوبے’ کو نہیں سمجھے گا۔ اس نے اپنے پرانے نام کو ایک نئے، سائنسی آپریشن کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ کوڈ اُس کی پہچان نہیں، بلکہ اُس کے ٹھکانے کا پتہ ہے۔”

سالار نے چرواہے کے نقشے کو قریب کی چند چٹانوں سے ملایا۔ چرواہے نے بہت سادہ مگر انتہائی درست طریقے سے ان چٹانوں کی مخصوص شکلوں کو ڈرا کیا تھا جو ایک زیرِ زمین سرنگ کا ڈھکنا چھپائے ہوئے تھیں۔

“یہاں کوئی زہریلی ہوا نہیں آ رہی۔” کاشف نے سُونگھ کر کہا۔

“کیونکہ وہ زہر صرف اوپر والے علاقے کو بے حس کرنے کے لیے ہے، تاکہ لوگ بغیر مزاحمت کے پکڑے جا سکیں۔” سالار نے احتیاطاً ڈاکٹر سلیم کی دی ہوئی زہر شکن گولی نگل لی اور کاشف کو بھی دی۔ “اب ہم اُن کے دائرۂ کار میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہمیں خاموشی سے آگے بڑھنا ہو گا۔”

انہوں نے اپنی بندوقیں اور تیر کمان سنبھالے اور جھک کر اُس مقام کی طرف بڑھنا شروع کیا جہاں تین بڑی چٹانیں ایک مثلث کی شکل بنا رہی تھیں۔ جنگل کی تاریکی میں، سالار کی آنکھیں کسی بلی کی آنکھوں کی طرح چمک رہی تھیں۔ اس کی مضبوط گرفت رائفل پر تھی، مگر اس کا دماغ اس نئے دشمن کی چالوں کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا جو ٹیکنالوجی کو اپنے وحشی عزائم کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

جب وہ چٹانوں کے قریب پہنچے تو سالار نے مٹی میں ہلکی سی نمی محسوس کی۔ اُس نے زمین پر پڑے سوکھے پتوں کو آہستہ سے ہٹایا۔ نیچے پتھروں کے ڈھیر میں ایک بہت ہی باریک، فولادی کنارے کا نشان تھا۔ اس نشان سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ پتھر قدرتی نہیں، بلکہ ایک مصنوعی ڈھکنا ہیں، جو باہر سے بالکل عام پتھروں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

سالار نے اپنا ریسیور چٹان پر لگایا۔ آلہ فوراً ہلکی سی سگنلنگ آواز دینے لگا۔

“یہ رہا، کاشف۔” “یہ ایک انفراریڈ سگنل دے رہا ہے۔ ٹاور صرف فریب تھا۔ اصل آپریشن یہاں نیچے چل رہا ہے۔ یہ چرواہے کی آخری نشانی تھی جو اُس نے اپنی حماقت کا پردہ چاک کرنے کے لیے چھوڑی تھی۔ اُس نے یہ سوچا ہو گا کہ کرسٹل اُسے بچا لے گا، مگر وہ ایک ٹریکنگ ڈیوائس نکلا، جس نے اُسے کال یار خان کے حوالے کر دیا۔”

کاشف نے اپنے تیر کمان پر ایک خاص قسم کا نوکیلا تیر چڑھایا۔

“یہ نیچے کتنے لوگ ہو سکتے ہیں؟”

“بہت نہیں۔” سالار نے احتیاط سے ڈھکنے کا کنارہ ٹٹولا۔ “کال یار کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ کم سے کم لوگوں کو اعتماد میں لیتا ہے۔ اس آپریشن میں ‘ڈارک فاریسٹ کنزرویشن’ کے لوگ بھی شامل ہوں گے، جو سائنسی کام سنبھال رہے ہوں گے، اور چند اس کے اپنے گارڈز۔”

ابھی وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ اچانک جھیل کے پاس نصب الیکٹرانک ٹاور سے ایک مدھم روشنی نکلی۔ وہ روشنی تیزی سے ان کی طرف آئی، مگر صرف ایک سیکنڈ کے لیے۔ ٹاور نے اپنے آس پاس کے ماحول کو تیزی سے اسکین کیا اور واپس خاموشی میں ڈوب گیا۔

“وہ ہمیں اسکین کر رہے تھے۔” سالار نے رائفل کی نال زمین پر ٹیک دی اور خود کو مزید چٹان کے پیچھے کر لیا۔

“وقت پورا ہو رہا ہے۔ 1:00 AM کے قریب یہ ‘مال’ کو وصول کرنے والے ہوں گے۔ ہم اس دروازے کو کیسے کھولیں گے؟”

سالار نے اپنے خنجر کو چٹان کے کنارے میں داخل کیا۔ وہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ چٹان کو معمولی سا بھی نقصان نہ پہنچائے۔ چند سیکنڈ کے لیے اس نے ایک مخصوص دباؤ ڈالا۔

“چرواہے نے کوڈ نہیں دیا تھا، اس نے صرف ‘K. A. L.’ لکھ کر جگہ کا تعین کیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سسٹم محض ایک مخصوص ترتیب میں دباؤ سے کھلتا ہو۔”

اچانک ایک ہلکی سی “کلک” کی آواز آئی۔ وہ فولادی ڈھکنا، جو کئی من پتھروں کا وزن برداشت کر رہا تھا، خود بخود بائیں طرف گھومنے لگا۔ ایک دم سے ٹھنڈی، مرطوب ہوا کا ایک جھونکا اندر سے باہر نکلا، جس میں پرانی، گندی مٹی اور کسی نامعلوم مشینری کی بو شامل تھی۔

اندر ایک فولادی سیڑھی تیزی سے نیچے اندھیرے میں جا رہی تھی۔ سالار نے نیچے دیکھا، اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ وہ سوئی کے سوراخ کو بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔

“میں پہلے جاتا ہوں۔” سالار نے کاشف سے کہا۔

” No, Salar, we go together. Always. ” کاشف بلوچ کا لہجہ سخت اور بے لچک تھا۔

سالار مسکرایا۔ یہی وہ دوستی تھی جس پر اُسے ہمیشہ فخر رہا۔

“اچھی بات ہے۔ اگر میں رُک جاؤں، تو تم مجھے سنبھالنا۔ مگر یاد رکھنا، یہ ہماری طرح کا جنگل نہیں ہے— یہ کال یار کی نئی دنیا ہے۔”

وہ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے فولادی سیڑھی کے ذریعے گہری تاریکی میں اُترنا شروع ہو گئے۔ اوپر، جھیل کے کنارے، الیکٹرانک ٹاور کی نیلی روشنی اب مزید تیز ہونے لگی تھی، اور گھڑی کی سوئی 1:00 AM کو چھونے ہی والی تھی۔ اس لمحے سے ایک نئی قسم کی مہم شروع ہو رہی تھی، جہاں شکاری نے اپنے قدم زمین سے ہٹا کر ایک زیرِ زمین دنیا میں رکھ دیے تھے، جہاں سرخ جھیل کا فریب اپنی انتہا کو پہنچنے والا تھا۔

باب 5: زیرِ زمین وحشت کدہ

فولادی سیڑھی تیزی سے سالار غازی اور کاشف بلوچ کو زیرِ زمین دنیا میں لے جا رہی تھی۔ جیسے ہی وہ نیچے اُترے، فضا میں موجود خاموشی ایک جھٹکے سے ٹوٹ گئی۔ یہاں تاریکی ضرور تھی، مگر ساتھ ہی مشینری کی ہلکی گونج، اور اُس سرخ مادے کی تیز، کیمیائی بو بھی تھی جو اوپر وادی میں پھیلا ہوا تھا۔

سالار نے اپنا فوجی ٹارچ نکالا اور روشنی کو چاروں طرف پھیلا دیا۔ وہ ایک چوڑا، زیرِ زمین ٹنل تھا، جسے پتھر اور لوہے کی مدد سے مضبوط کیا گیا تھا۔ ٹنل کے اطراف میں جدید برقی تاریں اور پائپ گزر رہے تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ یہ کسی پرانے ڈھانچے کو جدید سائنسی تجربہ گاہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔

“یہ تو کوئی خفیہ فوجی اڈہ لگ رہا ہے،” کاشف نے سرگوشی کی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔

“کال یار نے ہمیشہ وسائل استعمال کرنے کا فن جانا ہے۔” سالار نے اپنا قدم آگے بڑھایا۔ “یہاں پرانی اور نئی ٹیکنالوجی کا عجیب امتزاج ہے۔ یعنی کوئی ایسا ہے جو کال یار کو پیسے اور ٹیکنالوجی دونوں فراہم کر رہا ہے۔ ‘ڈارک فاریسٹ کنزرویشن’ صرف ایک نام نہیں، یہ ایک طاقتور بین الاقوامی تنظیم لگتی ہے۔”

وہ دونوں احتیاط سے سرنگ میں آگے بڑھ رہے تھے۔ سالار نے ٹارچ کی روشنی کو محدود رکھا تاکہ وہ خود کو ظاہر نہ کریں۔ ٹنل کئی موڑوں اور چھوٹے داخلی راستوں پر مشتمل تھا، جو ایک بھول بھلییا کا تاثر دے رہا تھا۔

اچانک، سالار رُک گیا۔ اس نے اپنی ناک کو ہوا میں بلند کیا۔

“یہاں پر انسانی موجودگی ہے۔”

کاشف نے اپنی انگلی تیر کمان کی ڈوری پر مضبوط کر لی۔ “کتنے لوگ؟”

“دو۔ وہ شاید اس جگہ کی نگرانی کر رہے ہیں اور بالکل اس موڑ کے پیچھے ہیں۔ اُن کے قدموں کی آواز نہیں آ رہی، یعنی وہ خاموشی سے چلنے والے بوٹ پہنے ہوئے ہیں۔”

سالار نے کاشف کی طرف دیکھا اور سرگوشی میں کہا، “ان پر قابو پانا ہو گا، کاشف۔ زندہ۔ ہمیں معلومات چاہیے۔”

سالار نے اپنی رائفل کو ایک طرف رکھا اور اپنا مشہور فولادی خنجر نکالا۔ وہ ٹنل کی دیوار کے ساتھ بالکل چپک گیا، جس طرح کوئی سایہ دیوار کے ساتھ چپک جاتا ہے۔ اس کے قدموں کی آواز تقریباً غائب تھی۔

جیسے ہی وہ دونوں گارڈز کونے سے باہر نکلے— وہ دونوں کال یار کے مخصوص، گہرے سرمئی یونیفارم میں تھے— سالار نے بجلی کی سی تیزی سے حرکت کی۔

پہلا گارڈ اپنے آپ کو سنبھال بھی نہ پایا کہ سالار نے اس کے سر پر رائفل کا بٹ مارا اور وہ خاموشی سے ڈھیر ہو گیا۔ دوسرا گارڈ الرٹ ہوا اور اپنی مشین پِسٹل نکالنے کی کوشش کی، مگر کاشف بلوچ نے اپنی بجلی کی سی تیزی سے اُس کے چہرے پر تیر کمان کے دستے سے ضرب لگائی۔ گارڈ نے ہلکی سی کراہ کے ساتھ اپنا ہتھیار گرا دیا اور بے ہوش ہو گیا۔

“صاف ستھرا کام۔” سالار نے ہتھیاروں کو اٹھاتے ہوئے کہا۔ ” This is Kalyar’s signature army style, but their gear is upgraded. “

سالار نے بے ہوش گارڈ کے یونیفارم کا جائزہ لیا۔ اس کی قمیص پر لال رنگ کا ایک چھوٹا سا کرسٹل لگا ہوا تھا، بالکل ویسا ہی جو اس نے کبوتر کے پاؤں میں دیکھا تھا۔

“یہ کرسٹل ان کی پہچان بھی ہے اور ان کا مواصلاتی آلہ بھی۔”

انہوں نے مزید آگے بڑھنا شروع کیا اور چند مزید موڑوں کے بعد، وہ ٹنل کا سب سے بڑا حصہ تھا— ایک وسیع ہال جو اس پہاڑی کے اندر کھودا گیا تھا۔ ہال کے بیچوں بیچ، کئی سائنسی آلات نصب تھے، اور ہال کی فضا سرخ جھیل کے فریب کی اصل حقیقت بیان کر رہی تھی۔

ہال کے ایک کنارے پر، سالار نے دیکھا کہ غائب ہونے والے تینوں چرواہے ایک گہرے شیشے کے کیبن میں پڑے تھے، جو بے ہوشی کی حالت میں تھے اور ان کے جسموں سے پتلی تاریں جوڑی گئی تھیں۔ ان کے آس پاس، ڈاکٹر سلیم کے بتائے ہوئے نامیاتی زہر کے بڑے مرتبان رکھے تھے، اور ان مرتبانوں کو ایک پیچیدہ مشین سے جوڑا گیا تھا۔

“وہ چرواہوں کو استعمال کر رہے ہیں!” کاشف کی آواز میں غصہ اور کراہیت تھی۔

“ہاں۔” سالار نے رائفل مضبوطی سے تھام لی۔ “میں سمجھ گیا۔ کال یار صرف انسانوں کا شکار نہیں کر رہا— وہ ان کا استحصال کر رہا ہے۔”

ہال کے بیچوں بیچ، ایک بڑا پینل تھا، جہاں کئی سائنسی چارٹس آویزاں تھے۔ ان چارٹس پر انسانوں اور جنگلی حیات کے اعصابی نظام کے تجزیے کا ڈیٹا چسپاں تھا۔ یہ سب کچھ ‘SUBJECT-01, 02, 03’ کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔

ان سب کے بیچوں بیچ، ہال کے مرکز میں، ایک اونچے ڈائس پر ایک شخص کھڑا تھا— وہ شخص جو گارڈز کے سرمئی یونیفارم سے مختلف، سفید اور صاف ستھرے اوورآل میں ملبوس تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فولادی ڈنڈا تھا، اور اس کے چہرے پر ایک نفیس، بے رحمانہ مسکراہٹ تھی۔

“آہ… سالار غازی! میں جانتا تھا کہ تم میرے بلانے پر ضرور آؤ گے۔”

یہ کال یار خان نہیں تھا۔ یہ کوئی نیا کردار تھا، زیادہ خطرناک، زیادہ علمی۔ یہ بظاہر اس آپریشن کا ماسٹر مائنڈ لگ رہا تھا۔

“تم کون ہو؟” سالار نے اپنا خنجر نیچے نہیں کیا، مگر اس کی نگاہوں میں حیرت کی ایک جھلک تھی۔

سفید لباس والے آدمی نے مسکرا کر ایک سائنسی بوتل اٹھائی، جس میں وہی گاڑھا سرخ مادہ چمک رہا تھا۔

“میرا نام ڈاکٹر درگال ہے۔ اور میں کال یار کا پرانا دوست ہوں۔” “یہ لال رنگ، شکاری۔ یہ سرخ جھیل کا فریب نہیں ہے، یہ جھیل کی پیداوار ہے۔ میں نے اس وادی کی جھیلوں کے مائکرو بیکٹیریا کو ایک خاص طریقے سے تیار کیا ہے، جو آپ کے جنگل کے سائنسی اصولوں کو توڑتا ہے۔”

اس نے اپنی چھڑی چرواہوں کے کیبن کی طرف گھمائی۔

“یہ چرواہے، Subject-01 اور اس کے ساتھی، کوئی معمولی شکار نہیں ہیں۔” “یہ ہمارے بائیو کیمیکل ہتھیار کے لیے خام مال ہیں۔ میرا پروجیکٹ ‘بے حسی کی تیاری’ ہے۔ ایک ایسی طاقت جو بڑے پیمانے پر انسانوں کو بغیر کسی نقصان کے، بغیر مزاحمت کے، ہمارے کنٹرول میں لے آئے۔ اور اس کا پہلا تجربہ سرخ جھیل کی وادی پر ہو رہا ہے۔”

ڈاکٹر درگال نے ڈائس پر لگے ایک بڑے سوئچ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

“رات کے ایک بجے، ہم اس ہتھیار کا پہلا بڑے پیمانے کا تجربہ شروع کر رہے ہیں۔” “اور تم دونوں، شکاری… تم یہاں ہمارے آخری Subject ہو گے!”

ابھی ڈاکٹر درگال نے سوئچ آن نہیں کیا تھا کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی، جو ٹنل کی دیواروں سے ٹکرا گئی۔

باہر، اوپر کی زمین پر، کوئی طاقتور چیز ٹنل کے داخلی راستے کو توڑ کر اندر آنے کی کوشش کر رہی تھی۔

“کیا ہوا؟” ڈاکٹر درگال نے گھبرا کر اپنے گارڈز کو آواز دی۔

“وہ ہماری دوست ہے۔” سالار کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ آئی۔

” Sophya always makes an entrance! ” صوفیہ خان نے یقیناً نقشے کی تفتیش کی ہو گی اور وہ ڈاکٹر سلیم کی مدد سے یہاں پہنچ چکی تھی۔ اس اچانک مداخلت سے ڈاکٹر درگال کا دھیان بٹ گیا۔

یہی وہ لمحہ تھا جس کا سالار غازی کو انتظار تھا۔

“کاشف! چرواہوں کو باہر نکالو! میں اس ڈاکٹر کو اُس کے سائنسی کھیل سے نکالتا ہوں!”

سالار کی آنکھوں میں آگ تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ صرف کال یار سے لڑائی نہیں، یہ فطرت کے خلاف ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے خلاف ایک جنگ تھی۔

باب 6: روشنی کی بازی

صوفیہ خان کی مداخلت نے زیرِ زمین وحشت کدے میں ایک لمحاتی طوفان برپا کر دیا۔ ٹنل کا راستہ جہاں سے وہ داخل ہوئے تھے، ایک زوردار دھماکے سے لرز اُٹھا، جس سے اوپر سے مٹی اور پتھر گرنے لگے۔ ڈاکٹر درگال، جو اپنی کامیابی کے قریب تھا، اس اچانک صورتحال پر گھبرا گیا۔ اس کا نفیس چہرہ خوف اور غصے سے بھر گیا۔

“یہ کیا ہے!؟ گارڈز! چیک کرو! فوراً باہر نکلو اور حملہ آور کو خاموش کر دو!”

اس کے چیخنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، سالار غازی نے کاشف کی طرف دیکھا۔ کاشف فوراً سمجھ گیا اور وہ اپنے تیر کمان کے ساتھ چرواہوں کے کیبن کی طرف لپکا۔

سالار نے اپنی رائفل کا رُخ براہِ راست ڈاکٹر درگال کی طرف نہیں کیا، بلکہ اُس کے قریب نصب بڑے کنٹرول پینل پر کیا، جو تمام مشینوں کو توانائی فراہم کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ درگال کا اصل ہتھیار مشینیں ہیں، اور انہیں مفلوج کرنا پہلی ترجیح ہے۔

ڈاکٹر درگال نے، جو خود کو سائنسی معاملات کا ماہر سمجھتا تھا، اس میدانِ جنگ کے اصولوں سے ناواقف تھا۔ وہ خوف کے عالم میں ڈائس کے نیچے چھپا اور ایک چھوٹا سا ٹرانسمیٹر اُٹھا کر اپنے گارڈز کو پیغام بھیجنے کی کوشش کرنے لگا۔

“میں تمہیں گولی نہیں ماروں گا، ڈاکٹر۔” سالار کی آواز ہال کی گونج میں پُراسرار حد تک گہری تھی۔ “تمہارا شکار تمہاری ٹیکنالوجی ہے۔ اور میں اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دوں گا!”

سالار نے بجلی کی سی تیزی سے کنٹرول پینل پر ایک نشانہ لگایا۔ بوم!

گولی نے پینل کے مرکزی نظام کو ٹکر ماری۔ ایک تیز چیخ کے ساتھ، پورا ہال جھلملا گیا۔ سرخ کرسٹل سے چلنے والی نیلی روشنیاں ایک دم سے مدھم پڑ گئیں، اور پھر گہری نارنجی رنگت میں تبدیل ہو گئیں۔ مشینوں سے عجیب و غریب سائیں سائیں کی آوازیں آنے لگیں، جیسے کوئی زندگی اُن سے کھینچ رہا ہو۔

ادھر کاشف بلوچ، چرواہوں کے شیشے کے کیبن کے پاس پہنچ چکا تھا۔ تاریں ان کے جسم سے نازک مگر مضبوطی سے جڑی ہوئی تھیں، اور کاشف ان کے اعصابی نظام کو نقصان پہنچائے بغیر انہیں نہیں کاٹ سکتا تھا۔

“انہیں کھولنے کا کوئی طریقہ ہو گا!” کاشف نے خود سے کہا۔

اُس نے کیبن کے قریب موجود ایک چھوٹے مانیٹر پر نظر ڈالی۔ مانیٹر پر اُردو میں ایک چھوٹی سی وارننگ لکھی تھی: ‘بیک اپ پاور: 30 سیکنڈ’۔

کاشف نے فوراً اپنے شکاری دماغ کا استعمال کیا۔ اس نے دیکھا کہ تاروں کے سرے کیبن میں داخل ہونے سے پہلے ایک چھوٹے کنیکٹر سے جڑے ہوئے تھے۔ اس نے ایک تیر نکالا، مگر تیر کا نشانہ کنیکٹر پر نہیں، بلکہ اُس جگہ پر تھا جہاں کنیکٹر کی تاریں شیشے کے اندر داخل ہو رہی تھیں۔

شُوں!

تیر نے اپنے اگلے حصے سے کنیکٹر کے اندر موجود حساس سوئچ کو چھوا۔ سوئچ ہٹتے ہی، ایک دھیمی ‘ٹھک’ کی آواز آئی اور کیبن کا دروازہ کھل گیا۔ تینوں چرواہے ایک ہی لمحے میں آزاد ہوئے اور فرش پر گرے۔ وہ گہری نیند کی حالت میں تھے، مگر اب ان کے جسم سے خطرناک تاریں نکل چکی تھیں۔

کاشف نے ان سب کو ایک جگہ اکٹھا کیا، اور فوراً سالار کی مدد کے لیے واپس پلٹا۔

ابھی سالار اور ڈاکٹر درگال کے بیچ ہال کا میدان گرم تھا۔ ڈاکٹر درگال نے اپنا چھوٹا ٹرانسمیٹر پھینکا اور سالار پر ایک تیز روشنی کا ہتھیار پھینکا۔ یہ کوئی گولی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا سائنسی شعاعی ہتھیار تھا جو آنکھوں کو چند لمحوں کے لیے اندھا کر سکتا تھا۔

سالار نے فوراً اپنا سر جھکایا۔ روشنی اس کے سر کے اوپر سے گزر کر دیوار سے ٹکرائی، اور وہاں پتھر کا ایک بڑا ٹکڑا فوراً پگھل گیا۔

“شکاری! یہ تمہارے جنگل کی بندوق نہیں ہے!” ڈاکٹر درگال نے فاتحانہ انداز میں چیخا۔

“تم ٹھیک کہتے ہو، ڈاکٹر۔” سالار نے جواب دیا۔ “یہ میرے جنگل کی بندوق نہیں، یہ تمہارے گھر کو توڑنے کا آلہ ہے۔”

سالار کو معلوم تھا کہ اس روشنی والے ہتھیار کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ وہ خود ٹارگٹ نہیں تھا— اس کا ہدف انرجی سورس تھا۔ سالار نے فوری طور پر نیچے فرش پر سے ایک ٹوٹا ہوا تار اٹھایا، جو شاید دھماکے سے گرا تھا۔ یہ ایک موٹا تار تھا، جو ہال کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک توانائی پہنچا رہا تھا۔

تیزی سے، سالار نے تار کے کھلے سرے کو ہال کے سب سے بڑے نامیاتی زہر کے مرتبان کے قریب رکھ دیا۔ اس مرتبان میں وہ زہر چمک رہا تھا جو سرخ جھیل کو فریب دے رہا تھا۔

“تمہاری ٹیکنالوجی کو تمہارے ہی زہر سے ختم کروں گا، ڈاکٹر!”

جیسے ہی تار کا سرا زہر کے مرتبان کی فولادی باڈی سے ٹکرایا، بجلی کا ایک زوردار جھٹکا لگا۔ چونکہ زہر خود ایک نامیاتی مواد تھا جو حرارت جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، اس لیے بجلی کا جھٹکا پورے مرکب میں پھیل گیا۔ مرتبان نے ایک خوفناک سرخ روشنی خارج کی اور فوراً پگھلنے لگا۔

ڈاکٹر درگال کو جب اپنی لیبارٹری کا سب سے قیمتی اثاثہ پگھلتا نظر آیا تو وہ وحشت زدہ ہو گیا۔

“نہیں! تم نے میرا پروجیکٹ تباہ کر دیا!”

درگال نے دیوانوں کی طرح سالار کی طرف بھاگا۔ مگر سالار نے بڑے سکون سے اُس کے پیٹ میں رائفل کے دستے کا الٹا حصہ مارا۔ ڈاکٹر درگال کا جسم دوہرا ہو گیا، اور وہ درد کی شدت سے وہیں گر گیا۔ اس کا سفید کوٹ اب تاریکی میں مٹی اور پسینے سے آلودہ تھا۔

“تم نے فطرت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی، ڈاکٹر۔” سالار نے رائفل کو واپس کندھے پر ڈالا۔ “اور قدرت کا حساب ہمیشہ فوری ہوتا ہے۔”

اس وقت کاشف بلوچ اور چرواہے بھی ہال کے ایک محفوظ کونے میں پہنچ چکے تھے۔ مگر ان کی آزادی کی خوشی دیرپا نہ رہ سکی۔

اوپر، صوفیہ خان کی مداخلت اور نیچے سالار کی تباہی سے، زیرِ زمین اڈہ تیزی سے غیر مستحکم ہو رہا تھا۔ چھت سے بڑے بڑے پتھر گرنے لگے اور زمین پر دراڑیں پڑ گئیں۔

“ہمیں یہاں سے فوراً نکلنا ہو گا!” کاشف نے چلایا۔ “یہ سب کچھ تباہ ہونے والا ہے!”

سالار نے آخری بار ڈاکٹر درگال کی طرف دیکھا، جو فرش پر پڑا اپنے ناکام پروجیکٹ کے ملبے کو گھور رہا تھا۔

“تمہارا کھیل ختم، ڈاکٹر۔ اب تمہیں حکام کے حوالے کیا جائے گا۔”

مگر جیسے ہی سالار نے درگال کو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا، ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی جو اس دفعہ اندر سے تھی۔ ایک بڑا، سیاہ سائے والا آدمی، گہرے کالے یونیفارم میں ملبوس، ہال کے ایک چھوٹے سے سوراخ سے نکلا۔

اس کے ہاتھ میں کال یار خان کے مخصوص انداز کی فولادی سلاخ تھی، اور اس کی آنکھوں میں وحشیانہ غصہ تھا۔

“سالار غازی!” اس نے گرج کر کہا۔ “تم نے میرے باس کا پروجیکٹ برباد کیا! اب تمہیں اس کی قیمت چکانی ہو گی!”

یہ کال یار کا نائب تھا— وہ آخری خطرہ جو اس وقت تک چھپا ہوا تھا، جو اب اس وحشت کدے کو منہدم ہونے سے پہلے تباہ کرنے کے لیے تیار تھا۔

باب 7: فولاد اور فطرت

زیرِ زمین وحشت کدہ اب مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ چھت سے پتھروں کی گڑگڑاہٹ اور سرنگوں کی دیواروں میں پڑتی دراڑوں کی آوازیں ماحول کو قیامت خیز بنا رہی تھیں۔ سالار غازی کے سامنے کال یار خان کا نائب— ایک بڑا، سیاہ سائے والا آدمی— کھڑا تھا، جس کے ہاتھ میں خوفناک فولادی سلاخ تھی اور آنکھوں میں وحشیانہ انتقام کی آگ۔

“تم نے وہ کیا جو تم سے پہلے کوئی نہیں کر سکا، شکاری۔” نائب کی گرجدار آواز گونجی۔ “تم نے باس کے نئے دور کا خواب توڑ دیا! اب تم زندہ باہر نہیں جاؤ گے!”

نائب، جو طاقت میں کال یار خان سے کسی طرح کم نہ تھا، بجلی کی سی تیزی سے سالار کی طرف لپکا۔ اس کی فولادی سلاخ ہوا میں سیٹی بجاتی ہوئی سالار کے سر کی طرف بڑھی۔

سالار غازی جانتا تھا کہ یہ عام درندہ نہیں، بلکہ ایک مشینی درندہ ہے۔ اس کی تربیت صرف طاقت کے استعمال کی تھی، نہ کہ شکاری حکمت کی۔ سالار نے ایک انچ جھک کر وار سے خود کو بچایا اور اپنے آپ کو سیدھا کھڑا کر کے ایک زوردار کک نائب کی پنڈلی پر ماری۔

نائب، جس کا جسم فولاد کی طرح سخت تھا، صرف تھوڑا سا لڑکھڑایا۔ اس نے مزید غصے سے سلاخ کو گھمایا اور اس بار سالار کے پیٹ کا نشانہ لیا۔

اسی اثناء میں، کاشف بلوچ نے بے ہوش چرواہوں اور ڈاکٹر درگال کو سنبھالا۔

“سالار! اب بس کرو! یہ جگہ اب دو منٹ بھی باقی نہیں رہے گی!” کاشف نے زور سے چلایا۔

“میں انہیں نہیں چھوڑ سکتا، کاشف! تمہیں جانا ہو گا!”

” No! We move together! ” کاشف نے اپنی ساری طاقت سے چرواہوں کو زیرِ زمین راستے کی طرف دھکیلنا شروع کیا جہاں سے وہ آئے تھے۔

سالار نے نائب کو ایک نظر دیکھا۔ وہ سمجھ گیا کہ براہِ راست تصادم سے صرف وقت ضائع ہو گا، جو ان کے پاس نہیں تھا۔ اس نے فوراً اپنی رائفل، ہالینڈ اینڈ ہالینڈ، کو تھاما۔

“جنگل کے اصول… تمہیں یاد رکھنے چاہئیں، نائب۔” سالار نے مسکرا کر کہا۔ “طاقت کے ساتھ ہوشیاری بھی ضروری ہے۔”

اس بار جب نائب نے سلاخ سے حملہ کیا، سالار نے پیچھے ہٹنے کے بجائے، خود کو زمین پر جھکایا اور تیزی سے سلاخ کو رائفل کی نال سے تھام لیا۔ رائفل کی مضبوطی نے سلاخ کو صرف ایک لمحے کے لیے روک دیا، اور اسی لمحے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، سالار نے اپنے خنجر کو ہوا میں لہرایا۔

خنجر کا نشانہ براہِ راست نائب کے ہاتھ پر نہیں، بلکہ اُس کی گردن پر موجود کالے یونیفارم کی فولادی کالم پر تھا۔ سالار نے ایسی مہارت سے خنجر مارا کہ وہ کالم، جو شاید مواصلاتی آلہ تھا، ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔

نائب کو ایک جھٹکا لگا، جیسے اس کا سگنل منقطع ہو گیا ہو۔ اس کی آنکھوں میں وحشت کی ایک جھلک نمودار ہوئی۔ یہ ایک لمحاتی وار تھا، مگر سالار نے اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا۔

سالار نے تیزی سے رائفل کو کھینچا، جس سے نائب کا توازن بگڑ گیا۔ جیسے ہی نائب زمین پر گرنے لگا، سالار نے اُس کے مضبوط، جکڑے ہوئے جسم کو پیچھے کی طرف دھکا دیا۔ وہ گرا تو براہِ راست اُس زہریلے مرتبان کے بقیہ ملبے پر، جو ابھی تک کیمیائی مادے سے چمک رہا تھا۔

زہر کا رابطہ فوراً نائب کے فولادی بوٹ اور یونیفارم سے ہوا۔ اگرچہ یہ مادہ اب کمزور ہو چکا تھا، مگر یہ کسی بھی انسان کو مفلوج کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔

“آہ!” نائب نے ایک کراہ بھری۔ اس کا جسم ایک دم سے اکڑ گیا، اور وہ بظاہر بے حس ہو کر وہیں ڈھیر ہو گیا۔

سالار غازی نے ایک گہرا سانس لیا۔ وقت ضائع کرنے کے لیے ایک سیکنڈ بھی نہیں تھا۔ وہ پلٹا اور کاشف بلوچ کی طرف دوڑا، جو چرواہوں کو کھینچتا ہوا ٹنل کے داخلی راستے کی طرف بڑھ چکا تھا۔

“آؤ، سالار! یہاں سے نکلنا ہو گا!” کاشف نے ایک چرواہے کو اپنے کندھے پر لادا ہوا تھا۔

وہ دونوں تیزی سے اس فولادی سیڑھی کی طرف بڑھے جہاں سے وہ نیچے آئے تھے۔ مگر جیسے ہی سالار کا آخری قدم سیڑھی پر پڑا، اوپر کی چٹان سے ایک بڑا پتھر ٹوٹا اور سرنگ کے داخلی راستے کو بند کر دیا۔

باہر، صوفیہ خان نے ایک اور دھماکہ کر کے راستہ کھولنے کی کوشش کی، مگر اس بار چٹان زیادہ سخت تھی۔

“ہم پھنس گئے، سالار!” کاشف کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔

“نہیں، کاشف۔ ہم پھنسے نہیں۔” سالار کی نگاہیں اُس چھوٹے سے سوراخ پر تھیں جہاں سے نائب نکلا تھا۔ “یہ کال یار خان کا ذاتی راستہ تھا۔ اور اگر وہ یہاں سے نکل سکتا ہے، تو ہم بھی نکل سکتے ہیں۔”

وہ اس چھوٹے، اندھیرے سوراخ کی طرف لپکے۔ یہ صرف ایک شخص کے گزرنے کی جگہ تھی، اور یہ بھی غیر مستحکم ہو چکی تھی۔ سالار نے رائفل سے ہلکے سے اس سوراخ کے کناروں کو سہارا دیا اور کاشف کو چرواہوں کو آگے دھکیلنے کا اشارہ کیا۔

ایک ایک کر کے، وہ سب اس تنگ گلی سے گزرے۔ سب سے آخر میں سالار غازی تھا۔ جیسے ہی وہ سوراخ سے باہر نکلا، اس نے محسوس کیا کہ وہ اب ایک اور سرنگ میں داخل ہو چکے ہیں— مگر یہ سرنگ پرانی اور قدرتی تھی، جو کال یار کے اڈے سے بہت پہلے کی تھی۔

باہر، اوپر کی زمین پر، ایک تازہ دھماکے کی آواز آئی، اور زیرِ زمین وحشت کدہ کی چھت مکمل طور پر منہدم ہو گئی۔ سرخ جھیل کا فریب، اپنے اندر کے تمام سائنسی ساز و سامان اور ڈاکٹر درگال و نائب سمیت، زمین کی گہرائیوں میں دفن ہو گیا۔

وہ ایک گہرے جنگل میں تھے، جہاں کی ہوا تازہ اور ٹھنڈی تھی۔ صوفیہ خان، جس نے ابھی تک اوپر راستہ کھولنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی تھی، دوڑتی ہوئی ان کے پاس آئی۔

“سالار! کاشف! تم لوگ ٹھیک ہو؟” اس کی آنکھوں میں فکر اور تشویش تھی۔

“ہم ٹھیک ہیں، صوفیہ۔” سالار نے سانسیں بحال کیں۔ “اور فطرت نے اپنے میزبانوں کا حساب برابر کر دیا ہے۔ کال یار کا نیا خواب اور اس کا سائنسی مددگار… دونوں مٹی میں مل گئے۔”

وہ چرواہوں اور بے ہوش ڈاکٹر درگال کو لے کر وہاں سے نکلے۔ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی تھی، مگر سرخ جھیل کا فریب کا راز ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا تھا۔

باب 8: خاموش گواہیاں

زیرِ زمین وحشت کدے کے منہدم ہونے کے بعد، جنگل نے ایک بار پھر گہرا سکوت اختیار کر لیا تھا۔ مگر یہ وہ پرفریب خاموشی نہیں تھی جو پہلے پھیلی ہوئی تھی۔ اب یہ فطرت کا سکون تھا، جیسے اس نے اپنے زخموں کو بھرنا شروع کر دیا ہو۔ سالار غازی، کاشف بلوچ اور صوفیہ خان تیزی سے چرواہوں اور بے ہوش ڈاکٹر درگال کو لے کر اُس جگہ کی طرف واپس آئے جہاں اُنہوں نے اپنی جیپ چھوڑی تھی۔

کاشف نے اپنے مضبوط کندھوں پر دو چرواہوں کو لادا ہوا تھا، اور صوفیہ، جو تھکی ہوئی مگر پُرازم تھی، ڈاکٹر درگال کو سنبھالے ہوئے تھی۔ سالار غازی اپنے ساز و سامان کے ساتھ سب سے آگے چل رہا تھا، اُس کی آنکھیں جنگل کی گہرائی میں آنے والے کسی بھی ممکنہ خطرے کو بھانپ رہی تھیں۔

جیپ تک کا سفر کئی گھنٹوں پر محیط رہا۔ صبح کی پہلی کرنیں جب پہاڑوں پر پڑیں، تو وہ سب تھکے ہارے ڈاکٹر سلیم کی تجربہ گاہ پہنچے۔

ڈاکٹر سلیم نے انہیں دیکھتے ہی بھاگ کر مدد کی، اُن کے چہرے پر تشویش اور خوشی کا ایک عجب امتزاج تھا۔

“تم لوگ محفوظ ہو!” ڈاکٹر سلیم نے ایک لمبی سانس لی۔ “میں نے پوری رات ریڈیو پر تمہارا انتظار کیا اور صبح ہوتے ہی ریسکیو ٹیم کے لیے کال کرنے والا تھا۔ تم نے وہ سب کچھ تباہ کر دیا؟”

“کچھ چیزیں صرف تباہی سے ہی قابو میں آتی ہیں، ڈاکٹر۔” سالار نے اپنا بیگ اتارتے ہوئے کہا۔ “یہ رہے تمہارے Subjects۔ ہمیں ان کی ہوش میں آنے کی رفتار معلوم کرنی ہے۔ اور یہ ہے تمہارا نیا مریض… ڈاکٹر درگال۔ اسے سنبھال کر رکھنا ہے۔ یہ ہمارا سب سے بڑا گواہ ہے۔”

ڈاکٹر سلیم نے فوراً چرواہوں کا معائنہ شروع کر دیا۔ انہوں نے خون کے نمونے لیے اور انہیں ایک جدید مشین میں تجزیہ کے لیے ڈالا۔ ڈاکٹر درگال کو ایک سخت فولادی میز پر لٹایا گیا، جو مکمل طور پر بے حس تھا، مگر اُس کے چہرے پر غرور اور شکست کا ایک عجیب ملاپ تھا۔

“شکر ہے، سالار۔ تم نے انہیں وقت پر نکال لیا۔” ڈاکٹر سلیم نے اطمینان کا سانس لیا۔ “یہ چرواہے گہری نیند کی حالت میں ہیں۔ یہ وہی اعصابی شکن دوا ہے، جو بظاہر انہیں جسمانی نقصان نہیں پہنچا رہی، مگر یہ ان کے دماغ کو مکمل طور پر غیر فعال کر چکی ہے۔ یہ سب لوگ خاموش گواہیاں ہیں کہ یہاں کیا ہو رہا تھا۔ میں نے ان کے لیے ایک مضبوط اینٹی ڈوٹ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ جلد ہی بہتر ہو جائیں گے۔”

صوفیہ خان نے ایک کپ چائے لی اور سالار کے قریب آئی۔

“سالار، کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ کال یار خان اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے؟”

“نہیں، صوفیہ۔ کال یار کبھی ختم نہیں ہوتا، وہ صرف بھیس بدلتا ہے۔” سالار نے اپنے گہرے انداز میں کہا۔ “وہ خود کبھی سامنے نہیں آیا۔ اُس نے درگال کو ایک سائنسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ کال یار نے یہ سارا کھیل اس لیے رچایا تاکہ وہ اپنا تیار شدہ بائیو-کیمیکل ویپن، یعنی ‘بے حسی کا زہر’، کسی بین الاقوامی طاقت کو فروخت کر سکے۔ ‘ڈارک فاریسٹ کنزرویشن’ صرف ایک خریداری کا عنوان تھا۔”

اسی وقت، ڈاکٹر درگال کو ہوش آنے لگا۔ اس نے کراہ کر اپنی آنکھیں کھولیں اور کمرے میں سالار، کاشف اور ڈاکٹر سلیم کو دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر وہی نفیس، مگر اب کمزور مسکراہٹ تھی۔

“تم مجھے کبھی نہیں سمجھ سکتے، شکاری۔” درگال نے بہت کمزور آواز میں کہا۔ “یہ صرف آغاز تھا۔ ‘فیز ون’۔ مجھے چرواہوں کی پرواہ نہیں تھی۔ مجھے صرف ڈیٹا چاہیے تھا… وہ ڈیٹا، جو میں نے خفیہ طور پر ایک کرسٹل USB میں منتقل کر دیا ہے… ایک ایسے شخص کو، جو اب ‘فیز ٹو’ شروع کرے گا۔”

سالار اس کی بات پر حیران نہیں ہوا۔ یہ وہی اعتماد تھا جو کال یار خان کے ہر ساتھی میں پایا جاتا تھا۔

“وہ کون ہے؟” سالار نے سخت لہجے میں پوچھا۔

ڈاکٹر درگال ایک لمبی اور فاتحانہ ہنسی ہنسا، جو کمرے کی خاموشی میں ڈراؤنی لگی۔

“میں تمہیں نہیں بتاؤں گا۔” ” The next stage is global, Salar. You won’t be able to hunt this from your jungle shack. “

اس وقت کاشف بلوچ نے آگے بڑھ کر کہا: “تمہاری ٹیکنالوجی ملبے کے نیچے ہے۔ تمہارے پاس اب کچھ نہیں ہے۔”

“سب کچھ میرے پاس نہیں تھا۔” درگال نے جواب دیا۔ “میرے پاس صرف فارمُولا تھا، اور وہ میں نے کامیابی سے بھیج دیا ہے۔ تمہارا سارا شکار… محض سرخ جھیل کا فریب تھا۔ تم اصل خطرے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے!”

ڈاکٹر درگال کو مزید بولنے کا موقع نہ ملا، کیونکہ ڈاکٹر سلیم نے اسے ایک ہلکا سا بے ہوشی کا انجکشن لگا دیا تاکہ وہ مکمل تحقیقات سے پہلے مزید کچھ نہ کہے۔

کچھ دیر بعد، سالار نے اپنی رائفل کو صاف کیا اور کاشف اور صوفیہ کی طرف دیکھا۔ ان کے چہروں پر عزم تھا۔

“اس کا مطلب ہے کہ ہمارا شکار ابھی ختم نہیں ہوا۔” سالار نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ “کال یار نے ایک بار پھر اپنے سائے کو استعمال کیا ہے، اور اب یہ سایہ جنگل سے نکل کر دنیا کے نقشے پر کہیں اور پھیل چکا ہے۔”

صوفیہ خان، ایک ماہر صحافی ہونے کے ناطے، فوراً اس کی بات کا مطلب سمجھ گئی۔

“میں جانتی ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ میں اپنے بین الاقوامی رابطوں کو استعمال کروں گی۔ میں ‘ڈارک فاریسٹ کنزرویشن’ کا راز فاش کروں گی اور اس کرسٹل USB کے خریدار کو تلاش کروں گی۔ یہ کہانی صرف ایک ایڈونچر نہیں، سالار۔ یہ ایک عالمی سکینڈل ہے۔”

سالار نے رضامندی میں سر ہلایا۔

“اور ہم، کاشف۔” سالار نے اپنے وفادار دوست کو دیکھا۔ “ہماری منزل اب صرف شکاری نہیں، بلکہ محافظ کی ہے۔ ہم اُس گمنام شخص کو ڈھونڈ نکالیں گے جو فیز ٹو کی تیاری کر رہا ہے۔ ہمیں جنگل کو بچانا ہو گا، اس سے پہلے کہ یہ زہر پوری دنیا کو بے حس کر دے۔”

پولیس اور حکام ڈاکٹر سلیم کی تجربہ گاہ پہنچ چکے تھے۔ چرواہوں کو محفوظ طریقے سے ان کے گھروں کو بھیجا جا رہا تھا، اور ڈاکٹر درگال کو سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا۔ سرخ جھیل کا فریب کی کہانی اب اپنے دوسرے، زیادہ خطرناک، مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ سالار غازی جانتا تھا کہ اس بار اُس کا تعاقب صرف ایک درندے کا نہیں، بلکہ ایک عالمی خطرے کا ہو گا۔

باب 9: عالمی جال اور برفانی بلاوا

سرخ جھیل کے واقعے کو تین ہفتے گزر چکے تھے۔ وادی کی فطرت تیزی سے اپنے آپ کو بحال کر چکی تھی، مگر سالار غازی اور اس کے دوستوں کی زندگیوں میں سکون لوٹنا ابھی باقی تھا۔ ڈاکٹر سلیم کی تجربہ گاہ اب باقاعدہ ایک آپریشنل ہیڈکوارٹر کا منظر پیش کر رہی تھی، جہاں نقشے، سائنسی رپورٹس اور صحافتی کاغذات کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔

غائب ہونے والے چرواہے مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے، اور ان کی خاموش گواہی نے حکام کو ڈاکٹر درگال اور اس کی تنظیم کے خلاف مضبوط مقدمہ تیار کرنے میں مدد دی تھی۔

سالار اور کاشف، جو اب معمول کی شکاری جیکٹ کے بجائے جدید، ٹیکنالوجی سے لیس سفری لباس میں ملبوس تھے، اگلی کارروائی کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ ان کا انتظار صوفیہ خان کا تھا، جو اپنی بین الاقوامی رپورٹنگ کی آڑ میں ‘ڈارک فاریسٹ کنزرویشن’ کا عالمی جال توڑنے کے لیے بیرون ملک گئی تھی۔

صوفیہ اگلے دن شام کو سخت تھکن کے عالم میں پہنچی، مگر اس کے چہرے پر تھکن کے بجائے فتح کی چمک تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ میں ایک پُرانی، فولادی سی ڈی تھامی ہوئی تھی۔

“تم لوگوں نے سوچا تھا کہ یہ صرف ایک ڈاکٹر درگال کی سازش ہے؟” صوفیہ نے اپنا لیپ ٹاپ کھولتے ہوئے کہا۔ “یہ ایک عالمی کمپنی تھی جسے ایک پوشیدہ ہاتھ چلا رہا تھا— ایک ایسا ہاتھ جو طاقتور حکومتوں کو بھی ‘بے حسی کا زہر’ فروخت کرنے کی کوشش میں تھا۔”

صوفیہ نے اپنے لیپ ٹاپ پر ایک ویڈیو پلے کی۔ ویڈیو میں ایک انتہائی خفیہ کانفرنس کا منظر تھا، جہاں ڈاکٹر درگال کا ایک ساتھی ایک پُراسرار پروٹو ٹائپ پیش کر رہا تھا۔

“میں نے ان کے سب سے بڑے رابطے کو ٹریس کر لیا ہے۔ یہ لوگ اب فیز ٹو کی طرف بڑھ چکے ہیں، اور ان کا مقصد اب صرف ‘سائنسی ڈیٹا’ نہیں، بلکہ ‘پیداوار’ ہے۔”

صوفیہ نے فولادی سی ڈی سالار کے سامنے رکھی۔

“یہ مجھے درگال کے پرانے ڈیٹا فائلز میں ملی۔ یہ کوئی وڈیو یا آڈیو نہیں ہے— یہ ایک مقام کا کوڈ ہے۔”

ڈاکٹر سلیم نے فوری طور پر سی ڈی لی اور اسے اپنے تجزیاتی کمپیوٹر میں ڈالا۔ چند سیکنڈ کے تجزیے کے بعد، سکرین پر ایک جغرافیائی نقشہ ظاہر ہوا جو ملک کے شمالی علاقے کے بلند ترین پہاڑی سلسلے، قراقرم (Karakoram)، کے ایک دور دراز اور برفانی حصے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ اس نقشے پر ایک چھوٹا سا نشان تھا: “Alpha-2.0 Research Site”۔

“آئیے!” ڈاکٹر سلیم نے حیرت سے کہا۔ “یہ سطح سمندر سے بہت اونچا مقام ہے۔ وہاں کا ماحول انتہائی ٹھنڈا اور خشک ہے۔ کوئی شخص ایسی جگہ پر عام طور پر بائیو-کیمیکل تجربہ گاہ کیوں بنائے گا؟”

سالار غازی نے نقشے کو غور سے دیکھا۔ اس کے ذہن میں جنگل کی مہم کے اصول، برفانی اور بلند پہاڑی اصولوں سے ٹکرا رہے تھے۔

“کیونکہ، ڈاکٹر، یہ کال یار کا نیا طریقہ ہے۔” سالار نے اپنا فیصلہ سنایا۔ “بایو کیمیکل مادوں کو کم درجہ حرارت میں محفوظ کرنا آسان ہوتا ہے۔ اور سب سے اہم بات، یہ علاقہ ہر طرح کے حکومتی یا انتظامی دائرہ کار سے باہر ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں پر وہ اپنے بائیو ویپن کو بڑے پیمانے پر تیار کر سکتا ہے، اور پھر وہاں سے کسی بھی جگہ بھیج سکتا ہے۔”

کاشف بلوچ کے چہرے پر بھی اب ایک نئی قسم کا عزم تھا۔ اس کی تیر اندازی کی مہارت ہمیشہ جنگل تک محدود رہی تھی، مگر اب اسے برف اور چٹانوں پر اپنا ہنر آزمانا تھا۔

“قراقرم… یہ ہمارے لیے نیا میدان ہو گا۔” کاشف نے اپنی آواز میں کہا۔ “مگر کال یار کے چیلوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ شکاری کسی بھی میدان میں اپنے اصول نہیں بدلتا۔”

صوفیہ خان نے ایک مضبوط فیصلہ کیا: “میں پیچھے نہیں بیٹھوں گی۔ میں نے اپنے تمام تر شواہد حکام کو بھیج دیے ہیں۔ لیکن میں جانتی ہوں کہ Alpha-2.0 کے بارے میں دنیا کو جاننے کا حق ہے۔ میں ریسکیو ٹیم سے رابطہ کروں گی اور اپنی صحافی حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے، تم دونوں کے لیے بیک اپ کا بندوبست کروں گی۔”

سالار نے رضامندی میں سر ہلایا۔ صوفیہ کی جرات ہمیشہ سے اس کا سب سے بڑا ہتھیار رہی تھی۔

اس مہم میں کوئی جنگلی درندہ نہیں تھا، کوئی شیر یا چیتا نہیں۔ اس بار دشمن تھا سرد موسم، بلند چوٹیاں اور انسان کی خوفناک ہوس۔

سالار نے اپنے پرانے، بھاری چمڑے کے جوتے نکالے اور ان کی جگہ جدید، گرم برفانی بوٹ پہنے۔ اُس کی قیمتی رائفل ہالینڈ اینڈ ہالینڈ اب ایک برفانی کور میں لپیٹی جا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سفر سرخ جھیل کے فریب کو حتمی انجام تک پہنچائے گا۔

“تیار ہو جاؤ، کاشف۔” سالار نے اپنے بیگ کا پٹا کس کر باندھا۔ “ہم ایک ایسے برفانی بھوت کا پیچھا کرنے جا رہے ہیں، جو پوری دنیا کو بے حس کرنا چاہتا ہے۔”

اگلی صبح، پہلی فلائٹ ان کی منتظر تھی، جو انہیں قراقرم کے اس دور دراز خطے تک پہنچانے والی تھی، جہاں کال یار خان کا آخری سایہ، Alpha-2.0، اپنی تیاری مکمل کر رہا تھا۔

باب 10: برفانی انتظام اور آخری شکار

قراقرم کے پہاڑی سلسلے، جہاں فضا اتنی سرد تھی کہ سانس لینا بھی ایک مشکل عمل بن جاتا تھا، الفَا-2.0 ریسرچ سائٹ کا گڑھ تھے۔ یہ وہ میدان تھا جہاں فطرت کی خاموشی نے خود کو انسان کی سازش کے حوالے کر دیا تھا۔ سالار غازی اور کاشف بلوچ، اب اپنے شکاری ساز و سامان اور برفانی لباس میں ملبوس، اس بلند و بالا برفانی دنیا میں موجود تھے۔

صوفیہ خان نے انہیں قریبی فوجی اڈے کے ذریعے یہاں تک پہنچنے میں مدد دی تھی، مگر آگے کا سفر خالصتاً ان کی شکاری مہارت پر منحصر تھا۔ ان کی منزل ایک پوشیدہ، زیرِ برف تجربہ گاہ تھی جو ڈاکٹر درگال کے فیز ون کو فیز ٹو میں بدلنے کا مرکز تھی۔

“یہاں کوئی پنجوں کے نشان نہیں ملیں گے، سالار۔” کاشف بلوچ نے سخت سردی سے اپنے چہرے کو بچاتے ہوئے کہا۔ “یہاں ہمیں صرف ٹیکنالوجی کے اشارے تلاش کرنے ہوں گے۔”

سالار نے برفانی طوفان کے درمیان اپنی دوربین نکالی۔ وہ جانتے تھے کہ کال یار خان کا نیا ساتھی، جو بھی تھا، وہ کسی ایسی جگہ کا انتخاب کرے گا جہاں قدرت خود اُس کی حفاظت کرے۔

وہ کئی گھنٹوں تک خطرناک برفانی چوٹیوں اور گلیشیئرز پر سفر کرتے رہے۔ سالار کو شک تھا کہ یہ ریسرچ سائٹ کسی جیوتھرمل توانائی کے قریب ہو گی، جو زیرِ زمین گرمائش سے توانائی حاصل کرتی ہے۔ اس نے اپنے پاس موجود ڈاکٹر سلیم کے دیے ہوئے سادہ جیولوجیکل اسکینر کو استعمال کیا، جو حرارت کے معمولی اشاروں کو بھی پکڑ سکتا تھا۔

اچانک، اسکینر نے ایک تیز سگنل دیا۔ سالار نے برف کی ایک بڑی ڈھلوان کی طرف اشارہ کیا۔

“وہاں! برف کے نیچے مصنوعی حرارت ہے۔ یہ وہاں کا مرکز ہے۔”

وہ دونوں برف میں بنے ہوئے ایک تنگ سوراخ تک پہنچے، جو دراصل ایک مصنوعی ایئر وینٹیلیشن شاٹ کا ڈھکنا تھا۔ فولادی ڈھکنے پر وہی Alpha-2.0 کوڈ لکھا تھا جو صوفیہ کو ملا تھا۔

وہ دونوں احتیاط سے رسیوں کی مدد سے نیچے اُترے۔ نیچے کا ماحول گرم اور روشن تھا، بالکل اُس کے برعکس جو اوپر برفانی طوفان میں تھا۔ یہ ایک وسیع، جدید ترین ہائی ٹیک لیبارٹری تھی۔ یہاں مشینوں کی گونج اور مصنوعی روشنی کی چمک سے ماحول بھرا ہوا تھا۔

لیبارٹری کے بیچوں بیچ، ایک بڑا ری ایکٹر نما آلہ نصب تھا، جس کے اندر وہی سرخ نامیاتی زہر ہزاروں گنا زیادہ مقدار میں تیار ہو رہا تھا۔ یہ زہر کی پیداوار کا مرکز تھا۔

سامنے، ایک شیشے کے کنٹرول روم میں، ایک شخص کھڑا تھا۔ وہی جس کا ذکر صوفیہ نے کیا تھا: سفید کوٹ، کالی عینک، اور ایک ٹھنڈی، غیر جذباتی مسکراہٹ۔ یہ وہ ماسٹر مائنڈ تھا جس نے ڈاکٹر درگال کا کام سنبھال لیا تھا۔

“میں جانتا تھا کہ تمہیں یہیں آنا ہو گا۔ شکاری۔” وہ شخص مائیکروفون پر بولا۔ اس کی آواز مشینوں کے شور میں گونج رہی تھی۔

“میرا نام ڈاکٹر عافی ہے۔ اور میں کال یار خان کے خواب کو ایک عالمی حقیقت میں بدل رہا ہوں۔ میں نے کرسٹل USB سے وہ فارمولا حاصل کر لیا ہے، اور اب میں اسے جاسوسی اور کنٹرول کے ہتھیار میں بدل رہا ہوں۔”

ڈاکٹر عافی نے سکرین پر دنیا کے بڑے شہروں کا نقشہ دکھایا، جہاں چھوٹے چھوٹے نشانات چمک رہے تھے۔

“تم نے جھیل کا فریب تو توڑ دیا، مگر میرے پاس اب یہی زہر بڑے پیمانے پر ڈرونز کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلانے کا منصوبہ ہے۔ دنیا کو امن چاہیے، اور یہ بے حسی کا زہر انہیں ہمیشہ کا امن دے گا، جہاں کوئی مزاحمت نہیں ہو گی!”

سالار غازی نے رائفل اُٹھائی۔ “تم امن نہیں، خاموشی بیچ رہے ہو، عافی۔ اور فطرت خاموشی کا جواب ہمیشہ انتقام سے دیتی ہے۔”

یہاں کوئی بندوق بردار گارڈ نہیں تھا۔ ڈاکٹر عافی کا مکمل اعتماد اس بات پر تھا کہ برف، بلندی اور ٹیکنالوجی اسے سالار سے بچا لے گی۔ اس نے کنٹرول روم کے باہر ایک زہر کا پردہ بنا دیا، تاکہ کوئی بھی اس تک نہ پہنچ سکے۔

“تم یہاں تک تو پہنچ گئے، مگر تم اب میرے پاس کبھی نہیں آ سکتے۔ باہر کا ماحول میرا ہے۔ تم مر جاؤ گے، شکاری!”

“شکاری کو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے دشمن کا سب سے کمزور نقطہ کیا ہے۔” سالار نے پرسکون لہجے میں کہا۔

سالار نے فوراً اپنے بیگ سے وہ چھوٹا جیولوجیکل اسکینر نکالا۔ اس بار اس کا نشانہ عافی نہیں، بلکہ وہ جیوتھرمل ری ایکٹر تھا جو اس پورے اڈے کو گرمائش اور توانائی دے رہا تھا۔

“کاشف! میں ری ایکٹر پر حملہ کرتا ہوں! تم ری ایکٹر کے کنٹرول پینل کو نشانہ بناؤ! ہمارا مقصد تباہی نہیں، بلکہ توانائی کا انقطاع ہے۔”

دونوں نے ایک ساتھ، انتہائی مہارت سے، اپنے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ کاشف بلوچ کا تیر کمان ری ایکٹر کے سائیڈ میں لگے کولنگ سسٹمز پر لگا، جس سے مشینوں میں خوفناک گڑگڑاہٹ شروع ہو گئی۔

سالار نے اپنی رائفل کا ایک ہی نشانہ اسکینر کے بتائے ہوئے مرکزی سوئچ پر لگایا جو ری ایکٹر کو لیبارٹری سے جوڑ رہا تھا۔

دھماکہ!

بجائے تباہی کے، ایک دم سے پوری لیبارٹری کی لائٹس بجھ گئیں۔ مشینیں خاموش ہو گئیں، اور ری ایکٹر تیزی سے ٹھنڈا ہونے لگا۔ باہر کا زہر کا پردہ فوراً غائب ہو گیا۔ عافی کا سارا سائنسی کھیل ایک ہی لمحے میں ختم ہو گیا۔

ڈاکٹر عافی نے گھبراہٹ میں کنٹرول روم کا دروازہ کھولا اور باہر بھاگا۔ اس نے سوچا کہ وہ برفانی سرنگ سے فرار ہو جائے گا، مگر سالار اور کاشف، جو تاریکی میں بھی دیکھنے کے ماہر تھے، اس کے انتظار میں تھے۔

“تمہارا کھیل ختم، ڈاکٹر۔” سالار نے عافی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

ڈاکٹر عافی نے مزاحمت کی کوشش کی، مگر سالار کے ایک ہی ماہرانہ وار نے اس کے بازو کو سن کر دیا۔ کاشف نے اسے باندھنے کے لیے رسی نکالی۔

الفَا-2.0 کا منصوبہ، جو عالمی کنٹرول کا خواب تھا، ہمیشہ کے لیے سرد ہو گیا۔ صوفیہ خان، جس نے اوپر سے فوج کی چھوٹی سی ٹیم کے ساتھ رابطہ کیا تھا، چند گھنٹوں بعد وہاں پہنچی اور تمام شواہد اور ڈاکٹر عافی کو اپنے قبضے میں لیا۔

سرخ جھیل کا فریب، جو ایک مقامی شکار کے قصے سے شروع ہوا تھا، اب عالمی سازش کے پردے کو چاک کر چکا تھا۔ سالار غازی اور کاشف بلوچ نے اپنی مہم کے بعد جب واپس مڑ کر اس برفانی وحشت کدے کو دیکھا، تو وہ جانتے تھے کہ انہوں نے صرف اپنے جنگل کی نہیں، بلکہ پوری دنیا کی خاموشی کو بچایا ہے۔


چند ہفتوں بعد، سالار غازی اور کاشف بلوچ اپنے پنجاب کے گھر واپس آ چکے تھے۔ ڈارک فاریسٹ کنزرویشن کا پورا نیٹ ورک ٹوٹ چکا تھا۔ چرواہے مکمل طور پر صحت یاب تھے اور سرخ جھیل ایک بار پھر اپنے نیلی شفافیت میں چمک رہی تھی۔

سالار اپنے پرانے نقشے کو دیکھ رہا تھا۔ کاشف نے آکر اسے کندھے سے تھپکی دی۔

“اگلا شکار کہاں ہے، سالار؟ اب تو دنیا میں کوئی خطرناک راز نہیں بچا ہو گا؟”

سالار مسکرایا۔ “جب تک انسان کی ہوس اور ٹیکنالوجی ہے، کاشف، شکار ہمیشہ باقی رہے گا۔”

اُس نے نقشے کو تہہ کیا اور سامنے جنگل کی طرف دیکھا۔ اُس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جو اس بات کی نشانی تھی کہ شکاری کبھی بھی آرام نہیں کرتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe