Shaheed e Millat Poem نظم شہیدِ ملت
از ضیاءالحسن ضیاء

تھی بے مثال شجاعت شہیدِ ملت کی
رہے گی یاد شہادت شہیدِ ملت کی
وہ عزم اور عمل کا عظیم پیکر تھے
تمام ملتِ بیضا کو پیار تھا اُن سے
کبھی نہ غیر کے آگے جھکے نہ دب ہی سکے
رکاوٹیں ہوئیں حائل، قدم نہ پھر بھی رُکے
وطن پر جان لگائی اس اعتماد کے ساتھ
کہ خود ہی ٹوٹ گئے ظلم اور جبر کے ہاتھ
ہم ان کے ملک کو ہرگز کبھی نہ بھولیں گے
صفوں میں اپنی بہم اتحاد رکھیں گے
وطن کی مٹی کو خوں سے سنوارنے والے
ہیں زیوراتِ محبت نکھارنے والے
وطن میں مردِ مجاہد ہوئے ہیں کم ایسے
غیور، مخلص و محسن ضیا تھے وہ جیسے
یہ پراثر اور جذباتی نظم ضیاالحسن ضیا کا کلام ہے جو شہیدِ ملت لیاقت علی خانؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ یہ نظم محض چند اشعار نہیں بلکہ ایک عظیم رہنما کی زندگی، جدوجہد اور قربانی کی جھلک ہے۔ اس میں وہ تمام خصوصیات اجاگر کی گئی ہیں جنہوں نے لیاقت علی خانؒ کو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے۔
لیاقت علی خانؒ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے اور انہیں شہیدِ ملت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نہایت قریبی ساتھی اور اعتماد کے حامل رہنما تھے۔ اُن کی سیاسی بصیرت، سچائی، دیانتداری اور حب الوطنی نے انہیں اپنی قوم کے دلوں میں ایک خاص مقام دیا۔ اس نظم میں ان کی بہادری اور عزم کو سراہا گیا ہے کہ کیسے انہوں نے قوم کے لیے کبھی کسی کے آگے سر نہ جھکایا اور نہ ہی کسی طاقت کے دباؤ کو قبول کیا۔
شاعر نے اُن کی جدوجہد کو الفاظ میں ڈھالتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ لیاقت علی خانؒ نہ صرف آزادی کے علمبردار تھے بلکہ قوم میں اتحاد پیدا کرنے والے بھی تھے۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنی قوم کو امید دلائی اور اس بات کا یقین دلایا کہ پاکستان اپنی محنت اور اتحاد سے ایک مضبوط ملک بن سکتا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قربانی اور اخلاص ہی اصل قیادت کی بنیاد ہیں۔
اس نظم کا ایک اہم پہلو شہیدِ ملت کی شہادت کا ذکر ہے۔ 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ (جو آج لیاقت باغ کہلاتا ہے) میں ایک عوامی جلسے کے دوران ان پر گولی چلائی گئی اور وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یہ واقعہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک المیہ تھا بلکہ ایک عظیم رہنما کی جدائی بھی تھی۔ لیکن ان کی شہادت نے انہیں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا اور ان کا خون ظلم و جبر کے خلاف ایک نشانِ احتجاج بن گیا۔
یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شہیدِ ملت کی قربانی صرف ایک شخص کی قربانی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی آزادی اور وقار کی ضمانت تھی۔ شاعر نے اس پیغام کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے کہ ہمیں کبھی بھی ان کی جدوجہد کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھنا چاہیے۔
آخر میں یہ نظم محض ایک خراجِ عقیدت نہیں بلکہ ایک پیغام ہے—یہ پیغام کہ قومیں اپنے شہداء کی یاد کو زندہ رکھ کر ہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ لیاقت علی خانؒ کی سچائی، بہادری اور قربانی ہمیشہ ہمارے لیے روشنی کا مینار رہیں گی۔
This inspiring poem, written by Zia ul Hassan Zia, pays glowing tribute to Shaheed-e-Millat Liaquat Ali Khan, the first Prime Minister of Pakistan and one of the most respected figures in the country’s history. Through deeply emotional verses, the poet reminds us of Liaquat Ali Khan’s unmatched courage, his unshakable determination, and his immense love for his nation. The poem is not just a piece of literature; it is a heartfelt reminder of the sacrifices that were made to secure Pakistan’s freedom and strengthen its foundation.
Liaquat Ali Khan, widely known as Shaheed-e-Millat (Martyr of the Nation), was not only a close companion of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah but also one of the most trusted leaders who carried forward the mission of establishing a strong and independent Pakistan. His sincerity, honesty, and devotion to national interests made him stand apart from many leaders of his time. The poem highlights these very qualities, presenting him as a towering figure of courage and integrity.
The verses capture his resilience in the face of challenges—how he never bowed down to foreign pressure, how he never compromised on national sovereignty, and how his leadership became a beacon of hope for the people of Pakistan. The poet recalls how he led with a clear vision, encouraging unity among the people and nurturing a spirit of self-reliance in a newly formed state. His strength of character, his reliance on faith, and his deep sense of duty are beautifully reflected in every stanza of this poetic tribute.
The poem also emphasizes the ultimate sacrifice of Liaquat Ali Khan—his martyrdom. On October 16, 1951, he was assassinated while addressing a public gathering at Company Bagh (now Liaquat Bagh) in Rawalpindi. His tragic death left the entire nation in grief, but it also immortalized him as a true martyr of freedom and democracy. His blood became a symbol of resistance against oppression and injustice.
By weaving together imagery of courage, love for the homeland, and sacrifice, the poet shows us that Liaquat Ali Khan was not just a political leader but also a symbol of selfless devotion. The poem inspires readers to remember his legacy, to learn from his strength, and to remain united in the face of challenges.
In essence, this poem is a reminder of national duty and patriotism. It teaches us that true leaders live on even after their physical departure because their ideals continue to guide nations. Shaheed-e-Millat Liaquat Ali Khan’s life and martyrdom remain a shining example for Pakistanis today and for generations to come.


