Thursday, November 27, 2025
HomeUrdu StoriesSachai Kay Taajir Prophet Muhammad SAW Complete Urdu Story

Sachai Kay Taajir Prophet Muhammad SAW Complete Urdu Story

Sachai Kay Taajir Prophet Muhammad SAW Complete Urdu Story

By Hassaan Ahmad Awan

Sachai Kay Taajir Prophet Muhammad SAW Complete Urdu Story

Click Here to read this story in English :

________________________________________________________________________

Click Here To Listen This Story : 

🌙 سچائی کے تاجر – حضور ﷺ کے ابتدائی تجارتی ایام

(داستان محل – اسلامی کہانیاں)

طلوعِ صبح کی سنہری روشنی میں مکہ کی گلیاں جاگنے لگیں۔
تاجر اپنے خیمے لپیٹ رہے تھے، اونٹوں پر سامان لادا جا رہا تھا، اور مسالوں کی خوشبو تنگ گلیوں میں پھیل رہی تھی۔
یہ تجارت کا موسم تھا — قریش کی زندگی کی دھڑکن۔

انہی تاجروں میں ایک نوجوان کھڑا تھا، عمر زیادہ سے زیادہ پچیس برس، چہرے پر سکون اور وقار کی چمک۔
اس کا نام محمد بن عبداللہ ﷺ تھا، اور مکہ میں ان کی شہرت پہلے ہی بے مثال تھی۔
لوگ انہیں “الامین” — امانت دار اور سچا کہتے تھے۔

ابتدائی عمروں سے ہی رسول اللہ ﷺ اپنی دیانت اور سچائی کے لیے مشہور تھے۔
بچپن میں جب وہ قریش کی بکریاں چرایا کرتے، تو نہ کبھی دھوکہ دیتے نہ کسی کی امانت میں خیانت۔
لوگ اپنی چیزیں، راز، اور عزتیں ان پر بھروسہ کرکے چھوڑ دیتے تھے۔
ایسے کردار کا ہونا اُس معاشرے میں بہت نایاب تھا جہاں نفع و نقصان ہی سب کچھ سمجھا جاتا تھا۔
لیکن حضور ﷺ نے کبھی شہرت نہیں چاہی، کیونکہ ان کی سچائی دکھاوا نہیں — فطرت تھی۔

ایک صبح، جب وہ شام کے تجارتی قافلے کی تیاری کر رہے تھے، ان کے چچا ابو طالب نے انہیں خدیجہ بنت خویلدؓ سے متعارف کروایا۔
وہ مکہ کی نہایت معزز، صاحبِ حیثیت اور نیک سیرت خاتون تھیں۔
انہوں نے اس نوجوان کی سچائی کے قصے سن رکھے تھے، اور چاہتی تھیں کہ وہ ان کے تجارتی قافلے کی قیادت کریں۔
یہ بڑی ذمہ داری والا منصب تھا۔

خدیجہؓ کے غلام میسرہ، نبی ﷺ کے ساتھ اس سفر پر گئے۔
دونوں نے جلتی ریتوں کو عبور کیا، دیانت، صبر اور انصاف کے ساتھ تجارت کی۔
جب دوسرے تاجر قیمتیں بڑھا چڑھا کر بولتے یا تول میں کمی کرتے،
محمد ﷺ سچ بولتے، چاہے اس سے نقصان ہی کیوں نہ ہو۔
ان کا انداز نرم مگر پُرعزم تھا، اور جو بھی ان سے ملا، متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

بُصریٰ کے مقام پر ایک نصرانی راہب نسطور نے نبی ﷺ کو ایک درخت کے نیچے آرام کرتے دیکھا۔
اس نے میسرہ سے کہا:
“اس درخت کے نیچے کبھی کوئی نبی کے سوا نہیں بیٹھا۔”
میسرہ نے یہ الفاظ ہمیشہ یاد رکھے۔

جب وہ واپس مکہ پہنچے، تو قافلے کا نفع دوگنا ہو چکا تھا —
نہ صرف دولت میں بلکہ عزت میں بھی۔
خدیجہؓ حیران رہ گئیں۔
انہوں نے کہا:
“میں نے کبھی ایسی بابرکت اور دیانت دار تجارت نہیں دیکھی۔”
لیکن ان کے دل کو زیادہ متاثر وہ واقعات کیے جن میں میسرہ نے بتایا کہ
محمد ﷺ کس طرح دوپہر کی دھوپ میں عبادت کرتے،
کیسے دھوکہ دینے والے سے بھی بحث نہ کرتے،
اور کس طرح مشکل میں بھی مسکرا دیتے۔

یہ صرف تجارت نہیں تھی جو کامیاب ہوئی —
بلکہ اعتماد پھلنے لگا تھا۔

کچھ ہی عرصے بعد، خدیجہؓ نے نبی ﷺ سے نکاح کا پیغام بھیجا،
اور ان کا نکاح ایک ایسا مقدس رشتہ بن گیا جو سکون، احترام اور ایمان کی بنیاد پر قائم ہوا۔
اللہ نے بعد میں اسی گھرانے کو وحی کے نور سے منور کیا۔
ان کا رشتہ محض محبت نہیں تھا —
بلکہ سچائی اور مقصدِ الٰہی پر قائم ایک مقدس بندھن تھا۔

وقت گزرتا گیا۔
نبی ﷺ تجارت کرتے رہے، لیکن ان کا دل اب دنیا کے شور سے ہٹ کر تنہائی کی خاموشی میں اطمینان تلاش کرنے لگا۔
وہ اکثر غارِ حرا میں تنہائی اختیار کرتے،
کھانا اور پانی ساتھ لے جاتے،
اور معاشرے کے ظلم، بت پرستی اور لالچ پر غور کرتے۔

انہوں نے بازاروں میں بہت دھوکہ دیکھا تھا۔
لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے، ناپ تول میں کمی کرتے، اور نسب پر فخر کرتے۔
مگر وہ، الامین ﷺ، جھوٹ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
ان کی سچائی ایسی تھی کہ دشمن بھی ان کی امانت داری کے قائل تھے۔

پھر جب پہلی وحی نازل ہوئی —

“اقرأ باسم ربک الذی خلق…”
تو وہی شخص جو کبھی غلہ اور ریشم تولتا تھا،
اب دلوں کو انصاف اور سچائی سے تولنے لگا۔
ان کا پیغام وہی تھا جو ان کی زندگی کا اصول تھا:
سچ، امانت اور عدل۔

تاجر سے نبی بننے کا سفر اچانک نہیں تھا —
یہ ایک کردار کا تسلسل تھا۔
جو بازار میں سچ بولتا تھا،
اب پوری دنیا کو سچ کا پیغام دے رہا تھا۔

حتیٰ کہ دشمن بھی اعتراف کرتے:

“ہم نے انہیں کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔”

جب قریش نے ہجرت کی رات نبی ﷺ کے قتل کی سازش کی،
تو انہی دشمنوں کی امانتیں آپ ﷺ کے پاس تھیں۔
آپ ﷺ نے علیؓ کو حکم دیا کہ
“کل ان کی تمام امانتیں واپس کر دینا۔”
کون ہے جو دشمنوں کی امانت واپس کرے؟
صرف سچائی کے نبی ﷺ۔

جو امانت داری پہلے تجارت میں برکت لائی تھی،
اب وہی ایک امت کی بنیاد بن گئی۔

مدینہ میں آ کر نبی ﷺ نے ایک نیا بازار قائم کیا —
جہاں جھوٹ، دھوکہ، یا ناجائز مسابقت کی گنجائش نہیں تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:

“سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔”
(ترمذی)

یوں تجارت عبادت بن گئی،
اور کاروبار ایمان کی علامت۔

“سچائی کا تاجر” صرف سامان بیچنے کی کہانی نہیں —
یہ اپنی خواہشات کو اللہ کی سچائی کے بدلے دینے کی مثال ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
ہر سچا عمل، چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، ایمان کا مظہر ہے۔

نبی ﷺ نے دکھایا کہ کامیابی دھوکہ یا چالاکی میں نہیں،
بلکہ بھروسے، صبر، اور اخلاص میں ہے۔

آج کے دور میں، جب جھوٹ آسان اور سچائی مشکل لگتی ہے،
ان کی مثال ایک چراغ کی مانند ہے جو اندھیروں میں بھی اپنی روشنی برقرار رکھتا ہے۔

ہر وہ مسلمان تاجر، استاد، یا مزدور جو سچائی پر قائم رہتا ہے،
وہ اسی نوجوان کے نقشِ قدم پر چلتا ہے
جو کبھی عرب کی ریت میں تجارت کرتا تھا —
اور بعد میں اللہ کا آخری پیغامبر ﷺ بنا۔

ان کی سچائی محض ایک خصلت نہیں —
بلکہ نبوت کا بیج تھی۔

اسی لیے دنیا انہیں ایک امیر تاجر کے طور پر نہیں،
بلکہ رسولِ اللہ ﷺ — سچائی کے تاجر کے نام سے یاد کرتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe