Sunday, November 30, 2025
HomeMoral StoriesOne Drop More Urdu Story By Hamid Mashhood ایک قطرہ اور از...

One Drop More Urdu Story By Hamid Mashhood ایک قطرہ اور از حامد مشہود

One Drop More Urdu Story By Hamid Mashhood ایک قطرہ اور از حامد مشہود

One Drop More Urdu Story By Hamid Mashhood ایک قطرہ اور از حامد مشہود

Click Here To Read In English 

ایک قطرہ اور از حامد مشہود

عرفان پانی کی بوتل کھلی کھڑکی میں سے باہر انڈیل رہا تھا۔ زیادہ بلندی کی وجہ سے پانی کے چھینٹے نہ جانے کہاں کہاں جا کر گر رہے تھے۔ اچانک عرفانہ نے اسے ڈانٹا:
”عرفان کے بچے! یہ کیا کر رہے ہو۔ پانی ضائع کر رہے ہو۔“

وہ اپنا کام کرتے ہوئے بولا:
”پانی ختم نہیں ہونے لگا نصیحت بھری بہن!“

”پانی ختم بھی ہو سکتا ہے جناب!“

عرفانہ صاحبہ بولیں:
”یہ کوئی صحرا نہیں کراچی ہے کراچی۔ ایک طرف چنگھاڑتا ہوا دریائے سندھ ہے تو دوسری طرف موجیں مارتا ہوا بحیرہ عرب ہے۔ پانی ہی پانی، لہریں ہی لہریں۔ تم خدا پاک کی نعمت ضائع کر رہے ہو۔“

”ہاں ہاں تم تو خدا پاک کی نعمتوں کی حفاظت پر مامور ہو۔ عرفان! شرم کرو۔“ عرفانہ نے اسے پھر ڈانٹا۔

مگر عرفان نے شرم نہ کی اور ایک بوتل خالی ہونے پر دوسری بوتل کا صاف پانی باہر گرانے لگا۔ پھر اس نے جب تیسری بوتل پر ہاتھ صاف کرنا چاہا تو عرفانہ نے اس کی کمر پر پوری طاقت سے گھونسا مارا۔ جواب میں عرفان نے اسے گدھے کی طرح دولتی جھاڑی اور پھر کھلی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ اچانک ان کی امی وہاں آن پہنچیں اور انہوں نے اس جنگ میں ثالث بن کر مداخلت کی۔ انہیں ایسی جنگیں ختم کرانے کا تجربہ تھا۔ انہوں نے دونوں بچوں کو دو دو تھپڑ رسید کئے اور یوں جنگ بند ہو گئی۔

ان کی امی نے ان دونوں کے کان کھینچے تو وہ دونوں اپنی اپنی صفائی پیش کرنے لگے، دلائل دینے لگے۔ ان کی امی نے ان کی بحث سن کر عرفانہ کے حق میں فیصلہ دے دیا اور عرفان پر خوب غصہ کیا کہ وہ پانی کیوں ضائع کر رہا تھا۔ وہ منہ بسور کر بولا:
”آپ بھی تو غسل خانے میں نل چلائے رکھتی ہیں بغیر کسی معقول وجہ کے، کیا اس وقت پانی ضائع نہیں ہوتا؟“

اس سے پہلے کہ ان کی امی جان بھی اپنی غلط روش کا کوئی درست بہانہ تراش لیتیں، اچانک ان کے ابو ساجد صاحب دفتر کے کمرے میں سے بجھا کر باہر برآمد ہوئے اور بولے:
”لوجی، کام ختم ہو گیا ہے۔ اب ہم تین دن آرام کریں گے۔“

ان کے اس اعلان پر سب نے خوشی کا اظہار کیا اور کیوں نہ کرتے۔ آخر وہ ان کے انتظار میں شام ساڑھے سات بجے سے وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ساجد صاحب دفتر کے کاغذات کے انبار میں سے برآمد ہوں تو وہ ان کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی تفریحی مقامات کے لیے تجاویز دینے کا آغاز ہو گیا۔

عرفانہ نے کہا:
”کلفٹن۔“

عرفان نے کہا:
”ہاکس بے۔“

عرفانہ بولی:
”سوات۔“

عرفان بولا:
”کاغان نہ چلے جائیں۔“

اور پھر ان میں زبانی کلامی جنگ کا آغاز ہو گیا جو والدین کی موجودگی کی وجہ سے عملی صورت اختیار نہ کر سکی۔ مسز ساجد نے کہا:
”پہلے کہیں چل کر کھانا تو کھاتے ہیں۔ آپ ذرا یاد کریں آپ نے ہیوی ڈنر کا وعدہ کر رکھا ہے۔“

”ہمیں یاد ہے بیگم! ہم ابھی اپنا وعدہ پورا کئے دیتے ہیں۔ عرفان! یہ کھڑکی بند کر کے چٹخنی چڑھا دو۔“ ساجد صاحب دفتر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولے، جو آفس بوائے ان کی فیملی آجانے پر بند کر کے چلا گیا تھا۔ عرفان نے کھڑکی بند کر دی۔ پھر وہ تینوں بھی ساجد صاحب کے پیچھے پیچھے دروازے تک جا پہنچے۔

ساجد صاحب نے دفتر کا بیرونی دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو ناکام رہے۔ دروازہ بہت مضبوط تھا جس میں ایک مضبوط انٹرنل لاک لگا ہوا تھا، جو اندر اور باہر دونوں اطراف سے چابی کی مدد سے بند ہوتا تھا اور کھل جاتا تھا۔ ساجد صاحب لاک کے کی ہول میں بار بار چابی گھما رہے تھے مگر لاک کھل نہیں رہا تھا۔ لاک مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ کوئی ایک بار گھمانے سے کھلتا ہے، کوئی دو یا تین بار اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان میں چابی کو مخالف سمت میں دوبار گھمانا پڑتا ہے۔ مگر ساجد صاحب اس وقت ان تمام باتوں کو بھول کر کی ہول میں چابی گھماتے جا رہے تھے، ایک طرف کو زور لگاتے جا رہے تھے۔ پھر انہوں نے فرش پر گھٹنے ٹیک کر لاک کو ان لاک کرنے کی کوشش شروع کر دی۔

مسز ساجد نے کہا:
”آپ اس دفتر میں گزشتہ دس سالوں سے کام کر رہے ہیں مگر لگتا ہے کہ لاک پہلی بار کھول رہے ہیں۔“

وہ بولے:
”دفتر کا دروازہ سارا دن کھلا رہتا ہے۔ وا کھلا رہتا ہے۔ دفتر کا وقت ختم ہونے پر لاک لگایا جاتا ہے اور یہ کام آفس بوائے کا ہے، میرا نہیں۔“

عرفان بولا:
”لائیں میں کھولوں…. لاک کھولنے کے لیے ایک خاص تکنیک ہوتی ہے!“

اس کی بات ادھوری رہ گئی… ساجد صاحب نے زور سے چابی گھما دی تھی اور پیتل سے بنی ہوئی ڈپلیکیٹ چابی کی ہول میں ٹوٹ گئی تھی۔ چابی کا زیادہ بڑا حصہ کی ہول میں تھا اور اس کا مختصر حصہ ان کی انگلیوں میں رہ گیا تھا اور… اور ان کا رنگ زرد پڑ گیا۔

”اب کیا ہو گا؟“ مسز ساجد نے گھبرا کر پوچھا۔

ساجد صاحب اٹھ کر بولے:
”اب ہمیں تین دن تک یہیں بند رہنا ہو گا۔“

مسز ساجد بولیں:
”تو تین دن کل پرسوں اور ترسو….. نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنے دفتر کے کسی اور ملازم کو فون کریں اور دروازہ کھلوائیں۔“

جواب ملا:
”دفتر کا ٹیلی فون خراب پڑا ہے۔“

”اور آپ کا موبائل ٹیلی فون کب کام آئے گا؟“

”اس کا آج بیلنس ختم ہو گیا ہے۔ اب میں اس پر کال سن سکتا ہوں، کر نہیں سکتا۔“

اس کے بعد وہاں پر ایک خوفناک خاموشی چھا گئی۔ کچھ دیر بعد ساجد صاحب نے موہوم سی امید پر دروازے کے ساتھ منہ لگا کر اونچی آواز میں ہمسایہ دفتر کے افراد کو بھی نام لے لے کر پکارا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ وہاں پر کوئی نہیں تھا۔ عمارت کے اس فلور پر صرف اور صرف دفتر تھے جو شام کے وقت بند ہو جاتے تھے۔ اور اس وقت رات کے نو بج چکے تھے۔

ایک مقامی تعطیل تھی، دوسری ملکی تعطیل تھی اور تیسری ہفتہ وار تعطیل تھی۔ تین چھٹیاں اکٹھی تھیں جو ان کے لیے سوہانِ روح بن گئی تھیں، اس لیے کہ وہ اس دفتر میں قید ہو چکے تھے۔ سب کے سب فکر مند ہو رہے تھے، عرفانہ کی آنکھوں میں آنسو رینگنے لگے تھے اور عرفان اپنی سب خرمستیاں بھول گیا تھا۔

عرفان نے کہا:
”ابو! اس لاک کو توڑ دیتے ہیں۔“

وہ بولے:
”اس وقت میرا کمرا کھلا ہے یا باتھ روم؟ میرے کمرے میں کاغذ ہیں، قلم ہیں، فائلیں ہیں اور ایک خالی گلاس۔ باتھ روم میں صابن ہے اور پانی کی بالٹی… بولو کسی چیز سے لاک توڑو گے؟“

وہ سب دروازے سے ہٹ کر دفتر کے سنٹرل لاؤنج میں آگئے اور پریشان ہو کر صوفوں پر بیٹھ گئے۔ ساجد صاحب نے گرمی محسوس کرتے ہوئے آگے بڑھ کر اے سی چلا دیا۔ عرفان نے کھڑکی کھول کر اپنا منہ باہر نکالا اور گلا پھاڑ پھاڑ کر لوگوں کو آوازیں دیں۔ مگر وہ اس وقت بارہ منزلہ عمارت کے ٹاپ فلور پر موجود تھے۔ آوازیں ہوا میں ہوا بن کر رہ جاتی تھیں۔ آوازیں دے دے کر اس کا گلا خشک ہو گیا۔ اس نے پانی پینے کے لیے ادھر ادھر دیکھا۔ سامنے میز پر منرل واٹر کی وہ دو خالی بوتلیں پڑی تھیں جو اس نے ابھی ابھی ہوا میں نہایت فخر سے بہا دی تھیں۔ اس نے تیسری بوتل اٹھائی ہی تھی کہ اچانک ساجد صاحب بولے:
”عرفان! پانی نہ پینا۔ پانی کی صرف ایک بوتل ہے اور ہم چاروں کے سامنے تین دن اور چار راتیں پڑی ہیں۔“

عرفان بولا:
”اور پانی نہیں ہے یہاں؟“

وہ بولے:
”وہ سامنے ٹرانسپیرنٹ واٹر کولر پڑا ہے جس میں ایک قطرہ پانی نہیں۔“

عرفان نے اندازہ لگایا:
”باتھ روم میں پانی آ رہا ہو گا۔“

اس عمارت میں باتھ رومز کے لیے زمینی پانی مہیا کیا جاتا ہے جو ساحل سمندر کی وجہ سے بہت کڑوا کسیلا ہوتا ہے، پینے کے قابل نہیں ہوتا۔

عرفان نے بے بس ہو کر پانی کی بوتل دوبارہ میز پر رکھ دی۔ پھر اچانک دروازے کی طرف سے ترانزہ اہٹ کی آواز سنائی دی اور سارے دفتر میں اندھیرا چھا گیا۔ ساجد صاحب نے انہیں بتایا:
”دفتر کا برقی نظام تار جلنے سے بے کار ہو گیا ہے اور اب ہم بلڈنگ کے نچلے حصے سے پانی بھی نہیں کھینچ سکیں گے۔ ہمارا موٹر واٹر پمپ بند ہو گیا ہے۔“

یہ کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔ وہ کڑوا کسیلا پانی کھینچنے سے بھی محروم ہو گئے تھے۔ وہ کراچی میں رہتے ہوئے بھی صحرا میں پہنچ گئے تھے۔ گرمی، اندھیرا اور پیاس…… ان تینوں مصائب سے مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے رات گزار دی۔ صبح کے وقت انہوں نے ایک ایک گھونٹ پانی کا ناشتہ کیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

وہ بھوک تو برداشت کر رہے تھے لیکن پیاس سے جان نکلتی جا رہی تھی۔ عرفان نے اڑھائی اڑھائی لیٹر کی دو بوتلیں ضائع کی تھیں۔ اگر وہ پانی ضائع نہ کرتا تو کیسا آرام رہتا۔ باقی بچنے والی تیسری بوتل نصف لیٹر کی تھی جو ان چاروں کے لیے کافی تھی… اور باتھ روم میں بھی پانی دوسرے دن ختم ہو گیا تھا۔

شام کے وقت عرفان نے بہت سے کاغذوں پر اپنا پیغام لکھ کر کھڑکی میں سے باہر پھینکا مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ کاغذ نہ جانے کہاں جا کر گرتے رہے۔ رات کے وقت جب ساجد صاحب کھڑکی میں سے آنے والی مدھم چاندنی کی مدد سے سب کو تھوڑا تھوڑا پانی تقسیم کر رہے تھے تو عرفان نے کہا:
”ابو! ذرا پانی اور ڈال دیں۔“

”نہیں، اور پانی نہیں مل سکتا۔“

”ابو! حلق میں کانٹے اگ آئے ہیں۔ بارہ گھنٹے پہلے ایک گھونٹ پانی پیا تھا۔“

”مجبوری ہے بیٹا!“

”ابو! تھوڑا سا اور پانی….. صرف تھوڑا سا۔“

”نہیں جی۔“

”ایک قطرہ….. صرف ایک قطرہ۔“

”قطرہ قطرہ قلزم بنتا ہے اور ہمارے پاس جو قلزم ہے اس کی مقدار بہت محدود ہے۔ سوری۔“

نعمت خداوندی کی قدر اب عرفان کو معلوم ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ ایک ایک قطرہ مانگ رہا تھا، ایک ایک بوند کے لیے تڑپ رہا تھا۔

ان چاروں نے وہاں وہ دن کیسے کاٹے اور راتیں کیسے گزاریں… اس بات کو اور اس حقیقت کو یہاں الفاظ میں سمونا ممکن نہیں۔ بس صبح شام وہ ایک ایک گھونٹ پیتے تھے، وہ بھی بہت چھوٹا سا۔ یعنی چسکی لے کر جیتے تھے۔ تین دن ان کے لیے تین سال بن کر گزرے اور جب دفتر کھلا تو وہ نہ بے ہوش پڑے تھے اور نہ ہی ہوش میں تھے۔ بس درمیانی ہی حالت میں مبتلا تھے۔

وہ بات نہیں کر سکتے تھے، صرف بڑبڑا سکتے تھے۔ لوگوں نے انہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچا دیا، جہاں انہیں سارا دن گلوکوز پلایا جاتا رہا۔

اب نہ تو عرفان صاحب پانی پھینک کر لطف اندوز ہوتے ہیں اور نہ ہی مسز ساجد پانی کا نل کھول کر ہنڈیا پکاتی ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe