My Favourite Urdu Verses میرے پسندیدہ اشعار

My Favourite Urdu Verses میرے پسندیدہ اشعار
✦ تعارفی پیرا
ادب کی دنیا میں اشعار محض الفاظ نہیں بلکہ وہ آئینہ ہیں جو انسان کی سوچ، خواب اور جذبات کو روشن کرتے ہیں۔ “میرے پسندیدہ اشعار” میں منتخب کیے گئے یہ مصرعے اور اشعار دراصل ہماری اجتماعی اور انفرادی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا عکاس ہیں۔ ان میں کہیں خودی کی بیداری ہے، کہیں ایمان اور یقین کی طاقت، کہیں حب الوطنی کا ولولہ اور کہیں فکر و آگہی کی روشنی۔ یہ اشعار ایک طرف روح کو جھنجھوڑتے ہیں تو دوسری جانب دل کو حوصلہ اور دماغ کو سمت دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ الفاظ محض شاعری نہیں بلکہ زندہ رہنے، جدوجہد کرنے اور اپنے مقصدِ حیات کو پہچاننے کا پیغام ہیں۔
Introductory Paragraph :
In the world of literature, poetry is not merely a collection of words but a mirror that illuminates human thoughts, dreams, and emotions. The verses selected in “My Favorite Poems” reflect different aspects of our collective and individual lives. Within them lies the awakening of selfhood, the power of faith and conviction, the passion of patriotism, and the light of awareness and reflection. These verses not only stir the soul but also give courage to the heart and direction to the mind. Truly, these words are not just poetry—they are a message of living with purpose, striving with determination, and discovering the true meaning of life.
✦ اشعار
ان کی مہک نے دل کے نیچے کھلا دیے ہیں
جس راہ چل دیئے ہیں کوچے بسا دیے ہیں
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
یه روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانه
سبھی بیدار ہیں، انساں اگر بیدار ہو جائے
دیکھا جو زندگی کے تماشے کو غور سے
ہر آدمی میں اور کئی آدمی ملے
زبان سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ضرب ہے کاری
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر!
ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو
ایسا چلن چلو کہ زمانہ مثال دے
اس پاک سرزمین کے نقش و نگار دیکھ
اپنے چمن کو دیکھ چمن کی بہار دیکھ
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پر دم ہے اگر تو تو نہیں خطرہ افتاد
اونچا رکھنا نام وطن کا کرنا دل سے پیار
اس کی خاطر سب کچھ سہنا جان بھی دینا وار
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
مرے پختہ ارادے خود مری تقدیر بدلیں گے
مری قسمت نہیں محتاج ہاتھوں کی لکیروں کی
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے
کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
اپنی مٹی پر چلنے کا قرینہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاه مسلماں کو تلوار کر دے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
✦ مجموعی تبصرہ
یہ تمام اشعار دراصل فکر و آگہی، خودی اور خودداری، عزم و حوصلے، اور ایمان و عمل کی اہمیت کا پیغام دیتے ہیں۔ ان میں ہمیں خوشبو کی لطافت سے لے کر قوموں کی تقدیر تک، اور فرد کی خودشناسی سے لے کر ملت کے ربط و اتحاد تک ہر پہلو جھلکتا نظر آتا ہے۔ کچھ اشعار میں عشقِ وطن اور قربانی کا ولولہ ہے، کچھ میں خودی اور خود اعتمادی کی بیداری کا ذکر ہے، اور کچھ میں مقصدِ حیات کی تلاش اور ایمان کی طاقت کی یاد دہانی۔ یہ کلام ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ اصل طاقت یقین، عمل اور کردار میں ہے، اور یہی وہ عناصر ہیں جو فرد کو سربلند کرتے ہیں اور قوم کو زندہ رکھتے ہیں۔ ان اشعار کا مشترکہ پیغام یہی ہے کہ انسان کو اپنی اصل پہچان خودی، ایمان اور کردار سے تلاش کرنی چاہیے، کیونکہ یہی سرچشمہ ہے کامیابی اور عزت کا۔
✦ Overall Commentary
These verses, in essence, convey a message of thought and awareness, selfhood and dignity, determination and courage, as well as the importance of faith and action. Within them, we find reflections ranging from the delicacy of fragrance to the destiny of nations, and from individual self-realization to the collective unity of a community. Some verses evoke the passion of patriotism and sacrifice, others emphasize the awakening of selfhood and confidence, while still others remind us of the pursuit of life’s true purpose and the strength of faith. This poetry teaches us that real power lies in conviction, action, and character—elements that elevate individuals and sustain nations. The shared message of these verses is that a person must discover their true identity through selfhood, faith, and character, for these are the very sources of success and honor.


