Islamabad Poem By Nasir Zaidi
نظم اسلام آباد از ناصر زیدی


اسلام آباد
از: ناصر زیدی
خوشبوؤں میں بسا ہوا ہے یہ
ہر طرف سے ہرا بھرا ہے یہ
پہاڑوں کے بیچ ہے آباد
بسنے والے یہاں بہت ہیں شاد
شہر کا شہر دل ربا ہے بہت
اس کا انداز ہی جدا ہے بہت
مارگلہ ہے پرفضا سا مقام
شکر پڑیاں کا بھی بہت ہے نام
ایک مسجد ہے مسجدِ فیصل
جس کا ثانی کہیں پہ آج نہ کل
گلیاں روشن ہیں، شاہراہیں خوب
ہیں اکابر کے نام سے منسوب
پارک اک فاطمہ جناح ہے یہاں
خوبیاں اس کی کس طرح ہوں بیاں
یہ رُخِ ارض پر حسیں تِل ہے
مُلک ہے جسم اور یہ دِل ہے
اسلام آباد – ایک دلکش شہر پر ایک ادبی تخلیق
اسلام آباد پاکستان کا دل ہے، ایک ایسا شہر جو نہ صرف اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے منفرد ہے بلکہ اپنی فضا، قدرتی خوبصورتی، اور دلنشین ماحول کے باعث ہر دل میں اترتا ہے۔ ناصر زیدی کی یہ نظم “اسلام آباد” اس شہر کی روحانی اور فطری خوبصورتی کو بیان کرنے کی ایک شاندار کاوش ہے۔ شاعر نے نہایت سادگی مگر گہری معنویت کے ساتھ ان پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جو اسلام آباد کو دنیا کے خوبصورت شہروں میں نمایاں کرتے ہیں۔
نظم کا آغاز شہر کی خوشبو اور ہریالی سے ہوتا ہے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ اسلام آباد خوشبوؤں میں بسا ہوا ہے اور چاروں طرف سے سرسبز و شاداب ہے۔ یہ ابتدائی مصرعے قاری کو شہر کے فطری حسن کی جھلک دکھاتے ہیں۔ اسلام آباد واقعی ایسا شہر ہے جو اپنے دلفریب ماحول اور صاف ستھری فضا کے باعث سب کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
آگے چل کر شاعر پہاڑوں کے درمیان بسے ہوئے اس شہر کا ذکر کرتے ہیں۔ مارگلہ پہاڑیاں اسلام آباد کی پہچان ہیں۔ یہ پہاڑیاں نہ صرف شہر کو فطری حسن بخشتی ہیں بلکہ یہ سیاحوں کے لیے کشش کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ شاعر نے ان پہاڑوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ شہر میں بسنے والوں کی خوشی اور شادمانی کو بھی نظم کا حصہ بنایا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ شہر اپنی دلکشی کے ساتھ ساتھ اپنی پرامن اور خوشگوار زندگی کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔
نظم کا سب سے خوبصورت حصہ وہ ہے جہاں شاعر فیصل مسجد کا ذکر کرتے ہیں۔ فیصل مسجد پاکستان کی عظیم اسلامی شناختوں میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد اپنی منفرد طرزِ تعمیر، عظمت اور شان کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔ شاعر نے اسے ایک ایسی مسجد کہا ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ جملہ اسلام آباد کی مذہبی اور روحانی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
شاعر گلیوں اور شاہراہوں کا ذکر بھی کرتے ہیں جو اکابرین کے ناموں سے منسوب ہیں۔ یہ پہلو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد محض ایک جدید شہر نہیں بلکہ ایک ایسا مقام ہے جو اپنی تاریخی اور فکری وراثت سے جڑا ہوا ہے۔ شاہراہوں کے یہ نام آنے والی نسلوں کو اُن شخصیات کی یاد دلاتے رہتے ہیں جنہوں نے پاکستان کی ترقی اور بقا کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں۔
نظم میں پارک فاطمہ جناح کا ذکر بھی موجود ہے جو اسلام آباد کی سب سے خوبصورت تفریح گاہوں میں سے ایک ہے۔ شاعر نے نہایت لطافت کے ساتھ پارک کی دلکشی کو بیان کیا ہے، گویا کہ یہ شہر کا ایک لازمی جزو ہے۔
آخر میں شاعر نے اسلام آباد کو “ارض کے رخ پر حسین تل” اور “ملک کے جسم کا دل” قرار دیا ہے۔ یہ مصرعے نظم کا نچوڑ ہیں۔ اسلام آباد واقعی پاکستان کا دل ہے جو اپنی خوبصورتی، جدیدیت، قدرتی فضا اور امن کی علامت ہے۔ یہ نظم صرف شہر کی تعریف نہیں بلکہ پاکستان کے تشخص اور فطری حسن کی علامت بھی ہے۔
ناصر زیدی نے اس نظم کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ شاعری صرف جذبات یا رومانی کیفیات کا اظہار نہیں بلکہ شہروں اور مقامات کی تعریف و تفسیر بھی شاعری کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ اسلام آباد جیسا شہر یقیناً اس ادبی عقیدت کا مستحق ہے۔
Islamabad – A Literary Creation on a Captivating City
Islamabad is the heart of Pakistan—a city that is not only unique in its geographical setting but also enchanting for its atmosphere, natural beauty, and serene environment that touches every soul. Nasir Zaidi’s poem “Islamabad” is a remarkable attempt to capture the spiritual and natural essence of this city. With simplicity yet profound depth, the poet highlights those aspects that make Islamabad stand among the world’s most beautiful cities.
The poem opens with imagery of fragrance and greenery. The poet describes how Islamabad is immersed in fragrance and surrounded by lush green landscapes. These opening verses give the reader a glimpse of the city’s natural charm. Indeed, Islamabad is a city that attracts everyone with its refreshing environment and clean air.
Moving further, the poet mentions the mountains that embrace the city. The Margalla Hills are the hallmark of Islamabad. They not only bestow natural beauty upon the city but also serve as a great attraction for tourists. Alongside the hills, the poet weaves in the joy and contentment of its residents, reflecting that this city is not only appealing but also known for its peaceful and delightful way of life.
Perhaps the most captivating part of the poem is the mention of the Faisal Mosque. The mosque stands as one of Pakistan’s greatest Islamic landmarks. Known worldwide for its unique architectural design, grandeur, and glory, the poet describes it as a mosque “without equal.” This line underscores Islamabad’s religious and spiritual significance.
The poet also recalls the streets and boulevards named after great leaders and thinkers. This element shows that Islamabad is not merely a modern city but also a place rooted in historical and intellectual heritage. The names of these roads serve as reminders for future generations of the personalities who devoted their lives to Pakistan’s survival and progress.
Another highlight is the reference to Fatima Jinnah Park—one of the most beautiful recreational spaces in Islamabad. With gentle expression, the poet portrays its charm as if it is an essential part of the city’s identity.
In the concluding verses, the poet calls Islamabad “a beautiful mole on the face of the earth” and “the heart of the nation’s body.” These lines encapsulate the essence of the poem. Islamabad truly is the heart of Pakistan, symbolizing beauty, modernity, natural grace, and peace. The poem, therefore, is not only an ode to the city but also a symbolic reflection of Pakistan’s identity and natural grandeur.
Through this poem, Nasir Zaidi demonstrates that poetry is not confined to emotions or romantic sentiments; it can also celebrate cities and places through artistic expression. A city like Islamabad undoubtedly deserves this kind of literary tribute.


