Sunday, November 30, 2025
HomeHunting StoriesBarfani Bheriyon Kay Saaye Shikaaryat Series Story 3

Barfani Bheriyon Kay Saaye Shikaaryat Series Story 3

Barfani Bheriyon Kay Saaye Shikaaryat Series Story 3

By Hassaan Ahmad Awan

Barfani Bheriyon Kay Saaye Shikaaryat Series Story 3 Click Here to Listen this story in Audio : 

برفانی بھیڑیوں کے سائے

تحریر: حسّان احمداعوان

باب اوّل: سفید موت کا گاؤں

سرد ہوا برف کے ذروں کے ساتھ رقص کر رہی تھی۔ شمالی وادی “درگال” کے پہاڑ، رات کے اندھیرے میں ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی دیو ہیکل کے سفید کندھے ہوں۔ وادی میں بسنے والے لوگوں نے گھروں کے دروازے اندر سے بند کر لیے تھے، کیونکہ پچھلے تین دنوں سے کچھ ایسا ہو رہا تھا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

گاؤں کے چرواہے اپنی بھیڑیں چرا کر واپس نہیں لوٹے۔ صبح جب تلاش کی گئی تو صرف خون سے رنگی برف ملی، اور قدموں کے نشانات جنہیں دیکھ کر گاؤں کے بزرگوں نے سر جھکا لیے —
“یہ نشان انسان کے نہیں… بھیڑیے کے ہیں۔ مگر یہ عام بھیڑیا نہیں!”

یہ خبر لاہور کے ایک معروف ماہر حیوانات ڈاکٹر سلیم تک پہنچی، جنہوں نے فوراً اپنے پرانے دوست سلاّر غازی سے رابطہ کیا۔

“غازی! شمال کی برفانی وادی میں عجیب واقعات ہو رہے ہیں۔ تین چرواہے غائب، بیس سے زائد بھیڑیں پھاڑ دی گئیں۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ حملے کے نشانات قدرتی نہیں لگتے۔ کوئی بات ہے جو ان سب کے پیچھے چھپی ہے۔”

سلاّر غازی نے لمحہ بھر توقف کے بعد سگریٹ کی راکھ جھاڑی۔
“ڈاکٹر صاحب، جب بھیڑیے فطرت کے خلاف کام کریں، تو ان کے پیچھے انسان کا دماغ ہوتا ہے۔”

اسی لمحے دروازہ کھلا اور کاشف بلوچ اندر آیا، برف سے لت پت کوٹ اتارتے ہوئے۔
“غازی بھائی! گاڑی تیار ہے۔ اگر آپ کہیں تو رات ہی نکل چلیں۔”

غازی نے مسکرا کر سگریٹ بجھایا۔
“چلو کاشف، شکار شروع ہو چکا ہے۔ مگر اس بار، شکاری شاید ہم ہوں — اور شکار کوئی اور۔”

باب دوم: برف میں چھپی لاش

وادی درگال پہنچنے تک سورج غروب ہو چکا تھا۔ برفانی ہوا چہروں کو کاٹتی ہوئی گزرتی تھی۔ ان تینوں نے ایک پرانے گیسٹ ہاؤس میں پناہ لی جہاں پہلے فوجی افسران قیام کیا کرتے تھے۔

رات کے پہلے پہر دروازے پر ہلکی دستک ہوئی۔ غازی چونک کر اٹھا۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک جوان لڑکی کھڑی تھی — چہرے پر ڈر اور ہونٹوں پر سوال۔
“آپ لوگ باہر سے آئے ہیں؟”

“جی، میں سلاّر غازی ہوں، یہ ڈاکٹر سلیم اور کاشف بلوچ۔ آپ کون؟”

“میں صوفیہ خان، لاہور کے ایک اخبار کی رپورٹر۔ میں ان واقعات کی تحقیق کے لیے آئی ہوں۔ مگر اب یہاں ہر کوئی خوفزدہ ہے۔ دو گاؤں والے صبح برف میں مردہ ملے ہیں۔ جسموں پر پنجوں کے نشان تو ہیں، مگر… مگر خون کہیں نہیں!”

ڈاکٹر سلیم نے چونک کر کہا، “یہ ممکن نہیں! اگر حملہ جانور کا ہو تو خون ضرور نکلتا ہے۔”

صوفیہ نے سر ہلایا۔
“اسی لیے میں یہاں ہوں، ڈاکٹر صاحب۔ یہ کسی جانور کا کام نہیں لگتا۔ بلکہ کوئی ایسا ذہین مجرم ہے جو ان واقعات کو بھیڑیوں کے سر ڈالنا چاہتا ہے۔”

اسی وقت باہر سے زوردار چیخ سنائی دی۔ سب دوڑتے ہوئے باہر نکلے۔
برف کے ڈھیر کے نیچے سے انسانی ہاتھ جھانک رہا تھا۔

کاشف نے کانپتے ہوئے برف ہٹائی۔
“یا اللہ خیر… یہ تو فاروق چرواہا ہے!”

ڈاکٹر سلیم نے لاش کا معائنہ کیا۔
“یہ زہر سے مرا ہے… کسی طاقتور نیورولاجیکل زہر سے۔ لیکن پنجوں کے نشان کیوں بنائے گئے؟”

سلاّر غازی نے برف کے نشانوں کو غور سے دیکھا۔
“یہ پنجوں کے نشان جعلی ہیں۔ کسی دھات یا جوتے سے بنائے گئے ہیں۔ اور یہ کھیل کسی بڑے شکاری کا ہے… شاید وہی، جس سے ہمارا پچھلا سامنا ہوا تھا — کلیار خان!”

باب سوم: کلیار خان کا سایہ

صبح سورج کی مدھم روشنی برف پر پھیل چکی تھی۔ صوفیہ اخبار کے لیے تصاویر لے رہی تھی کہ اچانک پہاڑی کے دامن میں ایک جیپ رکی۔ اس میں سے ایک لمبا، دبلا، کالے کوٹ میں ملبوس شخص اترا۔

“السلام علیکم، سلاّر غازی!”
یہ آواز کسی گونج کی طرح چاروں طرف پھیل گئی۔

غازی نے پلٹ کر دیکھا — کلیار خان۔ وہی شکاری، جو کبھی غازی کا دشمن اور کبھی اس کا سایہ بن کر سامنے آتا۔

“کلیار خان!” غازی کے لبوں سے نکلا۔ “میں جانتا تھا، یہ سب تمہارا ہی کھیل ہے۔”

کلیار خان نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔
“نہیں غازی، میں یہاں تمہاری مدد کرنے آیا ہوں۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ یہ وادی اب فطرت کی نہیں رہی۔ کوئی انسان نہیں — بلکہ ایک تجربہ، ایک خوفناک تجربہ، یہاں آزاد پھر رہا ہے۔”

ڈاکٹر سلیم نے کہا، “کیا مطلب؟”

“میں تمہیں ابھی سب نہیں بتا سکتا۔ بس اتنا جان لو کہ اگر تم نے آج رات برفانی گھاٹی کی طرف قدم رکھا تو شاید واپس نہ آ سکو۔”

غازی نے مسکرا کر جواب دیا،
“شکار جب شروع ہو جائے تو شکاری کو انجام کی پرواہ نہیں رہتی، کلیار۔ ہم وہیں جائیں گے جہاں سائے سب سے گہرے ہیں۔”

کلیار نے سگریٹ سلگایا، دھواں ہوا میں چھوڑا اور بولا،
“ٹھیک ہے غازی… پھر یاد رکھنا، برف میں چھپے بھیڑیے صرف درندے نہیں — تجربہ گاہ کے بھوت ہیں۔”

باب چہارم: گھاٹی کے اندر

رات کے تیسرے پہر، سلاّر، کاشف، ڈاکٹر سلیم اور صوفیہ نے برفانی گھاٹی کی سمت سفر شروع کیا۔ راستہ تنگ اور خطرناک تھا۔ نیچے برف کے نیچے گہری کھائیاں تھیں، اور اوپر درختوں پر برف کے تودے۔

اچانک، کچھ حرکت ہوئی۔ کاشف نے ٹارچ جلائی تو دو آنکھیں اندھیرے میں چمکیں۔
“غازی بھائی! وہ رہا بھیڑیا!”

غازی نے رائفل اٹھائی۔ مگر ڈاکٹر سلیم نے ہاتھ روک دیا۔
“رکو! یہ عام بھیڑیا نہیں۔ دیکھو اس کے جسم پر نشانات… جیسے کسی تجربے کا نتیجہ ہوں۔”

بھیڑیا غرایا، مگر بھاگا نہیں۔ وہ جیسے کسی حکم کا منتظر تھا۔ اور پھر اچانک، برف کے پیچھے سے دو اور بھیڑیے نکلے — ہر ایک کے گلے میں دھات کی پٹّی بندھی ہوئی تھی۔

صوفیہ نے خوف زدہ آواز میں کہا، “یہ تو جیسے… مصنوعی جانور ہیں!”

غازی نے دھیرے سے بندوق کی نالی سیدھی کی۔
“نہیں صوفیہ، یہ مصنوعی نہیں — یہ کسی انسان کی بربریت کا ثبوت ہیں۔”

اور پھر اندھیرے میں، کسی کی ہنسی گونجی — وہی مانوس، زہریلی ہنسی۔
“میں نے کہا تھا نا غازی… یہ شکار تمہاری زندگی کا آخری شکار ہوگا۔”

آواز گھاٹی کی گہرائیوں میں گونجتی چلی گئی۔

(حصہ دوم)

باب پنجم: برف کے نیچے دوزخ

وادی درگال کی گھاٹی میں خاموشی کسی کفن کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ رات کا چاند برف پر سفید موت کی چادر بچھا رہا تھا۔
سلاّر غازی، کاشف، ڈاکٹر سلیم اور صوفیہ آہستہ آہستہ گھاٹی کے دامن تک پہنچے جہاں ایک چھوٹا سا راستہ نیچے کسی زیرِزمین سرنگ کی طرف جا رہا تھا۔

غازی نے برف ہٹا کر دیکھا، وہاں ایک زنگ آلود دھاتی دروازہ تھا۔
“یہ کوئی فوجی بنکر لگتا ہے، شاید پرانی جنگ کا۔”

ڈاکٹر سلیم نے دروازے پر ہاتھ رکھا۔ “دروازہ اندر سے بند ہے۔ مگر دیکھو… یہاں بجلی کا کنکشن ہے۔ مطلب کوئی اب بھی یہاں رہتا ہے۔”

اسی لمحے ہوا میں گولی کی آواز گونجی۔ گولی برف پر لگی اور دھواں اٹھا۔
کاشف نے فوراً جھک کر کہا، “غازی بھائی! کوئی ہمیں اوپر سے نشانہ بنا رہا ہے!”

غازی نے دوربین نکالی۔ “وہ پہاڑی کے کنارے پر ہے… نقاب پہنے شخص۔”
پھر ایک لمحے میں اس نے رائفل سنبھالی، نشانہ لیا اور فائر کیا۔ نقاب پوش کی چیخ گھاٹی میں گونجی اور وہ برف کے پیچھے گرا۔

چند لمحوں بعد وہ لوگ زیرِ زمین راستے میں اتر گئے۔ اندر کی فضا میں عجیب سی بو تھی — جیسے دوا، خون اور زنگ کا امتزاج ہو۔

ڈاکٹر سلیم نے دیوار پر لگی شیشی دیکھی۔
“یہ تو… حیوانی سیرم ہے! کوئی ان جانوروں پر جینیاتی تجربے کر رہا تھا۔”

غازی نے سرد لہجے میں کہا،
“اب سمجھ آیا، کلیار خان کا اشارہ کیا تھا۔ کوئی پاگل سائنسدان، یا شاید وہ خود، ان بھیڑیوں کو مصنوعی درندے بنا رہا ہے۔ مگر کیوں؟”

صوفیہ نے دھیرے سے کہا،
“شاید… انسانی خوف کو قابو میں لانے کے لیے۔ اگر تم برف میں بھیڑیے پیدا کر سکتے ہو، تو تم خدا بننے کی کوشش کر رہے ہو، غازی!”

غازی نے سگریٹ سلگایا۔
“اور خدا بننے والے اکثر اپنے ہی بنائے دوزخ میں جل جاتے ہیں…”

باب ششم: قید خانہ

صبح سورج ابھی افق پر نہیں نکلا تھا کہ سلاّر غازی، کاشف اور ڈاکٹر سلیم نے اس بنکر کا اگلا حصہ دیکھا۔ اندر شیشے کے بڑے بڑے خانے تھے، جیسے کسی لیبارٹری کے پنجرے۔
ایک خانے میں ایک سفید بھیڑیا موجود تھا — مگر اس کی آنکھوں میں سرخی کی بجائے نیلی روشنی تھی۔

ڈاکٹر سلیم نے لرزتی آواز میں کہا،
“یہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مخلوق ہے… دماغ میں چپ لگائی گئی ہے۔ یہ خود سوچ نہیں سکتا، صرف حکم پر عمل کرتا ہے!”

صوفیہ نے ریکارڈر آن کیا، “کسی کو تو یہ دنیا دکھانی ہوگی، ڈاکٹر صاحب۔”

اسی وقت پچھلی سمت سے قدموں کی آواز آئی۔ دروازہ دھیرے سے کھلا —
کمرے میں کلیار خان داخل ہوا، ہاتھ میں گن اور چہرے پر وہی پراسرار مسکراہٹ۔

“تو تم پہنچ ہی گئے، غازی! میں چاہتا تھا کہ تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھو، انسان اور درندے کے درمیان کی لکیر کتنی باریک ہے۔”

غازی آگے بڑھا۔ “یہ تمہارا کارنامہ ہے، کلیار؟ معصوم انسانوں اور جانوروں پر تجربے؟”

کلیار ہنس پڑا۔ “معصوم؟ غازی! جنگوں میں معصوم کوئی نہیں ہوتا۔ میں ایک نئی نسل پیدا کر رہا ہوں — جو انسانوں سے طاقتور، مگر قابو میں ہو۔”

صوفیہ نے چیختے ہوئے کہا، “یہ جرم ہے، سائنس نہیں!”

کلیار نے گن کا رخ اس کی طرف کیا۔ “صحافت ہمیشہ سچ کو مہنگا بناتی ہے، محترمہ۔ تم زندہ رہو یا نہیں، فرق نہیں پڑتا۔”

غازی نے لمحے بھر میں حرکت کی۔ اس نے ایک کرسی اٹھا کر کلیار کے ہاتھ پر دے ماری۔ گولی چھت میں لگی، کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔
“دوڑو!” غازی چلایا۔ سب دروازے کی طرف بھاگے۔

پیچھے کلیار کی آواز گونج رہی تھی،
“تم بھاگ سکتے ہو، مگر ان درندوں کو کون روکے گا؟!”

باب ہفتم: برفانی قلعہ

وادی کے سب سے اونچے حصے میں ایک قلعہ نما عمارت تھی — پتھروں اور برف سے بنی ہوئی، جیسے کسی صدی پرانی سلطنت کا کھنڈر۔
غازی اور اس کے ساتھی وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہی اصل مرکز ہے۔

کاشف نے دروازے پر ہاتھ مارا۔ “یہ قلعہ اندر سے بند ہے۔”
غازی نے آہستگی سے کہا، “پھر ہم اسے بند ہونے کا افسوس نہیں ہونے دیں گے۔ کاشف، وہ دھماکہ خیز مواد نکالو۔”

چند لمحوں بعد دھماکے سے دروازہ اڑ گیا۔ اندر ایک ہال میں سینکڑوں شیشے کے سلنڈر رکھے تھے۔ ہر ایک میں کسی نہ کسی جانور کا نیم مردہ جسم تیر رہا تھا۔

ڈاکٹر سلیم نے بمشکل بولتے ہوئے کہا،
“یہ کسی پاگل سائنسدان کا کام نہیں لگتا، یہ منصوبہ فوجی نوعیت کا ہے۔ شاید کلیار خان کسی تنظیم کے لیے کام کر رہا ہو۔”

غازی نے گہری نظر سے کہا،
“یا شاید تنظیم کلیار خان کے لیے کام کر رہی ہے۔”

اچانک ایک سائرن بجا۔ لال بتی جل اٹھی۔
کاشف نے گھبرا کر پوچھا، “غازی بھائی! اب کیا کریں؟”

غازی نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
“اب شکار ختم ہونے والا ہے۔ مگر شکاری کون ہے، یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔”

اچانک دیوار کے پیچھے سے کلیار خان نمودار ہوا — اس بار مکمل فوجی لباس میں۔
“تم میرے کھیل میں آ گئے، غازی۔ اب دیکھو، کس کا دماغ زیادہ تیز ہے — تمہارا یا میرے درندوں کا۔”

اُس نے بٹن دبایا۔ پورا ہال لرز اٹھا۔ برف کے پنجرے کھل گئے، اور درجنوں برفانی بھیڑیے باہر نکل آئے۔

غازی نے اپنی بندوق کا سیکیورٹی کیچ کھولا۔
“چلو کاشف… اب انسان اور درندے کا آخری مقابلہ ہونے والا ہے!”

باب ہشتم: خون اور برف کا فیصلہ

گھاٹی لرز رہی تھی۔ گولیوں اور درندوں کی آوازیں برف میں گونج رہی تھیں۔
صوفیہ ایک کونے میں جھک کر زخمی کاشف کی پٹی کر رہی تھی۔ ڈاکٹر سلیم مشینوں کو بند کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔

غازی ایک دیوار کے پیچھے چھپا، اور جیسے ہی ایک بھیڑیا لپکا، اس نے نشانہ سیدھا اس کے ماتھے پر لگایا۔
“ایک کم ہوا…” وہ بڑبڑایا۔

کلیار خان اوپر کی گیلری سے چیخا، “یہ سب بے فائدہ ہے غازی! یہ درندے خودکار ہیں — تمہیں کبھی ختم نہیں کر سکیں گے کیونکہ وہ تمہارے دماغ کے سگنل پر ردِعمل دیتے ہیں!”

غازی چونکا۔ “میرے دماغ کے سگنل؟ تم پاگل ہو!”

کلیار مسکرایا۔ “تمہیں یاد ہے، ایک سال پہلے جب میں نے تمہیں مارنے کی کوشش کی تھی؟ تب تمہارا سر زخمی ہوا تھا… میں نے تبھی تمہارے اندر ایک مائیکرو چپ لگا دی تھی۔ اب یہ سب تمہارے دماغ کے تابع ہیں۔ جتنی تم مزاحمت کرو گے، اتنے یہ درندے وحشی بنیں گے!”

صوفیہ نے چیختے ہوئے کہا، “غازی! اسے ختم کرو، ورنہ یہ سب تمہیں مار ڈالیں گے!”

غازی نے لمحہ بھر سوچا، پھر رائفل نیچے رکھی، اور آہستہ آہستہ کلیار کی طرف بڑھا۔
“تم ٹھیک کہتے ہو کلیار… انسان اور درندے میں فرق ختم ہو گیا ہے۔”

کلیار نے طنزیہ ہنسی ہنسی۔ “بالآخر مان ہی گئے؟”

غازی نے دھیرے سے سگریٹ سلگایا۔
“ہاں… مگر تم بھول گئے، درندے صرف جسم سے نہیں، نیت سے پہچانے جاتے ہیں۔”

اور پھر اس نے سگریٹ نیچے پھینکا — وہ ایک چھوٹا سا دھماکہ خیز آلہ تھا۔ لمحوں میں آگ بھڑک اٹھی، مشینیں پھٹ گئیں، اور درندے زمین پر گرتے چلے گئے۔

کلیار نے چیختے ہوئے بھاگنے کی کوشش کی، مگر دھماکے کی لپیٹ میں آ گیا۔

صبح جب دھواں چھٹا، تو وادی درگال پر دوبارہ خاموشی چھا چکی تھی۔ برف پر لال نشان تھے، مگر ہوا میں سکون تھا۔

صوفیہ نے آہستگی سے کہا،
“یہ سب ختم ہو گیا…؟”

غازی نے سرد لہجے میں کہا،
“نہیں صوفیہ، جب تک انسان خود کو خدا سمجھتا رہے گا، برفانی بھیڑیے ہمیشہ واپس آئیں گے…”

باب نہم: وادی زہراب کا راز

اسلام آباد کی سرد صبح تھی۔ خنک ہوا کے ساتھ دھند جیسے شہر کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھی۔ سلاّر غازی کافی کا کپ ہاتھ میں لیے لان میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔
صفحہ اوّل پر ایک بڑی سرخی چمک رہی تھی —
وادی درگال میں غیر قانونی تجربات کا انکشاف — ایک خاتون صحافی کی سنسنی خیز رپورٹ!”

غازی کے چہرے پر ایک ہلکی مسکراہٹ ابھری۔
“تو صوفیہ نے کر دکھایا…”

کاشف ہاتھ میں موبائل لیے باہر آیا۔
“غازی بھائی، آپ نے یہ دیکھا؟ ڈاکٹر سلیم کا فون آیا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ رپورٹ چھپنے کے بعد کئی غیر ملکی ایجنسیاں حرکت میں آ گئی ہیں۔”

غازی نے گہری سانس لی۔
“میں جانتا تھا، کلیار خان کے پیچھے کوئی عالمی نیٹ ورک ہے۔ اب وہ چھپے گا نہیں۔”

اسی لمحے صوفیہ کا فون آیا۔
“غازی، تمہیں فوراً وادی زہراب آنا ہوگا۔ یہ سب ختم نہیں ہوا۔ ایک نیا گروہ فعال ہو گیا ہے۔ کلیار خان… شاید زندہ ہے!”

غازی کی آنکھوں میں ایک چمک سی دوڑی۔
“صوفیہ، تم کہاں ہو؟”
“زہراب کے پرانے چرچ میں۔ مگر احتیاط کرنا، یہاں ہر چہرہ مشکوک ہے۔”

غازی نے بندوق کیس میں ڈالا، کاشف اور ڈاکٹر سلیم کو ساتھ لیا۔
“وقت آ گیا ہے دوبارہ شکار کے میدان میں اترنے کا… مگر اس بار شکار شاید ہم خود ہوں گے۔”

باب دہم: پرانا چرچ

وادی زہراب میں شام اتر چکی تھی۔ برفانی ہوا میں ایک خوفناک سناٹا تھا۔ چرچ کی شکستہ عمارت کے گرد بوسیدہ قبریں اور ٹوٹے ہوئے صلیب کے نشان بکھرے تھے۔
غازی نے گاڑی رکی، کاشف نے کہا،
“یہ جگہ تو کسی بھوت بنگلے جیسی لگ رہی ہے، غازی بھائی۔”

غازی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“کبھی کبھی بھوتوں کے پیچھے زندہ انسان چھپے ہوتے ہیں، کاشف۔”

اندر داخل ہوتے ہی صوفیہ نظر آئی — مگر اس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے۔
“تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا، کلیار خان کے آدمی ہر جگہ ہیں۔”

ڈاکٹر سلیم نے فائل پکڑی۔ “یہ دیکھو… یہ رپورٹس کسی نئے تجربے کی ہیں۔ شاید کلیار خان نے ’پروجیکٹ اَلفا‘ کے نام سے نیا پروگرام شروع کیا ہے۔”

اچانک چھت سے ایک چیز گری — خون میں بھیگا ہوا ایک آدھا نقشہ۔
غازی نے اسے اٹھایا۔ “یہ وادی زہراب کے نیچے موجود غاروں کا نقشہ ہے۔ یہاں کچھ چھپایا گیا ہے۔”

چرچ کے پیچھے دھیرے دھیرے قدموں کی آواز گونجی۔
کاشف نے کہا، “کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے!”

غازی نے چرچ کی کھڑکی کے پار نظر ڈالی —
دور برف پر ایک سایہ حرکت کر رہا تھا، اور اس کے ساتھ چل رہے تھے دو بھیڑیے
“کلیار خان!” صوفیہ کی زبان سے نکلا۔

غازی نے بندوق لوڈ کی۔ “اب یہ کھیل پرانے چرچ کے سائے میں کھیلا جائے گا… اور انجام کوئی نہیں جانتا!”

باب یازدہم: سرد سائے

چرچ کے پچھلے دروازے سے نکلتے ہی رات نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔
کلیار خان، سیاہ کوٹ میں ملبوس، ہاتھ میں جدید آتشیں ہتھیار لیے کھڑا تھا۔
“میں نے کہا تھا غازی، برف کبھی نہیں پگھلے گی… تم نے اسے خون سے سرخ کر دیا ہے، اب انجام بھگتو!”

غازی نے بندوق سیدھی کی، مگر کلیار پہلے ہی فائر کر چکا تھا۔ گولی غازی کے بازو کو چھوتی ہوئی گزری۔
کاشف نے جوابی فائر کیا، اور ایک پتھر کے پیچھے جا کر پوزیشن لی۔

درندوں کی غراہٹ فضا میں گونج اٹھی۔
صوفیہ نے اپنے کیمرے سے سب کچھ ریکارڈ کرنا شروع کیا۔
“یہ ثبوت ہے، کلیار! تمہارے جرم دنیا کے سامنے آئیں گے!”

کلیار نے قہقہہ لگایا۔
“دنیا؟ صوفیہ خان، دنیا اندھی ہے۔ تمہاری ریکارڈنگ تب تک بیکار ہے جب تک تم زندہ ہو!”

غازی نے موقع دیکھ کر کلیار کے قریب فائر کیا۔ گولی اس کے کندھے میں لگی۔ کلیار زمین پر گرا مگر ہنسا۔
“تم سمجھتے ہو کہ مجھے مار کر سب ختم کر دو گے؟ پروجیکٹ اَلفا اب تمہارے دماغوں میں ہے۔ تم سب میرا حصہ بن چکے ہو!”

غازی نے آگے بڑھ کر کلیار کے کالر سے پکڑا۔
“میں تمہیں انصاف کے حوالے کروں گا، کسی قبر کے نہیں۔”

کلیار نے سرگوشی میں کہا،
“انصاف اندھا ہے غازی… اور تم اسے روشنی دکھانے کی کوشش کر رہے ہو!”

اسی لمحے اس کے ہاتھ میں چھپا ریموٹ چمکا۔ ایک دھماکہ ہوا۔ چرچ کی دیواریں لرز گئیں۔ کلیار دھوئیں میں غائب ہو چکا تھا۔

صوفیہ نے چیخ کر کہا،
“وہ پھر بچ نکلا!”

غازی نے سرد لہجے میں کہا،
“اگر وہ زندہ ہے تو کھیل ابھی باقی ہے…”

باب دوازدہم: آخری پیغام

اگلی صبح، وہ لوگ پہاڑ کی چوٹی پر واقع ایک عارضی کیمپ میں تھے۔
ڈاکٹر سلیم زخموں پر مرہم لگا رہا تھا۔
“غازی، ہمیں واپس جانا ہوگا۔ حکومت اب معاملہ اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے۔”

غازی نے آسمان کی طرف دیکھا۔ “حکومت؟ یہ جنگ اب حکومتوں سے بڑی ہو چکی ہے، ڈاکٹر۔ کلیار جیسے لوگ سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔”

صوفیہ نے لیپ ٹاپ کھولا۔ “میں نے کلیار کے نیٹ ورک کے سرور سے کچھ فائلیں حاصل کی ہیں۔ دیکھو یہ!”
اسکرین پر ایک فائل کھلی —
‘Project Alpha – Phase II – Subject: Human Hybridization (Zahraab Base)’

کاشف نے حیرت سے کہا، “انسانی ہائبرڈ؟ مطلب… وہ انسانوں کو جانوروں کے جینز سے ملا رہا ہے؟”

ڈاکٹر سلیم نے گہری سانس لی۔ “یہ ناقابلِ یقین ہے، مگر ناممکن نہیں۔ وہ قدرت کے نظام کے ساتھ کھیل رہا ہے۔”

غازی نے لیپ ٹاپ بند کیا۔
“تو پھر ہمیں کھیل کے میدان ہی میں اس کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ وادی زہراب اب محض ایک جگہ نہیں، ایک راز ہے — اور یہ راز ہم کھولیں گے۔”

اسی لمحے ایک خفیہ پیغام ریڈیو پر آیا۔
کمانڈر غازی… اگر تم زندہ ہو تو سنو — کلیار خان دوبارہ ظاہر ہوا ہے، اس بار سرحد پار، ہمالیہ کے دامن میں۔

غازی نے مسکراتے ہوئے سگریٹ سلگایا۔
“پھر سفر شروع ہوتا ہے… برف سے برف تک، سائے سے سائے تک۔”

صوفیہ نے آہستگی سے کہا،
“اور شاید… اس بار کہانی ختم نہیں ہوگی، بلکہ تاریخ بن جائے گی۔”

غازی نے کہا —
“شکار کبھی ختم نہیں ہوتا، صوفیہ۔ جب تک دنیا میں ظلم باقی ہے، سالار غازی زندہ رہے گا۔”

باب ۱۳ – برف میں لپٹی حقیقت

ہوا میں برف کے ذرات رقص کر رہے تھے۔ پہاڑی چوٹی کے نیچے وہ قدیم لاج تھا جس کے بارے میں مقامی لوگوں نے کہا تھا کہ یہاں “بھوت بھیڑیے” رہتے ہیں۔ سالار غازی نے دوربین سے عمارت کی طرف دیکھا — کھڑکیوں پر برف جمی تھی، مگر ایک جگہ سے دھوئیں کی لکیر اُٹھ رہی تھی۔

سالار (آہستہ سے): “یہاں کوئی ہے… اور وہ ہمیں دیکھ بھی رہا ہے۔”

کاشف بلوچ: “بھائی جان، یہ دھواں تو صاف بتا رہا ہے کہ کوئی زندہ ہے، لیکن برف میں یہاں تک پہنچنا جان لیوا ہے۔”

ڈاکٹر سلیم نے اپنے بیگ سے تھرمل اسکینر نکالا، مگر سگنل کمزور تھا۔ “یہ آلہ کچھ عجیب دکھا رہا ہے، اندر کم از کم تین گرم اجسام ہیں۔”

صوفیہ خان (سخت لہجے میں): “تو پھر دیر کس بات کی؟ ہمیں وہاں جانا ہوگا۔ شاید انہی کے پاس ان بھیڑیوں کا راز ہو۔”

سالار نے گہری سانس لی۔ “ٹھیک ہے۔ لیکن یاد رکھو، آج سے ہم صرف شکاری نہیں… شکار بھی بن سکتے ہیں۔”

برف میں قدم رکھنا گویا موت کو دعوت دینا تھا۔ ہر قدم کے نیچے برف کے ساتھ ہڈیوں تک سرسراہٹ محسوس ہوتی۔ جب وہ عمارت کے دروازے تک پہنچے، اندر سے چرچراہٹ سنائی دی — جیسے کوئی بوسیدہ لکڑی اپنی آخری سانس لے رہی ہو۔

دروازہ دھکیلتے ہی ایک بدبو کا جھونکا آیا۔ اندر موم بتیاں جل رہی تھیں اور دیواروں پر پرانی پینٹنگز لٹک رہی تھیں — برفانی بھیڑیوں کی۔

کاشف (پریشان ہو کر): “یہ تصویریں… جیسے ہمیں گھور رہی ہوں۔”

کمرے کے آخر میں ایک میز تھی، اور اس پر ایک پرانی ڈائری رکھی تھی۔ سالار نے اس کے سرورق پر انگلی پھیری — پروجیکٹ: فروسٹ وولف۔

ڈاکٹر سلیم نے حیرت سے کہا، “یہ تو کسی سائنسی تجربے کی فائل لگتی ہے!”

اور پھر ایک دھماکہ ہوا۔ دیوار پھٹ گئی، برف کے ساتھ ایک ہیبت ناک سایہ اندر داخل ہوا۔ وہ سایہ — بھیڑیا نہیں، انسان تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں برف کی سفیدی تھی۔

صوفیہ چیخی: “یہ… یہ تو آدھا انسان، آدھا درندہ لگ رہا ہے!”

باب ۱۴ – قاتل کے نشان

کمرے میں اندھیرا پھیل گیا۔ سالار نے بندوق اٹھائی، لیکن وہ مخلوق انسانی رفتار سے دوگنی تیزی سے غائب ہو گئی۔ صرف اس کے پنجوں کے نشان رہ گئے — گہرے، خونی، جیسے برف کو جلا گئے ہوں۔

کاشف (ہانپتے ہوئے): “یہ چیز انسان نہیں ہوسکتی۔”

ڈاکٹر سلیم: “مجھے لگتا ہے، کسی نے جینیاتی تجربات کیے ہیں… انسان اور بھیڑیے کے ڈی این اے کو ملا کر!”

سالار: “تو پھر وہ کون تھا جس نے یہ سب شروع کیا؟”

صوفیہ نے میز پر رکھی فائلیں اٹھائیں۔ ایک کاغذ پر لکھا تھا —
ڈاکٹر کلیار خان، چیف سائنٹسٹ – پروجیکٹ فروسٹ وولف۔

سالار کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ “کلیار خان… وہی خبیث، جس نے پچھلی بار ہمیں دھوکہ دیا تھا۔”

اب سب سمجھ گئے — برفانی بھیڑیوں کی داستان، دراصل کلیار خان کے خطرناک سائنسی منصوبے کا نتیجہ تھی۔ وہ انسانوں کو ایسی مخلوق میں بدل رہا تھا جو سردی، درد اور خوف سے آزاد ہوں — تاکہ انہیں جنگی مقاصد کے لیے استعمال کر سکے۔

کاشف: “بھائی جان، یہ تو شیطان کا کھیل ہے۔”

سالار نے دیوار کی طرف دیکھا جہاں خون سے ایک جملہ لکھا تھا —
تم برف کے بادشاہ کو نہیں روک سکتے۔

“یعنی کلیار خود بھی یہاں ہے!” سالار نے کہا۔
اب شکار کی سمت بدل گئی تھی — درندے نہیں، انسانی پاگل پن کا مقابلہ تھا۔

باب ۱۵ – برف میں تعاقب

رات گہری ہو چکی تھی۔ وہ عمارت چھوڑ کر گھنے برفانی جنگل میں نکلے۔ چاند کی ہلکی روشنی برف پر پڑ رہی تھی، جیسے زمین نے آئینہ اوڑھ رکھا ہو۔ مگر اس خوبصورتی کے نیچے موت چھپی تھی۔

دور سے ایک آواز آئی — ہوا کے ساتھ گھلتی ہوئی، مگر صاف سنائی دینے والی۔

کلیار خان کی آواز: “سالار غازی… تم پھر میرے کھیل میں آگئے ہو۔ اب دیکھتے ہیں، کون زندہ بچتا ہے۔”

اس کے ساتھ ہی اطراف سے برفانی بھیڑیوں کے گروہ نمودار ہوئے۔ آنکھوں میں چمک، جسم برف سے ڈھکا، اور منہ سے سفید بھاپ نکل رہی تھی۔

کاشف: “یہ تو چاروں طرف سے آگئے ہیں!”

سالار (پُرعزم لہجے میں): “کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ سیدھا فائر کرو، ان کے قدموں پر — ان کی طاقت توازن میں ہے!”

گولیوں کی آوازیں برف پر گونجنے لگیں۔ کچھ درندے گر گئے، مگر باقی آگے بڑھتے گئے۔ صوفیہ نے ایک درخت کے پیچھے پناہ لی، اور اپنی کیمرہ ریکارڈنگ آن کی۔ “دنیا کو یہ سب دیکھنا ہوگا۔”

ڈاکٹر سلیم نے ایک فلیئر گن فائر کی — روشنی کے دھماکے سے لمحہ بھر کے لیے سارا منظر روشن ہو گیا، اور انہوں نے دیکھا… کلیار خان دور ایک چٹان پر کھڑا تھا، مسکراتے ہوئے۔

سالار نے چلا کر کہا: “کلیار! کھیل ختم ہوا!”

کلیار: “نہیں غازی… ابھی تو شروع ہوا ہے۔”

باب ۱۶ – برف کا قلعہ

اگلی صبح وہ کلیار کے تعاقب میں برف کے اس قلعے تک پہنچے جو پہاڑ کی گہرائی میں تراشا گیا تھا۔ دروازہ خودکار تھا، اندر داخل ہوتے ہی مشینوں کی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔

ڈاکٹر سلیم (دھیرے سے): “یہ لیبارٹری ہے… مگر فوجی طرز کی۔”

کاشف نے دیوار پر ہاتھ پھیرا، “یہاں ہر چیز برف میں جمی ہوئی ہے، مگر بجلی موجود ہے۔”

ایک کمرے میں سینکڑوں کیپسول قطار میں لگے تھے۔ ان میں نیم مردہ مخلوقات سانس لے رہی تھیں — برفانی بھیڑیے نہیں، انسانوں کے بدلے ہوئے چہرے۔

صوفیہ (کانپتی ہوئی): “کلیار نے انسانیت کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔”

سالار: “اور اب وقت ہے اسے ختم کرنے کا۔”

اچانک الارم بجنے لگا۔ لال بتیوں کے ساتھ کلیار خان کی آواز پورے ہال میں گونجی —
“میں تمہیں روک نہیں سکتا، مگر یاد رکھو… تم بھی اب شکار ہو۔”

زمین ہلنے لگی۔ چھت سے برف کے بڑے ٹکڑے گرنے لگے۔ سالار نے ساتھیوں کو باہر نکالا، مگر پچھلے دروازے سے خود اندر گیا — آخری بار، کلیار خان کا سامنا کرنے۔

اندر کلیار ایک کنٹرول روم میں کھڑا تھا، ہاتھ میں ریموٹ، آنکھوں میں جنون۔

کلیار: “غازی، تم نہیں سمجھتے — میں ایک نئی نسل بنا رہا ہوں!”

سالار (ٹھنڈی آواز میں): “نئی نسل؟ یا نئی لعنت؟”

دونوں کے درمیان ایک لمحے کی خاموشی چھائی، پھر گولی چلی —
برف، روشنی، اور شور میں سب کچھ ڈوب گیا۔

باب ۱۷ – برف کی آگ

سالار غازی کے اردگرد دھواں اور برف کا طوفان تھا۔
کلیار خان فرش پر گرا ہوا ہنس رہا تھا — وہ ہنسی جو پاگل پن سے بھری ہو۔
اس کی دائیں طرف ایک شیشے کا چیمبر ٹوٹ چکا تھا، اور اندر سے نیلے رنگ کا مائع بہہ رہا تھا جو زمین کو جلا رہا تھا۔

سالار (سخت لہجے میں): “یہ سب ختم ہوچکا ہے کلیار۔ تمہارے بھیڑیے، تمہارے تجربے، سب راکھ ہو جائیں گے!”

کلیار نے کھانس کر کہا، “تم نہیں جانتے غازی… یہ آگ برف سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ میں نے اپنی آخری نسل آزاد کر دی ہے۔ وہ انسان نہیں رہے — وہ برف کی آگ ہیں!”

اسی لمحے قلعے کی گہرائی سے زوردار دھماکہ ہوا۔ زمین لرز اٹھی۔
ڈاکٹر سلیم، کاشف اور صوفیہ باہر سے چیخے —
“سالار! باہر آؤ، جگہ گرنے والی ہے!”

سالار نے اپنی بندوق کلیار کے سینے پر تانی۔
“تمہارا کھیل ختم، لیکن یاد رکھو — انسان ہمیشہ درندے سے بڑا شکاری ہوتا ہے!”

اس نے گولی چلائی۔ آواز پہاڑوں سے ٹکرا کر گونجی —
کلیار خان کی کہانی ختم ہوئی… مگر راز ابھی باقی تھا۔

باب ۱۸ – زخم اور زندہ رہنے کی قیمت

دو دن بعد۔
برف پگھلنے لگی تھی۔ سورج نے کئی دن بعد اپنے سنہرے چہرے سے برف کے دامن کو چھوا۔
سالار، کاشف، صوفیہ اور ڈاکٹر سلیم ایک فوجی کیمپ میں بیٹھے تھے، جہاں وہ ریسکیو کے بعد لائے گئے تھے۔

کاشف (گہرے سانس کے ساتھ): “بھائی جان، ہم بچ گئے… مگر وہ قلعہ؟”

سالار: “وہ قلعہ اب برف کے نیچے دفن ہوچکا ہے۔ مگر کچھ باتیں زمین کے ساتھ نہیں مرتیں… وہ یادوں میں زندہ رہتی ہیں۔”

ڈاکٹر سلیم نے اپنی نوٹ بک بند کی۔ “میں نے کلیار کے لیبارٹری سے کچھ ڈی این اے سیمپلز نکالے تھے۔ حیرت کی بات ہے — ان میں انسانی جینز اب بھی متحرک ہیں۔ کوئی تو باقی ہے۔”

صوفیہ (سخت لہجے میں): “کیا تم کہنا چاہ رہے ہو کہ… وہ مخلوقات اب بھی زندہ ہیں؟”

ڈاکٹر نے نظریں جھکائیں۔ “ممکن ہے۔ سائنس کبھی مکمل موت نہیں مانتی۔”

سالار نے خاموشی سے برف کی چوٹیوں کی طرف دیکھا۔
“اگر وہ زندہ ہیں تو یاد رکھو — سالار غازی بھی ابھی زندہ ہے۔”

اس کے لہجے میں وہی عزم، وہی جنگی شعلہ تھا جو کبھی بجھ نہیں سکتا۔

باب ۱۹ – سایوں کی واپسی

کئی ہفتے گزر گئے۔
اسلام آباد میں رات کا وقت تھا۔ ایک پرسکون کیفے میں صوفیہ خان اپنی رپورٹ پر کام کر رہی تھی۔ ٹی وی پر خبر چل رہی تھی —

شمالی علاقوں میں برفانی طوفان کے بعد درجنوں مویشی لاپتہ، مقامی لوگ خوفزدہ، عجیب جانوروں کے نشان برف پر دیکھے گئے۔

صوفیہ کا ہاتھ رک گیا۔
“یہ تو وہی نشان ہیں…” وہ زیرِلب بولی۔

اچانک اس کے فون پر پیغام آیا —

سینڈ: سالار غازی
“صوفیہ، فوراً تیار ہو جاؤ۔ ایک نیا نشان ملا ہے۔ مقام — دریائے چترال کے کنارے۔ وہ واپس آ رہے ہیں۔”

صوفیہ کے چہرے پر خوف اور جوش کا ملا جلا اظہار تھا۔
“یعنی یہ سب ختم نہیں ہوا…”

اسی وقت دور ایک پہاڑ کی چوٹی پر، برفانی ہوا میں ایک سیاہ سایہ حرکت کر رہا تھا۔
دو آنکھیں — نیلے شعلے کی طرح چمکتی ہوئیں۔
کسی نے سرگوشی کی، “غازی… تم نے سمجھا تھا کہ جنگ ختم ہوگئی؟ ابھی تو آغاز ہوا ہے!”

باب ۲۰ – برف کے بادشاہ کی واپسی

چترال کی برفیلی وادی میں رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔
سالار، کاشف، ڈاکٹر سلیم اور صوفیہ ایک جیپ میں دریا کے کنارے پہنچے۔
برف کے درمیان عجیب قدموں کے نشان تھے — انسانی بھی، مگر غیر معمولی بڑے۔

کاشف: “یہ تو جیسے کسی جن کا نشان ہو۔”

سالار: “یہ جن نہیں، کلیار کے تجربے کا بچا ہوا سایہ ہے۔”

ڈاکٹر سلیم نے تھرمل اسکینر اٹھایا۔
“یہ دیکھو! ایک بہت بڑا حرارتی سگنل، قریب ہی حرکت کر رہا ہے۔”

پہاڑی کے پیچھے سے دھند اُٹھی۔ اس دھند میں ایک ہیبت ناک مخلوق نمودار ہوئی —
انسانی جسم، مگر چہرے پر برف کی تہہ، اور آنکھوں میں وہی سفیدی جسے سالار نے قلعے میں دیکھا تھا۔

صوفیہ (دھیمی آواز میں): “یہ وہی ہے… کلیار کے تجربے کا آخری وارث۔”

مخلوق نے دہاڑ ماری، برف اڑنے لگی، درخت ہلنے لگے۔
سالار نے بندوق اٹھائی مگر گولی چلانے سے پہلے رک گیا۔
“نہیں… یہ اب درندہ نہیں، ایک مظلوم روح ہے۔”

وہ آگے بڑھا، آہستہ آہستہ۔ مخلوق کی آنکھوں میں جیسے انسانیت کی جھلک لوٹ آئی۔
سالار نے بندوق زمین پر رکھ دی۔ “میں تمہیں ختم کرنے نہیں آیا، آزاد کرنے آیا ہوں۔”

ایک لمحہ خاموشی چھائی — پھر مخلوق نے آسمان کی طرف چیخ ماری، اور خود کو برف کے گہرے غار میں پھینک دیا۔
زمین ہلکی سی لرز گئی، جیسے قدرت نے اس کا درد سمیٹ لیا ہو۔

کاشف (دھیمی آواز میں): “اب ختم ہوگیا نا بھائی جان؟”

سالار نے آسمان کی طرف دیکھا —
“ختم؟ نہیں کاشف… ہر سایہ کسی نہ کسی روشنی کے انتظار میں ہوتا ہے۔ اور جب روشنی آتی ہے، شکاری پھر نکلتا ہے…”

برف کے ذروں نے سالار کے چہرے کو چھوا، جیسے کوئی وعدہ ہو —
کہ شکاریات ابھی ختم نہیں ہوئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe