Baba Baba Kundi Kholo – Urdu Story by Nazeer Anbalvi
بابا بابا کنڈی کھولو” از نذیر انبالوی”

Click Here To Read In English Language
تین سالہ حمزہ نے کھڑکی سے برآمدے میں جھانکتے ہوئے آواز دی
“پاپا پاپا!”
“جی بیٹا” خالد صاحب نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔
“پاپا ۔۔۔۔۔ پاپا!” حمزہ دوبارہ بولا۔
“بیٹا باہر آجاؤ۔”
“میں نے ماما کے پاس جانا ہے۔ ماما ماما!” یہ کہتے ہوئے حمزہ نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔
اس کے ابو نے حمزہ کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا:
“بیٹا آپ کی ماما ابھی آ جاتی ہیں۔ وہ آپ کی خالہ کے ساتھ بازار سے آپ کے لیے مزے مزے کی چیزیں لینے گئی ہیں۔ آؤ کیلا کھا لو۔”
کیلے کا نام سنتے ہی حمزہ فوراً کمرے سے باہر آ گیا اور برآمدے میں کھیلنے لگا۔ اس کے ابو اخبار پڑھنے میں مگن تھے۔ کچھ ہی دیر بعد ان کے کانوں میں کمرے کے دروازے کی کنڈی لگنے کی آواز آئی۔ وہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھے مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔ حمزہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا۔
“حمزہ بیٹا کنڈی کھولو!” ابو کی آواز سن کر حمزہ نے کنڈی کھولنے کی کوشش تو کی مگر وہ کھلنے کی بجائے مزید بند ہوتی چلی گئی۔ خود کو اندھیرے کمرے میں قید دیکھ کر حمزہ نے رونا شروع کر دیا۔
“پاپا ۔۔۔۔۔۔۔ پاپا۔۔۔۔۔۔۔ ماما۔۔۔۔۔۔ ماما۔۔۔۔۔ پاپا!”
“بیٹا کوشش کرو۔۔۔ شاباش شاباش، کنڈی کھولو۔” یہ کہہ کر اس کے ابو نے دروازے کو زور سے اندر کی طرف دھکیلا مگر لوہے کا دروازہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ ہو سکا۔ حمزہ مسلسل روتا جا رہا تھا۔ اس کے ابو کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں۔
گھر میں فون کی سہولت ہوتی تو وہ کسی کو مدد کے لیے بلا لیتے۔ وہ دفتر سے آئے ہی تھے کہ ان کی بیگم سمیرا اپنی بہن کے ساتھ بازار چلی گئیں۔ وہ حمزہ کو تسلیاں دے کر گھر سے باہر نکلے تاکہ کسی کو مدد کے لیے بلا سکیں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ ایک گھر کے باہر کھڑے دستک دے رہے تھے۔ ایک خاتون نے اندر سے پوچھا:
“کون ہے؟”
“جی میں ہوں خالد۔”
“کون خالد؟”
“میں گلی نمبر 3 میں رہتا ہوں۔ گھر میں اگر کوئی مرد ہے تو اسے باہر بھیج دیں۔”
“گھر میں کوئی مرد نہیں ہے۔” خالد صاحب کا اب یہاں رکنا بے فائدہ تھا۔ پندرہ منٹ ضائع کرنے کے باوجود انہیں کوئی مددگار نہ ملا۔ کمرے کا دروازہ بدستور بند تھا۔ حمزہ کے رونے کی آواز سے ان کا دل بے قابو ہوا جاتا تھا۔ وہ بے بس تھے۔ انہوں نے صحن میں رکھی ایک لوہے کی سلاخ کو دیوانہ وار دروازے پر مارنا شروع کر دیا۔ اس شور سے حمزہ مزید گھبرا گیا۔ اس کے رونے کی آواز بھی بلند ہو گئی۔
“میرے بیٹے چپ ہو جاؤ، میں ابھی دروازہ کھولتا ہوں!” لوہے کی سلاخ کو ایک طرف پھینک کر خالد صاحب نے دروازے کو زور زور سے جھٹکے دینے شروع کیے کہ شاید اس طرح دروازے کی کنڈی کھل جائے۔ مگر کنڈی اتنی مضبوط لگی ہوئی تھی کہ ان کی تمام کوشش کے باوجود دروازہ بند ہی رہا۔ گزرتا ہوا ہر لمحہ ان کی پریشانی میں اضافہ کرتا جا رہا تھا۔ حمزہ کو کمرے میں بند ہوئے آدھ گھنٹہ ہونے کو آیا تھا۔
“حمزہ بیٹا رونا بند کرو، میں بس دروازہ کھولنے ہی والا ہوں!”
بیٹے کو تسلی دینے کے بعد خالد نے اپنی پوری قوت کے ساتھ دروازے کو اندر کی طرف دھکیلا تو اس کا ایک پٹ ذرا سا اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور اتنی جگہ بن گئی کہ باہر کی روشنی باآسانی اندر داخل ہو سکے۔ خالد صاحب نے دروازے سے جھانکتے ہوئے کہا:
“بس بیٹا اب تھوڑی دیر ہے، دروازہ کھلنے ہی والا ہے۔”
وہ دروازے پر مسلسل زور آزمائی میں مصروف تھے۔ ان کی پیشانی سے پسینہ بہہ کر زمین پر گر رہا تھا۔ اپنے بیٹے کی وجہ سے وہ بے حد بے چین تھے۔ وہ اس لمحے مزید تڑپ کر رہ گئے جب حمزہ نے روتے ہوئے کہا:
“پاپا پانی۔۔۔ پاپا پانی!”
“ابھی دیتا ہوں پانی۔” اس کے ابو نے یہ کہہ تو دیا مگر یہ نہ سوچا کہ حمزہ تک پانی پہنچے گا کیسے۔ ان کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا مگر ان کے اور حمزہ کے درمیان لوہے کا مضبوط دروازہ تھا۔ “پاپا پانی۔۔۔ پاپا پانی” کی آواز ان کے دماغ پر ہتھوڑا بن کر برس رہی تھی۔ حمزہ نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔ آخر وہ نیم بے ہوش ہو کر دروازے کے پاس ہی گر گیا۔
“ہائے میرا بیٹا، ہائے میرا حمزہ، یا اللہ میری مدد کر!”
اب ان کا رخ دوبارہ باہر کی طرف تھا۔ ان کی نظریں کسی مددگار کو تلاش کر رہی تھیں۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ اتنے میں ایک رکشا ان کے قریب آ کر رکا۔ حمزہ کی امی اور خالہ رکشا سے باہر نکلیں۔
“خالد بھائی آپ باہر کیوں کھڑے ہیں؟”
“وہ حمزہ۔۔۔”
“کیا ہوا ہے حمزہ کو؟” سمیرا نے ان کی بات پوری نہ ہونے دی۔
“حمزہ نے کمرے میں جا کر اندر سے دروازے کی کنڈی بند کر لی ہے۔”
“اس بات کو کتنی دیر ہو گئی ہے؟” سمیرا نے پوچھا۔
“میرا خیال ہے گھنٹہ ہونے والا ہے۔”
“ہائے میرا حمزہ، ہائے میرا حمزہ!” سمیرا نے رونا شروع کر دیا۔
“حمیرا تم اپنی باجی کو سنبھالو، میں رکشے میں جا کر کسی مستری کو لاتا ہوں۔ میں بس ابھی آ رہا ہوں۔ چلو بھئی جلدی چلو!” رکشا لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد خالد صاحب مستری کو لیے گھر آئے تو سمیرا نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔ حمیرا اپنی بہن کو برابر تسلیاں دینے میں مصروف تھی۔ مستری نے خالد صاحب کے ساتھ مل کر دروازے کو اندر کی طرف دھکیلا تو کنڈی کی سلاخ نظر آنے لگی۔ اب حمزہ بھی فرش پر پڑا دکھائی دے رہا تھا۔
“ہائے میرا پیارا حمزہ، ہائے میرا حمزہ! میرے حمزہ کو باہر نکالو!” سمیرا کی آہ و فریاد سن کر مستری بولا:
“بہن جی ابھی آپ کا بچہ باہر آ جاتا ہے۔ کنڈی نظر آ رہی ہے، بس آری سے تھوڑی دیر میں کنڈی کٹ جائے گی۔”
سمیرا کے رونے کی آواز اتنی زیادہ تھی کہ اگر یہ محلہ آباد ہوتا تو لوگوں کی بھیڑ لگ جاتی۔ یہاں تو چند ہی گھر تھے اور باقی خالی پلاٹ تھے۔ مستری نے آری سے کنڈی کو کاٹا تو سبھی دیوانہ وار کمرے میں داخل ہوئے۔ سمیرا نے لپک کر حمزہ کو اٹھا لیا اور سینے سے لگاتے ہوئے پیشانی چومنے لگی۔ حمزہ کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔ سب کو اس لمحے یوں لگا کہ جیسے خزاں کی جگہ بہار آ گئی ہو۔
مستری کو رخصت کرنے کے بعد خالد صاحب نے سمیرا کو مخاطب کیا:
“یہ کنڈی تو کھل گئی ہے اب ایک اور کنڈی باقی رہ گئی ہے۔”
“کونسی کنڈی؟” سمیرا نے حیرت کا اظہار کیا۔
“ہے ایک کنڈی، تم بس تیاری کر لو۔”
“کہاں جانا ہے؟” سمیرا نے سوال کیا۔
“ہم ابھی اور اسی وقت سرگودھا چلیں گے۔”
“مگر کیوں؟”
“ایک کنڈی کھولنے کے لیے۔” خالد صاحب نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
کوچ موٹروے پر سرگودھا کی طرف رواں دواں تھی۔ خالد صاحب کسی گہری سوچ میں گم تھے۔ ماضی کا زمانہ ان کی آنکھوں کے سامنے گردش کر رہا تھا۔ ان کے تصور میں ان کے بچپن کی ایک تلخ یاد اور اس کا منظر گھوم کر رہ گیا۔
ایک صبح ننھا خالد سکول پہنچا تو جوتے خاصے خراب تھے۔ ان کے ہمجولی نواز نے جعفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“لو بھئی دیکھ لو پٹواری نور دین کے بیٹے خالد کو اور اس کے جوتوں کو۔”
“اس کے جوتے تو ایک صدی پرانے لگتے ہیں۔” جعفر نے کہا۔
“ایک یہ ہے اور ایک پٹواری جلال کا بیٹا طفیل ہے جو ہر روز شاندار کپڑے اور جوتے پہن کر آتا ہے۔”
بلال طنزیہ لہجے میں بولا:
“خالد کا باپ تو کنجوس ہے، کنجوس!”
یہ جملہ خالد کو بہت برا لگا۔ اس نے بلال کا گریبان پکڑ کر کہا:
“اپنی زبان بند رکھو!”
“کیوں اپنی زبان بند رکھوں؟ چھوڑو میرا گریبان!” بلال چلایا۔
آخر دوسرے دوستوں کی مداخلت پر خالد نے بلال کا گریبان چھوڑ دیا۔ خالد اپنے ہم جماعتوں کے مذاق سے تنگ آ جاتا تو اپنے والد کے سامنے سوال لے کر کھڑا ہو جاتا کہ ان کے ہاں پٹواری جلال کی طرح دولت کی ریل پیل کیوں نہیں ہے؟
ابا اس کو سمجھاتے:
“تم ابھی چھوٹے ہو، بڑے ہو جاؤ گے تو سب کچھ سمجھ جاؤ گے۔”
جب وہ ذرا بڑا ہوا تو واقعی سب کچھ سمجھ گیا تھا، مگر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنے ابا کی ایمانداری کی تعریف کرتا، الٹا اس نے یہ کہنا شروع کر دیا:
“کسی نے آپ کو ایمانداری کا انعام نہیں دینا۔”
ابا اکثر اس کی بات سن کر کہتے:
“کوئی مجھے ایمانداری کا انعام دے یا نہ دے، میرا ضمیر تو مطمئن ہے۔ میرے ضمیر کا مطمئن ہونا ہی میرا انعام ہے۔”
اس موضوع پر اکثر بحث ہوتی رہتی تھی۔
امی اسی دوران کچھ عرصہ بیمار رہ کر انتقال کر گئیں۔
اب چاہیے تو یہ تھا کہ اکلوتی اولاد ہونے کے باعث خالد اپنے والد کا زیادہ خیال رکھتا، مگر وہ تو ہر لمحہ اپنے والد اور پٹواری جلال دین کا مقابلہ کرتا رہتا تھا۔
جب انسان اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے تو فکر کرتا ہے اور جب اپنے سے کم تر کو دیکھتا ہے تو شکر کرتا ہے۔ خالد تو اپنے سے اعلیٰ کو دیکھ کر فکر میں مبتلا ہو رہا تھا۔
میٹرک کرنے کے بعد ایک دن چپکے سے شہر آتے وقت اس نے ایک خط اپنے والد کے نام لکھا کہ وہ دولت کمانا چاہتا ہے اس لیے شہر جا رہا ہے، اس کی تلاش مت کی جائے۔
جوان بیٹے کا یوں چلے جانا معمولی بات نہ تھی، مگر نور دین نے اس صدمے کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ اسے یقین تھا کہ اس کا بیٹا ایک دن ضرور لوٹ کر آئے گا اور۔۔۔ اب وہ دن آگیا تھا۔
حمزہ کے ابو اپنے والد کی طرف آ رہے تھے۔ وہ بار بار گھڑی پر وقت دیکھ رہے تھے۔ وہ جلد از جلد کنڈی کھولنا چاہتے تھے جسے انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے بند کیا تھا۔
دو گھنٹے بعد وہ دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہہ رہے تھے:
“بابا کنڈی کھولو، بابا کنڈی کھولو، میرا دم گھٹ رہا ہے!”
جب کھٹ کی آواز کے ساتھ کنڈی کھلی تو اپنے بابا کو دیکھتے ہی بولے:
“بابا! مجھے معاف کر دیں۔”
نور دین خاموش تھا مگر اس کے کپکپاتے ہونٹ اور بھیگی آنکھیں اس کی دلی کیفیت کو ظاہر کر رہی تھیں۔ بیٹے خالد کو گلے لگاتے ہوئے بوڑھے نور دین نے سمیرا اور حمزہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا:
“یہ آپ کی بہو ہے اور حمزہ آپ کا پوتا ہے۔ یہ حمزہ ہی مجھے آپ تک لایا ہے۔”
“وہ کیسے؟” نور دین نے سوال کیا۔
“آج اگر یہ کنڈی لگا کر خود کو کمرے میں بند نہ کر لیتا تو میرے دل میں یہ احساس نہ جاگتا کہ اولاد کی جدائی میں والدین کا کیا حال ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو بہت دکھ دیا ہے، بابا مجھے معاف کر دیں۔”
“خالد بیٹا! تم آگئے ہو تو میری ناراضگی ختم ہو گئی ہے۔ میری ہی نہیں، اللہ کی ناراضگی بھی ختم ہو چکی ہوگی، کیونکہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ:
اللہ کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں پوشیدہ ہے۔”
یہ کہہ کر اس نے حمزہ کو گود میں لے کر خوب پیار کیا۔
نور دین نے باتوں ہی باتوں میں بتایا کہ پٹواری جلال پر زمینوں کے ہیر پھیر کے سلسلے میں مقدمہ چل رہا ہے اور اس کا بیٹا طفیل ڈاکا ڈالنے کے جرم میں سزا کاٹ رہا ہے۔
پٹواری جلال اور اس کے بیٹے کا انجام جان کر انہیں معلوم ہو گیا کہ ایمانداری کا راستہ ہی سلامتی کا راستہ ہے۔ انہوں نے اسی لمحے عزم کیا کہ وہ بھی سلامتی کے راستے پر چلیں گے تاکہ انہیں پھر کبھی یہ نہ کہنا پڑے:
“بابا کنڈی کھولو۔۔۔ بابا کنڈی کھولو۔”
۔


