Africa Ka Bulawa Complete Urdu Story Shikaariyat Series Daastan Mahal
By Hassaan Ahmad Awan

Click here to Listen Africa Ka Bulawa Complete Urdu Story Shikaariyat Series Daastan Mahal :
Africa Ka Bulawa Complete Urdu Story Shikaariyat Series Daastan Mahal
📖 شکاریات — افریقہ کی پکار
🗡️ باب اوّل: افریقہ سے بلایا گیا
ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔
اسلام آباد کے نواح میں واقع سالار غازی کے فارم ہاؤس کے دروازے پر جنگلی گھاس ہوا میں سرسراتی تھی۔
سالار اپنی پرانی بندوق صاف کر رہا تھا — وہی بندوق جس کے ساتھ اس نے شمال کی برفانی وادی “درگال” میں ایک ایسی مہم دیکھی تھی جس نے اسے بدل کر رکھ دیا تھا۔
اب وہ شکار کے لیے نہیں، بلکہ سکون کے لیے گولیاں پالش کر رہا تھا۔
“یار سالار!” دروازے سے کاشف بلوچ کی آواز گونجی، “تم ابھی تک یہ لوہے کے ٹکڑے سے عشق کر رہے ہو؟ چلو، چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے!”
سالار نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بندوق کا بٹ میز پر رکھا، “بلوچ، تم نے کبھی سوچا ہے کہ بندوق انسان کے ہاتھ میں ہو یا وقت کے؟ دونوں وقت پر چلیں تو زندگی بچتی ہے، ورنہ سب ختم۔”
کاشف ہنسا، “بس بس فلسفہ چھوڑو، ڈاکٹر سلیم تمہیں ڈھونڈ رہا تھا۔ کچھ ای میل آئی ہے کسی بین الاقوامی ادارے کی۔ لگتا ہے نئی مہم کا بلاوا ہے!”
سالار کے چہرے پر تجسس کی لکیر ابھری۔ وہ کمرے میں داخل ہوا جہاں ڈاکٹر سلیم اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے جھک کر کچھ پڑھ رہا تھا۔
صوفیہ خان کھڑکی کے پاس کھڑی تھی، جہاں سے سورج کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
“کون سی ای میل ہے، ڈاکٹر صاحب؟” سالار نے پوچھا۔
ڈاکٹر سلیم نے عینک درست کی، “یہ ‘African Wildlife Preservation Council’ کی ایمرجنسی کال ہے۔ کینیا اور تنزانیہ کی سرحد پر واقع جنگل ‘میرو نیشنل ریزرو’ میں ایک غیر معمولی مخلوق دیکھی گئی ہے۔”
“غیر معمولی مخلوق؟ مطلب؟” صوفیہ نے چونک کر کہا۔
ڈاکٹر سلیم نے گہری سانس لی، “رپورٹ کے مطابق وہ کسی شیر سے دو گنا بڑی ہے، مگر اس کے پنجوں کے نشانات کسی انسان سے مشابہ ہیں۔ تین راتوں سے گاؤں والے لاپتہ ہو رہے ہیں، مگر لاشیں نہیں ملتیں۔”
کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
پھر کاشف نے قہقہہ لگایا، “واہ، لگتا ہے افریقہ نے بھی ہمیں یاد کر لیا۔ اب تو ویزا لگوا ہی لیتے ہیں!”
صوفیہ نے سنجیدگی سے کہا، “یہ ہنسی کا معاملہ نہیں، بلوچ۔ اگر واقعی کوئی نایاب یا hybrid مخلوق ہے، تو یہ فطرت کے توازن کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔”
سالار نے کھڑکی سے باہر دیکھا — ہوا میں ہلکی سی گرد تھی، جیسے کوئی اشارہ ہو۔
“ہم جائیں گے۔” وہ آہستہ سے بولا، “اگر فطرت پکار رہی ہے، تو ہمیں جواب دینا ہوگا۔”
دو دن بعد، ٹیم نائیروبی کے ہوائی اڈے پر اتری۔
فضا میں مٹی، گرمی اور کچھ پراسرار سا سکون تھا۔
ایئرپورٹ کے باہر ایک لمبا، گہری آنکھوں والا مقامی گائیڈ ان کا منتظر تھا — چاکا۔
“مسٹر سالار غازی؟ میں چاکا ہوں، میرو ریزرو کا گائیڈ۔” اس نے ہاتھ بڑھایا۔
“ہم نے تمہیں خبر پہنچنے سے پہلے ہی تمہارا نام جانا تھا۔ یہاں لوگ تمہیں ‘روحوں کا شکاری’ کہتے ہیں۔”
سالار نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، “روحوں کا نہیں، ان چیزوں کا جو خود کو روح ظاہر کرتی ہیں۔”
جیسے جیسے جیپ شہر سے باہر نکلتی گئی، مناظر بدلتے گئے — بلند درخت، سرخ مٹی، اور کبھی کبھار جنگلی آوازیں۔
چاکا نے بتایا، “اس مخلوق کو مقامی لوگ ‘مُگورو’ کہتے ہیں — مطلب ‘وہ جو سایوں میں چھپتا ہے’۔ کئی نسلوں سے اس کے قصے چل رہے ہیں۔”
صوفیہ نے اپنے نوٹ پیڈ پر لکھا، “مُگورو — possible mutation, hybrid origin?”
کاشف نے سر ہلا کر کہا، “مجھے تو بس اتنا معلوم ہے کہ اگر یہ ہمیں کھا بھی گیا تو کم از کم کہانی مشہور ہوگی!”
ڈاکٹر سلیم نے سنجیدگی سے کہا، “ہم یہاں کسی جانور کو مارنے نہیں، سمجھنے آئے ہیں۔ اگر یہ قدرت کا بگاڑا ہوا تجربہ ہے تو اس کا علاج بھی فطرت ہی میں ہے۔”
سالار نے بندوق کے دھانے کو دیکھا اور آہستہ سے بولا،
“شکار ہمیشہ دو طرح کے ہوتے ہیں — ایک وہ جو بندوق کے سامنے ہوتا ہے، دوسرا وہ جو انسان کے اندر۔ دیکھتے ہیں افریقہ ہمیں کون سا دکھاتا ہے۔”
جیپ دھول اڑاتی ہوئی جنگل کے کنارے پہنچ گئی۔
سورج ڈھل رہا تھا۔ ہوا میں ایک عجیب سی نمی اور خاموشی تھی۔
درختوں کے سائے لمبے ہو رہے تھے، جیسے زمین خود اندھیرے میں ڈوبنے سے گھبرا رہی ہو۔
چاکا نے گاڑی روکی، “یہیں سے جنگل شروع ہوتا ہے… اور شاید انجام بھی۔”
سالار نے آسمان کی طرف دیکھا — افریقہ کا سورج، سرخ اور خون سا دہکتا ہوا۔
اس نے کہا، “چلو… دیکھتے ہیں افریقہ ہمیں کیوں بلا رہا ہے۔”
📖 شکاریات — افریقہ کی پکار
🌍 باب دوم: سیاہ براعظم کی سرزمین
شام ڈھل چکی تھی۔ افریقہ کا سورج جیسے سرخ خون کی بوندوں میں بدل کر افق کے پیچھے غائب ہو گیا تھا۔
سالار غازی اور اس کی ٹیم نے جنگل کے کنارے عارضی کیمپ لگا لیا۔
ہوا میں نمی اور مٹی کی ملی جلی خوشبو تھی، جو ہر سانس کے ساتھ خطرے کی یاد دلاتی تھی۔
“یہ افریقہ ہے دوستو، یہاں رات دن سے زیادہ جیتی ہے۔” چاکا نے آگ جلاتے ہوئے کہا۔
آگ کی زرد روشنی میں اس کے چہرے کے نقش واضح ہوئے — ایک ایسا شخص جس نے جنگل کے رازوں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہو۔
کاشف نے ہنستے ہوئے کہا، “یہاں کے مچھر بھی بندوق سے بڑے ہیں، سالار! اگر یہ مخلوق ہمیں نہ کھائے تو یہ مچھر ضرور کھا جائیں گے۔”
صوفیہ مسکرا کر بولی، “مزاح اپنی جگہ، مگر تمہیں اندازہ ہے کہ ہم ایک ایسے جانور کی تلاش میں ہیں جو ممکن ہے کسی معلوم حیاتیاتی اصول کے مطابق وجود ہی نہ رکھتا ہو؟”
ڈاکٹر سلیم نے جواب دیا، “قدرت اکثر وہی دکھاتی ہے جو انسان سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔”
چاکا نے آگ کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا،
“پچھلے ہفتے ایک قبیلے کا شکاری ‘مامبو’ لاپتہ ہوا۔ صبح اس کے خیمے کے پاس زمین پر عجیب نشان ملے — جیسے کسی کے ہاتھوں کے ساتھ پنجے بھی ہوں۔ بزرگ کہتے ہیں یہ مخلوق ‘مُگورو’ ہے۔ وہ سایہ جو زندہ رہتا ہے اور جو اسے دیکھ لے، خود سایہ بن جاتا ہے۔”
سالار نے غور سے پوچھا، “کیا کسی نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا؟”
چاکا نے سر ہلایا، “ایک لڑکا کہتا ہے کہ رات کے وقت درختوں کے پیچھے دو چمکتی آنکھیں تھیں — ایک لمحے کو وہ کسی شیر جیسا لگا، اور اگلے لمحے جیسے انسان ہو۔”
کاشف نے سر جھٹکا، “شیر جو انسان بن جائے؟ واہ! اب تو یہ مخلوق ہمیں دیکھ کر مذاق اڑا رہی ہوگی!”
سالار نے آہستہ سے کہا، “مذاق نہیں بلوچ… فطرت کبھی مذاق نہیں کرتی۔ اگر اس نے کسی چیز کو پیدا کیا ہے، تو اس کے پیچھے کوئی مقصد ضرور ہے۔”
رات گہری ہوتی گئی۔ درختوں کے سائے لمبے ہوئے۔ کہیں دور کسی نامعلوم جانور کی چیخ سنائی دی۔
صوفیہ کے ہاتھ میں ہلکی لرزش آئی، “یہ آواز کسی بلی کی نہیں تھی، نہ کسی انسان کی۔”
ڈاکٹر سلیم نے اپنا ریڈیو کھولا، “یہی تو مسئلہ ہے۔ جنگلی حیات کی فہرست میں ایسی کوئی آواز ریکارڈ نہیں۔”
اچانک ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا اور آگ بجھنے لگی۔
چاکا نے جلدی سے لکڑیاں سنبھالیں، “یہ معمولی ہوا نہیں، یہ جنگل کی وارننگ ہے۔”
سالار نے بندوق اٹھائی، “اگر جنگل ہمیں متنبہ کر رہا ہے، تو مطلب ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔”
کیمپ کے قریب زمین پر ایک سایہ حرکت کرتا دکھائی دیا۔
صوفیہ نے ٹارچ جلائی — کچھ لمحوں کے لیے روشنی نے درختوں کے بیچ ایک سیاہ دھندلا سا ہیولہ دکھایا۔
دو چمکتی آنکھیں، بلکل انسانی، مگر ان میں وحشت کی لہر۔
پھر وہ سایہ پلک جھپکتے غائب ہو گیا۔
کاشف کے لبوں سے بےاختیار نکلا، “یا اللہ! یہ کیا تھا؟”
چاکا کے ماتھے پر پسینہ تھا، “وہی… مُگورو۔ وہ دیکھ لیتا ہے، مگر خود نہیں دکھتا۔”
سالار نے ٹھنڈی سانس لی، “جو دکھائی دے جائے، وہ خطرہ نہیں ہوتا۔ اصل خطرہ وہ ہوتا ہے جو اندھیرے میں خاموش رہے۔”
وہ لمحہ تھا جب ان سب کو احساس ہوا — یہ مہم محض ایک جانور کی تلاش نہیں، بلکہ ان کے حوصلے کا امتحان ہے۔
صبح ہونے سے پہلے ہی وہ جنگل کی گہرائیوں کی طرف نکل پڑے۔
سالار نے نقشہ پھیلایا، “یہاں ایک پرانا قبیلہ ہے، ‘موکورو’۔ اگر کسی کو اس مخلوق کی حقیقت معلوم ہو سکتی ہے تو وہ یہی لوگ ہیں۔”
چاکا نے آہستہ کہا، “مگر ان کی زمین میں قدم رکھنا آسان نہیں، وہاں اجنبی کو صرف ایک موقع ملتا ہے — یا تو وہ دوست بن جائے، یا پھر شکار۔”
سالار کے چہرے پر ایک پرعزم سکون تھا۔
“ہم دوستی کے لیے آئے ہیں، مگر اگر فطرت نے چاہا تو لڑنے سے گریز بھی نہیں کریں گے۔”
دور افق پر سورج دوبارہ ابھرا، مگر اس روشنی میں سکون نہیں تھا — جیسے افریقہ خود ان سے کچھ کہنا چاہتا ہو۔
اور جنگل کی خاموشی میں کہیں بہت دور… کسی وحشی سانس کی گونج سنائی دی۔
باب سوم: جنگل کی سرگوشیاں
دھوپ اب گھنے درختوں کے جال میں پھنس چکی تھی۔ روشنی زمین تک آتے آتے شکستہ ہو جاتی، جیسے جنگل خود اپنی رازداری بچانا چاہتا ہو۔ سالار غازی اور اس کی ٹیم ندی کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ چاروں طرف نمی، کیچڑ، اور نامعلوم آوازوں کی ملی جلی دنیا تھی۔
چاکا نے رک کر زمین پر جھک کر دیکھا — “یہ دیکھو، کچھ نشانات ہیں۔”
کاشف نے آگے بڑھ کر دیکھا، “یہ تو کسی بڑے جانور کے پنجوں جیسے ہیں، مگر یہ کیا… ساتھ انسانی قدموں کے نشان بھی؟”
ڈاکٹر سلیم نے جھک کر پیمائش کی، “یہ انسانی نہیں۔ پیر کے پنجے لمبے اور انگلیاں نوکیلی ہیں۔ جیسے کسی درمیانی مخلوق کے ہوں… انسان اور درندے کے بیچ۔”
سالار نے بندوق کندھے پر ڈالی، “تو مُگورو صرف کہانی نہیں۔ وہ موجود ہے — اور قریب ہی ہے۔”
صوفیہ نے درختوں کی طرف دیکھا، “اگر وہ ہمیں دیکھ رہا ہے تو شاید ابھی ہم شکار نہیں، لالچ ہیں۔ وہ ہمیں پرکھ رہا ہے۔”
ہوا میں ایک عجیب بوجھ محسوس ہوا۔ درختوں کے پتوں کے بیچ جیسے سرگوشیاں تھیں۔ کہیں دور کوئی پرندہ چیخا اور خاموش ہو گیا۔
چاکا نے آہستہ کہا، “یہ جنگل بولتا ہے، مگر صرف ان سے جو سننا جانتے ہیں۔”
کچھ فاصلے پر ندی کے کنارے ایک پرانا لکڑی کا پُل نظر آیا۔ آدھا ٹوٹا ہوا، آدھا دلدل میں دھنسا ہوا۔ سالار نے قدم روکا، “یہ پُل پرانا معلوم ہوتا ہے، مگر نشان ادھر جا رہے ہیں۔”
زین نے کیمرہ سنبھالتے ہوئے کہا، “اگر یہ مخلوق اسی طرف گئی تو ہمیں بھی جانا ہوگا۔ ویسے بھی، تصویر بغیر خطرے کے کہاں بنتی ہے؟”
پُل کے نیچے سے پانی کی گہرائی میں بلبلے اٹھے۔ ایک لمحے کو لگا جیسے کچھ ہلکا سا حرکت کر رہا ہو۔
کاشف نے ہونٹ بھینچ کر کہا، “یہ جگہ مجھے پسند نہیں آرہی۔”
سالار نے مختصر جواب دیا، “جنگل کسی کو پسند نہیں آتا، مگر احترام مانگتا ہے۔”
پُل عبور کرنے کے بعد منظر بدل گیا۔
درخت اونچے، گھنے، اور ان کے بیچ ایک قدیم ستون — پتھر کا، جس پر عجیب نقوش کندہ تھے۔
صوفیہ نے حیرت سے کہا، “یہ تو انسانی ہاتھ کا کام لگتا ہے۔ مگر یہ علامتیں کسی زبان سے میل نہیں کھاتیں۔”
ڈاکٹر سلیم نے دھیان سے دیکھا، “یہ شکلیں حیوانی اور انسانی خصوصیات کو ایک ساتھ دکھا رہی ہیں — شاید مُگورو کا عقیدہ یا انتباہ ہو۔”
سالار نے قریب جا کر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، “یہ ستون شاید کسی مقدس مقام کا نشان ہے۔ یا پھر… کسی قید کی حد۔”
اس کے بولنے کی دیر تھی کہ قریب کی جھاڑیوں میں ہلکی سی حرکت ہوئی۔ بندوقیں خود بخود اٹھ گئیں۔
چاکا نے چیخ کر کہا، “رکو، گولی مت چلانا!”
جھاڑیوں سے ایک نحیف سا لڑکا برآمد ہوا — چہرہ خوف سے زرد، ہاتھوں میں پتوں کی ٹوکری۔
“میں… میں بُمانگا قبیلے سے ہوں… آپ وہ شکاری ہیں جو جانور کو ڈھونڈنے آئے ہیں؟” اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
سالار نے نرمی سے پوچھا، “ہاں، تم جانتے ہو وہ کہاں ہے؟”
لڑکے نے آہستہ سر ہلایا، “وہ دن میں نہیں آتا۔ مگر رات کو… وہ ہمارے گاؤں کے قریب آتا ہے۔ کل رات وہ پھر آئے گا۔ میرے باپ نے کہا، اگر تم بہادر ہو تو آج رات ہمارے ساتھ رہو۔”
چاکا نے سالار کی طرف دیکھا، “یہ موقع ہے۔ قبیلہ ‘بُمانگا’ ہمیں اندر لے جائے گا، ورنہ وہ کسی اجنبی پر بھروسہ نہیں کرتے۔”
سالار نے فیصلہ کر لیا۔ “ہم آج رات ان کے گاؤں میں رہیں گے۔ اور اگر وہ مخلوق آئی… تو اس بار وہ صرف دیکھ نہیں سکے گا۔”
رات چھا چکی تھی۔ بُمانگا گاؤں درختوں کے درمیان مشعلوں سے روشن تھا۔ لوگ عجیب سے گیت گنگنا رہے تھے، جیسے کسی روح کو منانے کی رسم ہو۔
بزرگ نے آگ کے گرد بیٹھ کر کہا، “وہ مخلوق انسان نہیں، مگر کبھی تھی۔ کہتے ہیں کہ ایک شکاری نے فطرت کے قانون کو توڑا تھا — اس نے ایک نایاب شیرنی کو قتل کیا، اور اس کے خون سے اپنی طاقت بڑھانا چاہی۔ فطرت نے بدلے میں اس کا جسم انسان اور جانور کے بیچ میں روک دیا۔ اب وہ دونوں میں سے کسی کا نہیں۔”
سکوت طاری ہو گیا۔ صرف آگ کے شعلے نچلے لہجے میں بول رہے تھے۔
سالار نے دھیمی آواز میں کہا، “تو وہ انسان کا سایہ ہے… اپنے گناہ کا بوجھ لیے زندہ۔”
اسی لمحے باہر سے ایک وحشی چیخ ابھری۔ زمین ہلکی سی لرز اٹھی۔ عورتوں کی چیخیں بلند ہوئیں۔
چاکا نے بندوق اٹھائی، “وہ آ گیا… مُگورو!”
سالار نے سرد لہجے میں کہا،
“سب پوزیشن لو۔ آج رات جنگل خود فیصلہ کرے گا — شکاری کون ہے، اور شکار کون۔”
باب چہارم: پہلا سامنا
رات کے سناٹے میں ہر سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
بُمانگا گاؤں پر ایک عجیب سا بوجھ طاری تھا۔ درختوں کے پیچھے چھپی ہوا بھی جیسے رک گئی تھی۔ مشعلوں کی روشنی کانپ رہی تھی، جیسے خود ان کے شعلے بھی خوف زدہ ہوں۔
سالار غازی بندوق سنبھالے گاؤں کے مرکزی چبوترے پر کھڑا تھا۔
کاشف، چاکا، صوفیہ اور ڈاکٹر سلیم اپنی اپنی پوزیشن پر تھے۔
سب کی نظریں درختوں کی سمت جمی تھیں، جہاں اندھیرے نے ہر چیز کو نگل رکھا تھا۔
چاکا نے سرگوشی کی، “جب وہ آتا ہے تو پرندے بولنا بند کر دیتے ہیں… اور زمین تھر تھر کانپنے لگتی ہے۔”
کاشف نے بندوق پر ہاتھ کس کر کہا، “تو پھر وہ قریب ہے، کیونکہ میرے دل کی دھڑکن بھی زمین سے مل گئی ہے۔”
سالار نے خاموشی سے ہاتھ اٹھا کر سب کو تیار رہنے کا اشارہ دیا۔
چند لمحوں بعد، ایک مدھم سی آواز — جیسے کوئی کسی دلدل میں چل رہا ہو۔
پہلے ہلکی، پھر بھاری… قدموں کے ساتھ سانسوں کی گونج —
“ہہہ…ہہہہہ…”
درختوں کے پیچھے دو سرخ آنکھیں نمودار ہوئیں۔
صوفیہ کے لبوں سے دبے دبے الفاظ نکلے، “وہ… یہ وہی ہے۔”
آہستہ آہستہ وہ ہیولہ روشنی کے دائرے میں داخل ہوا۔
ایک ایسا وجود جس کی ہڈیاں انسانی تھیں، مگر جسم شیر جیسا۔
اس کے بازووں پر بالوں کی تہہ، اور انگلیوں پر نوکیلے پنجے۔
اس کا چہرہ آدھا انسانی، آدھا حیوانی، اور آنکھوں میں وہ وحشت تھی جسے دیکھ کر فطرت بھی لرز جائے۔
بُمانگا کے لوگ چیخ پڑے۔
سالار نے بندوق تان لی، مگر فائر نہیں کیا۔
“رکو!” وہ بولا، “یہ صرف درندہ نہیں… یہ سزا یافتہ ہے۔ کچھ اس کے پیچھے ہے۔”
ڈاکٹر سلیم نے بیلٹ سے انجیکشن نکالا، “اگر ہم اسے زندہ پکڑ لیں تو ممکن ہے ہم اس کے جینز کا مطالعہ کر سکیں۔ شاید یہ انسان کی حیاتیاتی تبدیلی ہو!”
کاشف نے طنزیہ کہا، “اگر ہم زندہ رہے تو ضرور مطالعہ کر لینا، ڈاکٹر صاحب!”
اچانک وہ مخلوق ایک جھٹکے سے چیخی۔ آواز ایسی تھی جیسے کوئی دھات پھٹ رہی ہو۔
پھر وہ پل بھر میں ہوا میں اچھلی، اور ایک درخت سے دوسرے پر۔
چاکا نے گولی چلائی —
“دھائیں!”
گولی سیدھی کندھے میں لگی۔ مخلوق ایک لمحے کو رک کر غرائی، پھر زمین پر گری۔
سالار نے اشارہ دیا، “گھیر لو اسے!”
صوفیہ نے ٹارچ روشن کی، مگر اگلے ہی لمحے مخلوق نے چیخ کر حملہ کیا۔
کاشف زمین پر گر گیا، اس کا ہاتھ پنجے سے زخمی ہوا۔
ڈاکٹر سلیم دوڑا اور فورا پٹی باندھی، “یہ زہر ہے… اس کے پنجے میں کوئی کیمیکل ردعمل ہے!”
سالار نے بندوق پھینک کر خنجر نکالا —
“یہ گولی سے نہیں رکے گا۔ اسے جنگل کے قانون سے لڑنا ہوگا۔”
وہ آمنے سامنے آ گئے۔
ایک طرف انسان — دوسری طرف فطرت کا بغاوت زدہ سایہ۔
ہوا میں بجلی کی سی تیزی، زمین پر خوف کی لرزش۔
مخلوق نے حملہ کیا، سالار نے جھک کر وار روکا، خنجر اس کے بازو پر گھسا۔ خون نہیں، بلکہ گاڑھا سیاہ مادہ بہا — جیسے زنگ آلود تیل۔
سالار نے غرّا کر کہا، “تو تو انسان نہیں… بلکہ تجربے کی پیداوار ہے!”
صوفیہ نے پیچھے سے چیخ کر کہا، “سالار! میں نے دیکھا ہے — اس کے بازو پر نشان ہیں، جیسے کسی لیب کا کوڈ ہو!”
ڈاکٹر سلیم نے فوراً نوٹ بک میں لکھا، “یہ قدرتی مخلوق نہیں، کسی نے اسے بنایا ہے۔ یہ شکار نہیں، تخلیق شدہ ہتھیار ہے!”
مخلوق نے سالار کو زور سے دھکیلا۔ وہ لکڑی کے ستون سے جا ٹکرایا۔
چاکا اور کاشف نے بیک وقت گولیاں چلائیں —
“دھائیں! دھائیں!”
مخلوق لڑکھڑائی، چیخی، اور پھر بھاگتی ہوئی اندھیرے میں گم ہو گئی۔
چند لمحوں تک صرف سانسوں کی آواز تھی۔
سالار نے زمین پر پڑے سیاہ مادے کو دیکھا، “یہ خون نہیں… یہ کیمیکل ہے۔ اور اگر یہ کسی انسان کا تجربہ ہے تو مطلب یہ مخلوق اکیلی نہیں۔”
چاکا نے دھیرے سے کہا، “یعنی یہ صرف آغاز تھا؟”
صوفیہ نے خوفزدہ نظروں سے جنگل کی سمت دیکھا، “اور جنگل اب خاموش نہیں رہا…”
اسی لمحے جنگل کے اندر سے دس، شاید بارہ سرخ آنکھیں ایک ساتھ چمکیں۔
سالار کے چہرے پر سکوت پھیل گیا۔
“ہم اکیلے نہیں ہیں۔ افریقہ نے پکارا نہیں تھا — اُس نے خبردار کیا تھا۔”
مشعلیں بجھنے لگیں۔
ہوا میں پھر وہی خوفناک سانسوں کی آواز گونجی —
اور افریقہ کی رات ایک بار پھر جاگ اٹھی۔
باب پنجم — آگ کا دائرہ
رات گزر چکی تھی، مگر بُمانگا پر صبح نہیں اُتری۔
سورج افق کے پیچھے کہیں رُک سا گیا تھا — جیسے روشنی نے اس وادی میں داخل ہونے سے انکار کر دیا ہو۔
گاؤں کے بیچ بنے کچے ہال میں سب جمع تھے۔ سالار کے کندھے پر پٹی بندھی تھی، کاشف کا ہاتھ زہر سے سوجا ہوا تھا، اور صوفیہ کے چہرے پر نیند کے بجائے فکر کا سایہ۔
ڈاکٹر سلیم میز پر پڑے ایک ٹیسٹ ٹیوب میں اُس سیاہ مادے کو دیکھ رہا تھا جو رات مخلوق کے زخم سے بہا تھا۔
“یہ عام خون نہیں ہے…”
اس نے آہستگی سے کہا، “اس میں حیاتیاتی خلیے مردہ ہیں، مگر حرکت کر رہے ہیں۔ جیسے کوئی مصنوعی توانائی انہیں زندہ رکھ رہی ہو۔”
سالار نے اس کی طرف دیکھا، “یعنی کسی نے یہ چیز بنائی ہے۔ سوال یہ ہے — کیوں؟”
چاکا نے آہستگی سے کہا، “میں نے برسوں پہلے ‘کلمبا ریسرچ فیلڈ’ کا نام سنا تھا… وہاں انسانوں پر تجربے کیے جاتے تھے۔ کہتے ہیں ایک منصوبہ تھا ‘Project Nyoka’ — سانپ کا منصوبہ۔”
صوفیہ چونکی، “نیوکا… یعنی افریقہ کی قدیم دیوی، جو زمین کے نیچے چھپی رہتی ہے اور جب فطرت زخمی ہو جائے تو انتقام لینے آتی ہے؟”
ڈاکٹر سلیم نے سر ہلایا، “ہوسکتا ہے ان تجربات میں اسی دیوی کے ڈی این اے کا حوالہ لیا گیا ہو۔ سائنس نے اس عقیدے کو حقیقت بنانے کی کوشش کی ہو۔”
سالار نے خنجر میز پر رکھ دیا، “اگر یہ سب سچ ہے، تو کسی نے فطرت کے خفیہ توازن سے کھیلنے کی کوشش کی ہے — اور اب وہ کھیل الٹ گیا ہے۔”
اچانک باہر شور اٹھا۔
کاشف بھاگتا ہوا آیا، “سالار! دریا کے پار لوگوں نے دو لاشیں دیکھی ہیں۔ دونوں کے جسموں پر پنجوں کے نشان ہیں، مگر خون نہیں!”
سب دوڑ پڑے۔
دریا کے کنارے دو چرواہوں کی لاشیں پڑی تھیں — ان کی آنکھیں کھلی، چہرے خوف سے جَمے ہوئے۔
صوفیہ نے کانپتی آواز میں کہا، “یہ زخم… یہ زہریلے نہیں لگتے، بلکہ جیسے کسی نے ان کے جسم سے کچھ کھینچ لیا ہو۔”
ڈاکٹر سلیم نے نیچے جھک کر کہا، “یہ توانائی کا اخراج ہے۔ کسی نے ان کی حیاتیاتی قوت نچوڑ لی۔ جیسے کوئی طاقت انہیں اندر سے چوس کر لے گئی ہو۔”
سالار نے خاموشی سے زمین پر ایک دائرہ کھینچا — پھر مشعل اٹھا کر اسے آگ لگا دی۔
“یہ دائرہ آگ کا ہے۔ جب تک ہم اس کے اندر ہیں، وہ ہمیں محسوس نہیں کرے گا۔ مگر ہمیں جلد پتہ لگانا ہوگا کہ ‘وہ’ کہاں سے آئی ہے۔”
چاکا نے دھیرے سے کہا، “میں جانتا ہوں وہ جگہ… جنگل کے بیچ ایک پرانا لاج ہے۔ وہاں اب کوئی نہیں جاتا۔ مگر رات کے وقت وہاں روشنی دکھائی دیتی ہے۔”
سالار نے سر ہلایا، “تو پھر اگلی رات ہم وہاں جائیں گے۔ اگر یہ سب کسی منصوبے کا حصہ ہے — تو اس کا جواب اسی لاج میں ہے۔”
صوفیہ نے خاموشی سے سالار کی طرف دیکھا، “اور اگر وہاں وہ خود ہوئی…؟”
سالار نے خنجر کی دھار پر روشنی پڑنے دی، “تو پھر ہم دیکھیں گے کہ انسان زیادہ خطرناک ہے یا اس کی تخلیق۔”
آسمان پر بادل گرجے۔
جنگل کی سمت سے وہی سانسوں کی آواز پھر ابھری —
“ہہہ… ہہہہہہ…”
اور ہوا میں جلتی آگ کا دائرہ ایک لمحے کو لرز گیا۔
باب ششم — لاج کے دروازے کے پیچھے
رات ایک بار پھر بُمانگا کے جنگلوں پر اتر چکی تھی۔
آسمان پر بادلوں کے پیچھے چاند چھپتا اور نکلتا رہا، جیسے وہ بھی ان شکاریوں کے ساتھ سانس روک کر دیکھ رہا ہو۔
سالار غازی کی ٹیم خاموشی سے چل رہی تھی۔
کاشف کے ہاتھ پر پٹی تھی مگر وہ ضدی قدموں سے ساتھ تھا۔
چاکا راستہ دکھا رہا تھا، اس کی مشعل کا دھندلا سا شعلہ جھاڑیوں پر ناچتا ہوا آگے بڑھتا۔
صوفیہ کے کندھے پر کیمرا لٹک رہا تھا — مگر آج وہ تحقیق کے لیے نہیں، ثبوت کے لیے آئی تھی۔
ڈاکٹر سلیم کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سینسر تھا، جو کسی برقی لہروں کے ردعمل پر مدھم سی بیپ دیتا۔
“دھیان سے چلنا،” چاکا نے دھیرے سے کہا، “اس جنگل میں راستہ بھولنا آسان ہے، اور واپسی کا یقین نہیں رہتا۔”
سالار نے مٹی میں گھٹنے ٹکائے اور انگلیوں سے نشان چھوئے۔
“یہ دیکھو… پنجے کے نشانات۔ مگر انسان کے قدم بھی ساتھ ہیں۔”
صوفیہ چونکی، “انسان؟”
“ہاں، شاید وہی جس نے یہ مخلوق بنائی تھی۔”
چلتے چلتے وہ ایک کھلے میدان میں پہنچے —
درمیان میں ایک بوسیدہ عمارت کھڑی تھی، جس کی دیواروں پر بیلیں چڑھی تھیں اور کھڑکیاں اندھیرے سے لبریز۔
اوپر ایک پرانا سائن بورڈ لٹک رہا تھا —
“KALAMBA RESEARCH FIELD — BIOGENICS DIVISION”
ڈاکٹر سلیم نے بمشکل پڑھا، “یہی جگہ ہے…”
سالار نے بندوق لوڈ کی، “تو دروازہ کھولو۔”
دروازہ زنگ آلود مگر نیم کھلا تھا۔
اندر داخل ہوتے ہی ایک بوسیدہ گند — زنگ، کیمیکل اور سڑنے کی بو — ان کے نتھنوں سے ٹکرائی۔
کمرے میں پرانی فائلیں، ٹوٹی مشینیں، اور خون سے داغ دار شیشے کے چیمبر پڑے تھے۔
کاشف نے سرگوشی کی، “یہ لیب کسی جنگ کے بعد کی لگتی ہے…”
صوفیہ نے ایک فائل اٹھائی۔ اس پر لکھا تھا:
“Project Nyoka — Phase III: Hybrid Test Subjects”
وہ صفحہ پلٹتے ہی چونک اٹھی، “یہ دیکھو! یہاں DNA codes لکھے ہیں… انسان، شیر، اور سانپ کے جینیاتی امتزاج کے تجربات۔”
ڈاکٹر سلیم نے فائل چھینی، “یہ ناممکن ہے… مگر یہاں کے نمونے حقیقی ہیں۔ کسی نے حیوانی خلیوں کو انسانی دماغ کے نیورونز کے ساتھ ملا کر، ایک نیم باشعور مگر مکمل طاقتور جسم بنایا ہے۔”
چاکا کی آواز بھرا گئی، “یہ تو خُدا کے قانون کے خلاف ہے…”
سالار خاموش تھا۔
وہ ایک بڑے شیشے کے چیمبر کے قریب پہنچا، جس میں اندر کچھ ہل رہا تھا۔
“یہ کیا ہے؟”
صوفیہ نے ٹارچ ماری — اور سب کے دل رک گئے۔
اندر ایک انسانی جسم پڑا تھا، مگر اس کے جسم پر کھال نہیں تھی — صرف رگوں میں بہتا ہوا کالا مادہ۔
چہرہ ادھورا، مگر آنکھیں کھلی تھیں۔
اور جیسے ہی روشنی پڑی — وہ پلک جھپکی۔
کاشف پیچھے ہٹا، “یہ زندہ ہے!”
ڈاکٹر سلیم نے سینسر دیکھا — “یہ حرارت لے رہا ہے، مگر دل نہیں دھڑک رہا۔ جیسے کوئی مشین ہو جو زندہ رہنے کا بہانہ کر رہی ہو۔”
سالار نے خنجر نکالا اور قریب گیا۔
“ہمیں جاننا ہوگا یہ کب جاگا تھا — اور کب رکنے والا ہے۔”
اس نے شیشے پر ہاتھ رکھا۔
اچانک چیمبر کے نیچے سے مشین کی آواز آئی —
بیپ… بیپ… ACCESS GRANTED
روشنی جل اُٹھی۔
دیوار کے پیچھے ایک ہولو اسکرین روشن ہوئی۔
ایک دھندلی ویڈیو سامنے آئی — ایک بوڑھا سائنسدان کیمرے کے سامنے تھا۔
“اگر تم یہ دیکھ رہے ہو، تو سمجھ لو کہ Project Nyoka ناکام ہو گیا۔ ہم نے انسان کو طاقتور بنانے کی کوشش میں فطرت کو بیدار کر دیا۔ مخلوقات اب ہمارے قابو میں نہیں رہیں… وہ ہماری لیب سے نکل کر جنگل میں پھیل گئیں۔”
صوفیہ کے ہاتھ کانپ گئے، “یعنی وہ مخلوق صرف ایک نہیں تھی…”
ڈاکٹر سلیم نے ہولے سے کہا، “بلکہ درجنوں۔”
اسی لمحے دیوار کے دوسری طرف سے آواز آئی —
“ہہہ… ہہہہہہ…”
سالار نے بندوق سیدھی کی، “وہ یہاں تک پہنچ گئی ہے۔”
فرش ہلنے لگا، چھت کے اوپر سے دھول گری۔
صوفیہ نے بمشکل کہا، “ہمیں باہر نکلنا ہوگا!”
سالار نے سر ہلایا، “نہیں — پہلے سچ مکمل سننا ہوگا۔”
اسکرین پر آخری الفاظ نمودار ہوئے:
“If anyone hears the roar… run before it learns to think.”
(اگر تم دہاڑ سنو… بھاگ جانا، اس سے پہلے کہ وہ سوچنا سیکھ لے۔)
اسی لمحے باہر سے ایک ایسی چیخ گونجی جیسے درجنوں درندے ایک ساتھ چیخ پڑے ہوں۔
زمین ہل گئی، اور عمارت کے شیشے چکناچور ہو گئے۔
چاکا چیخا، “وہ آ گئے!”
سالار نے غصے سے خنجر مٹھی میں پکڑا، “اب نہیں بھاگیں گے… اب یہ جنگ ختم ہو کر رہے گی۔”
عمارت لرز اٹھی —
اور افریقہ کی زمین نے ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی وحشت کو جاگتے دیکھا۔
باب ہفتم: دھاڑ کی گونج
وہ دھاڑ… دیواروں کو چیرتی ہوئی ان کے دلوں میں اتر گئی۔
سالار نے فوراً پوزیشن لی — “کاشف، دائیں کھڑکی، صوفیہ نیچے جھک جاؤ، ڈاکٹر سلیم فائلیں سنبھالو!”
دھول کے بادلوں کے بیچ، دروازے سے دو دیوہیکل مخلوقات اندر گھس آئیں۔
ان کے قدموں سے زمین ہل رہی تھی۔
ایک کے جسم پر دھات کی پلیٹیں جمی تھیں، جیسے کسی نے اسے مشین اور جانور کے ملاپ سے بنایا ہو۔
دوسرے کے جسم سے کسی تیزاب جیسا مادہ بہہ رہا تھا جو فرش کو پگھلا رہا تھا۔
کاشف نے فائر کیا —
“دھائیں! دھائیں!”
گولیاں سیدھی نشانے پر لگیں مگر مخلوق ذرا نہ رکی۔
اس نے دھاڑ کر دیوار توڑ دی اور کاشف کے قریب پہنچ گئی۔
چاکا نے ایک نیزہ دیوار کے ساتھ ٹیکا اور دھکیل کر اس کے سینے میں گھونپ دیا۔
ایک جھٹکا سا لگا، بجلی کی چمک نکلی، اور وہ جانور چیخ کر پیچھے ہٹ گیا۔
ڈاکٹر سلیم نے چلاتے ہوئے کہا، “یہ برقی رو سے حساس ہیں! دھات کی پرت شاید ان کے اندرونی نظام کو کنٹرول کرتی ہے۔”
سالار نے فوراً حکم دیا، “جو دھات ہے، وہی کمزوری ہے — ٹارچ کی روشنی فوکس کرو ان کے دھاتی حصوں پر!”
چاروں اطراف سے شعاعیں چمکیں۔
پہلی مخلوق نے آنکھیں موند لیں اور پیچھے ہٹنے لگی۔
دوسری نے دیوار سے ٹکر مار کر فرش میں سوراخ کر دیا اور نیچے کی طرف غائب ہو گئی۔
چند لمحوں کے سکوت کے بعد صوفیہ نے آہستہ سے کہا،
“وہ نیچے جا رہے ہیں… نیچے کوئی راستہ ہے۔”
سالار نے زمین پر جھک کر دیکھا — واقعی فرش کے نیچے سرنگ کا دہانہ تھا۔
وہ مٹیالے فرش پر ہاتھ رکھ کر بولا،
“یہی وہ راستہ ہے جہاں Subject 0 گیا ہوگا۔ یہ سب اسی کے نشان پر چل رہے ہیں۔”
کاشف نے تلخی سے ہنسا، “یعنی اب ہم ان کے پیچھے جانا چاہتے ہیں؟ پاگل ہو گئے ہو؟”
سالار نے بندوق لوڈ کی، “پاگل نہیں، شکاری۔ اگر ہم یہاں رکے تو وہ واپس آئیں گے۔ اور اس بار شاید نکلنے کا موقع نہ ملے۔”
چاکا نے اطمینان سے نیزہ اٹھایا، “میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
صوفیہ نے فائل کو بیگ میں ڈالتے ہوئے کہا، “اور میں وہ راز ڈھونڈوں گی جو یہ سب چھپا رہے ہیں۔”
ڈاکٹر سلیم نے آخری نظر تباہ حال لیب پر ڈالی، “پھر نیچے ہی سچ ہے۔”
سالار نے مشعل جلائی۔ سرنگ اندھیرے میں جا رہی تھی — نیچے، بہت نیچے۔
ہوا میں لوہے اور خون کی ملی جلی بو تھی۔
ہر قدم کے ساتھ ایک نیا شور سنائی دیتا — کبھی دھڑکن، کبھی کسی مشین کا گونجتا آہنگ۔
چند میٹر نیچے جانے کے بعد دیواروں پر نشان ابھرنے لگے — ہاتھ سے بنے، مگر انسانی نہیں۔
صوفیہ نے مشعل قریب کی، “یہ ڈی این اے ساخت کے ڈایاگرام ہیں… مگر کسی اور زبان میں۔”
سالار نے سر اٹھایا، “یہ تجربہ گاہ نہیں… قید خانہ ہے۔”
اچانک پیچھے سے وہی دھاڑ پھر سنائی دی،
مگر اب یہ قریب تھی —
بہت قریب۔
سالار نے بندوق سنبھالی،
“Subject 0 ہمیں دیکھ رہا ہے۔”
باب ہشتم: زیرِ زمین لیب
سرنگ کے آخر میں نمی اور زنگ کی بو پھیلی ہوئی تھی۔
مشعل کی روشنی دیواروں پر لرز رہی تھی۔ دھول سے ڈھکے پتھر جیسے کسی صدی پرانی چُپ کے گواہ ہوں۔
قدموں کی چاپ دھیرے دھیرے پتھریلے فرش پر گونج رہی تھی، اور ہر گونج خوف میں بدلتی جا رہی تھی۔
سالار نے سرگوشی کی، “یہاں ہوا بہت بھاری ہے۔ لگتا ہے نیچے کوئی وینٹیلیشن نہیں۔ محتاط رہو۔”
چاکا نے جواب دیا، “یہ زمین خود سانس روک کر بیٹھی ہے، سالار… جیسے کچھ انتظار میں ہو۔”
کچھ ہی فاصلے پر سرنگ ایک کھلے کمرے میں بدل گئی —
ایک دیوہیکل زیرِ زمین لیب، جس کے بیچوں بیچ شیشے کے سلنڈر نصب تھے۔
ان سلنڈرز میں مختلف اشکال کے جسم تیر رہے تھے —
آدھے انسانی، آدھے حیوانی۔ کچھ کے چہرے مسخ شدہ، کچھ کے جسم ناتمام۔
صوفیہ نے بیگ سے فائل نکال کر کہا، “یہی وہی نشان ہیں جو اوپر دیواروں پر تھے… یہ سارا کام Project Nyoka کے نام سے چل رہا تھا۔”
ڈاکٹر سلیم نے چونک کر کہا، “Nyoka؟ یعنی ‘سانپ’… افریقی زبان میں۔”
سالار نے سخت لہجے میں کہا، “یہ تجربہ نہیں، لعنت ہے۔ کسی نے انسان کو فطرت کے خلاف کھڑا کیا ہے۔”
کاشف نے سلنڈروں کے قریب جا کر ایک بورڈ پڑھا۔
اس پر لکھا تھا:
Subject 0 – Result: Uncontrolled mutation. Status: Escaped.
چاکا نے مشعل بلند کی، “یعنی وہی مخلوق… وہی جس نے بُمانگا پر حملہ کیا۔”
ڈاکٹر سلیم نے گہری سانس لی، “یہ انسانی جسم میں جانوروں کے جینز داخل کرنے کی کوشش تھی، مگر کچھ غلط ہو گیا۔ شاید ان کے دماغی خلیے پاگل ہو گئے…”
سالار نے ہاتھ سے اشارہ کیا، “خاموش رہو — کچھ ہل رہا ہے۔”
لیب کے آخری حصے میں اندھیرے کے اندر ایک حرکت محسوس ہوئی۔
ایک سایہ آہستہ آہستہ روشنی میں آیا۔
وہ Subject 0 تھا — مگر اب پہلے سے بڑا، زیادہ بگڑا ہوا۔
اس کے جسم پر نئی تہیں بن چکی تھیں، جیسے کسی نے اسے بار بار جوڑ کر زندہ رکھا ہو۔
صوفیہ نے بے اختیار قدم پیچھے ہٹایا، “یہ اب انسانی نہیں رہا…”
مخلوق نے دھیرے سے سر اٹھایا۔
اس کی آواز اب انسانی الفاظ کی نقل کر رہی تھی —
“ت…م… لو…گ… کیو…ں… آئے…”
ڈاکٹر سلیم نے کانپتی آواز میں کہا، “یہ بول رہا ہے! اس کے دماغی خلیے ابھی زندہ ہیں!”
سالار نے خنجر سنبھالا، “ہم سچ کے پیچھے آئے ہیں — اور شاید تم خود سچ ہو۔”
مخلوق نے ایک چیخ ماری، اتنی تیز کہ شیشے کے سلنڈر پھٹ گئے۔
تیزاب جیسا مادہ بہنے لگا، زمین سے دھواں اٹھا۔
کاشف نے مشین کے پیچھے سے فائر کیا، مگر مخلوق بجلی کی طرح حرکت کرتی تھی۔
ایک جھٹکے سے اس نے چاکا کو دیوار سے دے مارا۔
صوفیہ چیخی، “چاکا!”
سالار آگے بڑھا، خنجر سے وار کیا۔
مخلوق نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، مگر سالار نے اپنی پوری طاقت لگا دی۔
خنجر مخلوق کے بازو میں دھنس گیا۔ اندر سے روشنی پھوٹی — نیلی روشنی۔
ڈاکٹر سلیم نے فوراً چلاتے ہوئے کہا،
“یہ خلیاتی ردعمل ہے! اگر ہم اس کے توانائی کے مرکز کو نشانہ بنائیں، تو شاید اسے روکا جا سکے!”
صوفیہ نے قریب پڑی الیکٹرک روڈ اٹھائی اور مشین سے جوڑ کر بٹن دبایا۔
بجلی کی کڑک فضا میں پھیل گئی —
سالار نے خنجر گھمایا، صوفیہ نے روڈ اس کے جسم سے لگائی —
روشنی کا دھماکہ ہوا، اور Subject 0 چیخ کر زمین پر گر گیا۔
خاموشی چھا گئی۔
لیب کے آلات بند ہونے لگے، بجلی ٹمٹمانے لگی۔
صوفیہ ہانپتے ہوئے بولی، “کیا یہ… ختم ہو گیا؟”
ڈاکٹر سلیم نے نیچے جھک کر کہا، “نہیں… دیکھو…”
Subject 0 کا جسم تحلیل نہیں ہو رہا تھا — بلکہ وہ تیزی سے سیاہ مائع میں بدلنے لگا۔
سالار نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا، “یہ مر نہیں رہا… یہ تبدیل ہو رہا ہے!”
زمین ہلنے لگی۔
سلنڈرز ایک ایک کر کے ٹوٹنے لگے۔
اندر سے چھوٹی، مختلف شکلوں والی مخلوقات نکلنے لگیں۔
کاشف نے بندوق لوڈ کی، “یہ تو فوج ہے…!”
سالار نے گہری سانس لی،
“اب ہمیں لیب نہیں، افریقہ بچانا ہے۔”
باب نہم: آخری رات کا آغاز
زیرِ زمین لیب کے دھماکے نے پورے بُمانگا جنگل کو ہلا کر رکھ دیا۔
زمین جیسے اپنے اندر کچھ چھپائے ہوئے تھی، جو اب باہر آنے پر تُلا ہوا تھا۔
سلنڈروں کے ٹوٹنے کے بعد نکلنے والی مخلوقات زمین سے اوپر کی طرف بڑھنے لگیں — ان کی چیخیں ہوا میں گونجتی ہوئی پتھروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھیں۔
سالار نے زخمی چاکا کو سہارا دیا، “ہمیں اوپر جانا ہوگا، ورنہ یہ سب باہر نکل جائیں گے۔”
صوفیہ نے ہاتھ میں لائٹ پکڑ کر راستہ دکھایا، مگر سرنگ کے دہانے سے پہلے ہی زلزلے کی شدت نے سب کو گرا دیا۔
ڈاکٹر سلیم نے چلا کر کہا، “یہ لیب خود تباہ ہو رہی ہے! ہمیں ابھی نکلنا ہوگا!”
جب وہ اوپر پہنچے، تو بُمانگا گاؤں ایک لرزتے میدان میں بدل چکا تھا۔
درخت جھک رہے تھے، آگ کے شعلے ادھر اُدھر ناچ رہے تھے، اور آسمان پر بادل کسی کالے دھوئیں کی طرح جمع ہو گئے تھے۔
کاشف نے لرزتی آواز میں کہا، “سالار… دیکھو!”
جنگل کی سمت سے وہی سیاہ مائع اب زمین پر رینگتا ہوا پھیل رہا تھا —
جہاں بھی وہ چھوتا، گھاس جل جاتی، درختوں کی چھال پگھلنے لگتی۔
اور اس مائع سے نئی مخلوقات جنم لے رہی تھیں… چھوٹی، تیز، اور خطرناک۔
چاکا نے دانت بھینچے، “یہ اب صرف لیب کا مسئلہ نہیں رہا — یہ فطرت کی بغاوت ہے!”
سالار نے بندوق لوڈ کی، “تو پھر جواب بھی فطرت کی زبان میں دینا ہوگا۔”
انہوں نے گاؤں کے مرکزی حصے میں مورچہ بند ہونے کا فیصلہ کیا۔
صوفیہ نے پرانے ذخیرے سے تیل اور بارود نکالا، کاشف نے رائفلوں کی پوزیشن سنبھالی،
ڈاکٹر سلیم ایک دستی بم نما آلہ تیار کر رہا تھا —
“یہ ایک کیمیائی کمپاؤنڈ ہے۔ اگر ہم اسے مائع کے مرکز پر پھینک سکیں، تو اس کی خلیاتی ساخت ٹوٹ جائے گی۔”
سالار نے پوچھا، “اور اگر نہ ٹوٹی؟”
ڈاکٹر سلیم نے سنجیدگی سے کہا، “تو پھر ہم سب بھی اسی تجربے کا حصہ بن جائیں گے۔”
ہوا میں ایک تیز شور ابھرا — جیسے سو مخلوقات ایک ساتھ سانس لے رہی ہوں۔
درختوں کے پیچھے درجنوں آنکھیں جگنوؤں کی طرح روشن ہوئیں۔
پھر دھاڑ!
پوری زمین ہل گئی۔
Subject 0 اب دوبارہ نمودار ہوا — مگر اب وہ مکمل طور پر انسان کی شکل میں نہیں تھا۔
اس کے جسم کے کنارے سے چھوٹی مخلوقات پھوٹ رہی تھیں، گویا وہ خود ان کی ماں بن چکا ہو۔
اس نے ایک گرجدار آواز میں کہا،
“تم نے مجھے بنایا… اور اب تم میرا انجام دیکھو گے!”
سالار آگے بڑھا، “نہیں، تمہیں فطرت نے نہیں بنایا — تمہیں انسان کے غرور نے بنایا۔ اور غرور ہمیشہ مٹتا ہے!”
مخلوق نے چیخ کر حملہ کیا۔
بارود پھٹنے لگا، درختوں میں آگ بھڑک اٹھی، اور جنگل کی رات دن میں بدل گئی۔
گولیاں، چیخیں، دھواں، اور بجلی کی چمک ہر طرف پھیل گئی۔
کاشف ایک درخت کے پیچھے چھپ کر فائر کرتا رہا۔ چاکا نے زخمی حالت میں بھی مخلوقات کو روکے رکھا۔
صوفیہ نے ہاتھ میں بم اٹھایا، “سالار! یہی وہ لمحہ ہے — مرکز وہی ہے جہاں سے یہ مائع پھوٹ رہا ہے!”
سالار نے گرد آلود چہرے کے ساتھ سر ہلایا، “پھینک دو، صوفیہ — ابھی!”
بم فضا میں گھوما اور زمین پر جا گرا —
ایک لمحے کی خاموشی —
پھر روشنی کا طوفان پھوٹ پڑا۔
نیلی شعاعوں نے ہر طرف لپک مار دی۔
مخلوقات ایک ایک کر کے سیاہ راکھ میں بدلنے لگیں۔
Subject 0 نے آخری بار چیخ ماری — “تم… نہیں… سمجھو گے…” — اور پھر روشنی میں تحلیل ہو گیا۔
خاموشی۔
ہوا میں صرف جلے ہوئے درختوں کی بو تھی۔
بارش شروع ہو گئی — افریقہ جیسے خود ان زخموں کو دھو رہا ہو۔
صوفیہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی، “کیا یہ… ختم ہو گیا؟”
سالار نے آسمان کی طرف دیکھا۔
“نہیں… کہانی ختم نہیں ہوئی۔ جب تک انسان فطرت کو چیلنج کرتا رہے گا، فطرت جواب دیتی رہے گی۔”
دور افق پر بجلی چمکی —
اور اس چمک کے بیچ، لمحہ بھر کو، جنگل کے اندھیرے میں پھر دو سرخ آنکھیں جھلکیں۔
باب دہم — خاموشی کے بعد
بارش رات بھر برستی رہی۔
درگال کی وادی میں اب وہ شور نہیں تھا جو چند گھنٹے پہلے زمین کو چیر رہا تھا۔
اب صرف خاموشی تھی — ایک عجیب، غیر فطری خاموشی، جس میں ہر پتے، ہر قطرے، ہر سانس کی بازگشت چھپی ہوئی تھی۔
سالار غازی، صوفیہ، کاشف، چاکا، اور ڈاکٹر سلیم — پانچوں کسی طرح اس آگ اور بارود سے نکل کر وادی کے کنارے ایک ٹوٹی ہوئی چٹان کے نیچے پناہ گزین تھے۔
صبح کا دھندلا اجالا ابھرا تو سب کے چہروں پر تھکن کے ساتھ ایک ناقابلِ بیان سکون تھا۔
وہ زندہ تھے… لیکن کچھ ان میں مر چکا تھا — شاید خوف، شاید غرور، شاید دونوں۔
ڈاکٹر سلیم کے ہاتھوں میں وہ آلہ اب محض ایک جلا ہوا ڈبہ رہ گیا تھا۔
“یہ ختم ہو گیا… ہر چیز جل گئی…” اُس نے شکستہ لہجے میں کہا۔
صوفیہ نے آسمان کی طرف دیکھا، “یا شاید ہر چیز ابھی شروع ہوئی ہے۔”
سالار خاموش بیٹھا مٹی میں ایک پتھر سے نشان بنا رہا تھا۔
“ہم نے صرف مخلوقات کو مارا، مگر ان کے خالق کو نہیں۔”
کاشف چونکا، “کیا مطلب؟ Subject 0 تو ختم ہو گیا!”
سالار نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“Subject 0 کوئی ایک جسم نہیں تھا، کاشف… وہ ایک خیال تھا — انسانی غرور کا۔
اور خیالات کو گولی سے نہیں مارا جا سکتا۔”
چاکا نے زخمی ہاتھ سے پٹی کھولی،
“اگر وہ خیال دوبارہ جنم لے سکتا ہے، تو ہمیں کیا کرنا ہوگا؟”
سالار نے نگاہیں دور وادی پر گاڑ دیں، “ہمیں اپنی نوع سے بات کرنی ہوگی۔”
تین دن بعد، وہ سب واپس دارالحکومت لوٹے۔
ملک بھر کے اخبارات میں سرخیاں تھیں:
“درگال میں پراسرار دھماکے — کوئی بچا نہیں!”
“افریقی ریسرچ یونٹ کا انجام؟ حقیقت یا خرافات؟”
لیکن حکومت نے اس معاملے کو “نامعلوم آتشزدگی” قرار دے دیا۔
ریسرچ فائلز جلا دی گئیں۔
لیکن ڈاکٹر سلیم نے کچھ ڈیٹا چھپا لیا تھا —
ہارڈ ڈرائیو کا ایک ٹکڑا، جس میں “Project Alpha-Origin” نامی فولڈر ابھی زندہ تھا۔
صوفیہ نے اس فولڈر کو کھولا۔
اس میں صرف ایک لائن لکھی تھی:
“Phase Two — Begin in Himalayas.”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
سالار نے دھیرے سے کہا، “یعنی کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی…”
کاشف نے میز پر مکا مارا، “تو کیا کسی اور جگہ وہ سب کچھ دوبارہ ہونے والا ہے؟”
ڈاکٹر سلیم نے اثبات میں سر ہلایا، “اگر ہم نے نہ روکا تو ہاں۔ وہی تجربہ، بس نیا نام، نیا ملک، اور نئی مخلوقات۔”
رات کو، سالار دفتر سے اکیلا نکلا۔
بارش دوبارہ شروع ہو گئی تھی۔
سڑکوں پر چلتے ہوئے اسے جنگل کی وہ چیخیں یاد آئیں جو اب بھی کہیں ذہن کے اندر گونجتی تھیں۔
وہ رکا، آسمان کی طرف دیکھا — بادلوں کے پیچھے بجلی چمکی،
اور لمحہ بھر کے لیے اس نے محسوس کیا کہ بادلوں کی گہرائی میں،
دو سرخ آنکھیں پھر جھلکیں —
بالکل ویسی جیسی Subject 0 کی تھیں۔
سالار کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ ابھری، “میں تیار ہوں…”
وہ مڑ کر اندھیرے میں گم ہو گیا۔
چند ماہ بعد۔
ایک بین الاقوامی سیمینار میں صوفیہ نے ایک مقالہ پیش کیا:
“The Ethics of Creation — What Happens When Nature Answers Back?”
ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
جب اس نے کہا:
“ہم فطرت کے مالک نہیں… ہم صرف اس کے مہمان ہیں۔
اور اگر ہم میزبان کو بھول جائیں، تو وہ ہمیں گھر سے باہر نکال دیتی ہے۔”
سامعین دیر تک تالی بجاتے رہے۔
مگر صوفیہ کے چہرے پر کوئی خوشی نہیں تھی —
صرف ایک سایہ، جو آنکھوں کے نیچے بڑھتا جا رہا تھا۔
سیمینار کے بعد، ایک نامعلوم شخص اس کے قریب آیا۔
سفید کوٹ، کالی عینک، اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا USB۔
“ڈاکٹر صوفیہ، آپ کی تحقیق متاثر کن ہے۔
شاید ہمیں آپ جیسے ذہن کی ضرورت ہو — ہمالیہ میں ایک نئے پروجیکٹ کے لیے۔”
صوفیہ کا دل رک سا گیا۔
“آپ کون ہیں؟”
وہ مسکرایا، “میں وہ ہوں جس نے درگال کا فیز ٹو شروع کیا ہے۔”
اور اگلے لمحے وہ ہجوم میں غائب ہو گیا۔
صوفیہ نے USB ہاتھ میں لیا۔
اس پر ایک کوڈ لکھا تھا:
ALPHA_2.0
اسی رات، دارالحکومت کے باہر واقع ایک بنجر میدان میں
سالار غازی اپنی گاڑی میں بیٹھا فائلیں دیکھ رہا تھا۔
فون بجا — اسکرین پر صرف دو لفظ چمک رہے تھے:
“Phase Two.”
سالار نے آہستہ سے بندوق لوڈ کی۔
“یہ ختم نہیں ہوا… بس نیا باب شروع ہونے والا ہے۔”
دور کہیں، ہوا کے ساتھ ایک ہلکی دھاڑ سنائی دی۔
بارش کی بوندیں زمین پر گریں۔
افق پر بجلی چمکی —
اور ایک لمحے کے لیے، آسمان میں روشنی سے ایک سایہ ابھرا —
وہی دو سرخ آنکھیں۔


