Sunday, November 30, 2025
HomeUrdu Storiesشکاریات سیریز – سالار غازی کا پہلا شکار

شکاریات سیریز – سالار غازی کا پہلا شکار

شکاریات سیریز – سالار غازی کا پہلا شکار

حسان احمد اعوان کے قلم سے 

شکاریات سیریز     –      سالار غازی کا پہلا شکار

شکاریات سیریز     –      سالار غازی کا پہلا شکار

Listen this story here : 

حصہ اوّل: خوف کی فضا

رات کا پچھلا پہر تھا۔ گاؤں کے اطراف میں سنّاٹا ایسا پھیلا ہوا تھا کہ گویا پوری زمین سانس روک کر کسی حادثے کا انتظار کر رہی ہو۔ دور کہیں لکڑیوں کے جلنے کی بو، کتّوں کے بھونکنے کی مدھم آواز اور کبھی کبھار جھینگروں کی چیخ جیسے اس خاموشی کو مزید گہرا کر دیتی۔

سالار غازی صحن میں بچھے دری پر نیم دراز تھا۔ اس کی نظریں آسمان کے ان تاروں پر جمی تھیں جو دھیرے دھیرے بادلوں کے پیچھے چھپ رہے تھے۔ گاؤں میں کئی دنوں سے ایک شیر کی دہشت طاری تھی۔ وہ رات کو مویشیوں پر جھپٹ پڑتا، کبھی کسی تنہا کسان کو اپنا شکار بنا لیتا۔ لوگ چراغ گل کر کے گھروں میں دبکے بیٹھ جاتے۔ کسی کی ہمت نہ تھی کہ اس درندے کا مقابلہ کرے۔

لیکن سالار غازی کا خون کھول رہا تھا۔ اسے اپنے بزرگوں کی وہ داستانیں یاد آ رہی تھیں جب میدانِ جنگ میں بھی ان کا نام گونجتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا:
“یہ شیر کوئی عام درندہ نہیں۔ یہ ہمارے لوگوں کی غیرت کو للکار رہا ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل ہماری نسلیں ہمیں بزدل کہیں گی۔”

اسی سوچ میں تھا کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ نوکر “کاشف” دبے قدموں اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں لالٹین کانپ رہی تھی۔
“سالار صاحب… ابھی خبر آئی ہے۔ شیر نے پھر حملہ کیا ہے۔ حاجی رحمت کے بیل کو گھسیٹ کر لے گیا ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔”

سالار نے آہستہ آہستہ اٹھتے ہوئے کہا:
“اب وقت آ گیا ہے، کاشف۔ ہم صبح کا انتظار نہیں کریں گے۔ رات ہی رات جنگل کا رخ کریں گے۔”

کاشف کے منہ سے گھبراہٹ میں نکلا:
“رات کو؟ حضور… یہ اندھی وادی ہے۔ وہاں دن کو بھی روشنی کم پہنچتی ہے، رات کا اندھیرا تو اور ہولناک ہو گا۔”

سالار نے ایک نظر تلوار اور بندوق پر ڈالی، پھر بھرپور اعتماد سے بولا:
“شکار دن دیکھ کر نہیں کیا جاتا، ہمت دیکھ کر کیا جاتا ہے۔”


حصہ دوئم: جنگل کا راستہ

چند ہی لمحوں بعد دونوں گھوڑوں پر سوار اندھی وادی کے جنگل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کاشف کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ لگام سے صاف جھلک رہی تھی، جبکہ سالار کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے وہ شیر سے پہلے ہی آمنے سامنے ہو چکا ہو۔

جنگل کا راستہ خشک پتوں سے اٹا ہوا تھا۔ گھوڑوں کے سم زمین پر پڑتے تو کڑکڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا اور ہوا میں نمی کا بوجھ۔ ایک جگہ درختوں کی ٹہنیاں اتنی گھنی ہو گئیں کہ چاند کی روشنی بھی اندر نہ جا سکی۔

کاشف نے ہچکچاتے ہوئے کہا:
“سالار صاحب… ہمیں دن نکلنے تک انتظار کر لینا چاہیے تھا۔ دیکھئے، گھوڑے بھی بے چین ہیں۔”

سالار نے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا:
“درندے کی کمزوری یہی ہے کہ وہ سمجھتا ہے رات اس کا وقت ہے۔ لیکن آج کی رات ہماری ہے۔”

چلتے چلتے اچانک ایک جھاڑی میں کھڑکھڑاہٹ ہوئی۔ کاشف کی سانس رک گئی۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا:
“یہ… یہ وہی ہے!”

سالار نے بندوق سنبھالی اور آہستہ سے گھوڑے سے اتر گیا۔ جھاڑی کے قریب جا کر دیکھا تو ایک جنگلی خرگوش نکل کر بھاگ گیا۔ سالار کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ آ گئی، لیکن کاشف کی جان میں جان آئی۔

“کاشف، یہ جنگل ہمیں دھوکا دیتا ہے۔ اصل شکار سامنے آئے گا تو پہچاننے میں دیر نہیں ہو گی۔”


حصہ سوئم: پہلی آہٹ

رات کے تیسرے پہر کا عالم تھا۔ ہوا میں عجیب سی بُو شامل ہو گئی تھی۔ سالار اچانک رک گیا۔
“کاشف! محسوس کیا تم نے؟ یہ خون کی بُو ہے۔”

کاشف کے نتھنوں نے واقعی ایک بوسیدہ، خونی سی خوشبو محسوس کی۔ دونوں نے لالٹین بجھا دی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھے۔

چند قدم بعد منظر سامنے آیا۔ ایک بیل کا لاشہ زمین پر پڑا تھا، گردن پھاڑی گئی تھی اور اردگرد خون جما ہوا تھا۔ بیل کی آنکھیں اب بھی کھلی تھیں، جیسے موت کے لمحے میں بھی اس نے مزاحمت کی ہو۔

کاشف نے گھبرا کر پیچھے ہٹتے ہوئے کہا:
“یا اللہ… یہ تو تازہ شکار ہے۔ مطلب شیر یہیں قریب ہے۔”

سالار نے زمین پر پنجوں کے نشانات دیکھے، پھر تیزی سے کہا:
“یہ دیکھو، تازہ قدموں کے نشان ہیں۔ وہ زیادہ دور نہیں گیا۔”

اتنے میں اچانک دور سے ایک ایسی دھاڑ سنائی دی کہ کاشف کے گھٹنے لرزنے لگے۔ آواز میں ایسی گونج تھی کہ درختوں کی شاخیں ہل گئیں۔

سالار نے بندوق سنبھالی اور کہا:
“اب اصل کھیل شروع ہوا۔”


حصہ چہارم: حملے کی دستک

سالار اور کاشف نے آہستہ آہستہ جھاڑیوں میں قدم رکھا۔ اندھیرا ایسا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا۔ اچانک ایک جوڑی آنکھیں جھاڑیوں کے بیچ چمکیں—پیلی آگ جیسی، بھیانک اور بے رحم۔

کاشف کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
“وہ… وہ سامنے ہے!”

اگلے ہی لمحے جھاڑیوں میں زبردست حرکت ہوئی۔ شیر بجلی کی طرح جھپٹا۔ سالار نے لمحے بھر کی تاخیر کے بغیر بندوق کا گھوڑا دبایا۔ دھماکے کی آواز گونجی، چنگھاڑ بلند ہوئی اور شیر زمین پر لڑھک گیا… لیکن فوراً ہی وہ جھٹکا کھا کر اٹھا اور زخمی حالت میں جنگل کی طرف لپکا۔

کاشف کا دل حلق میں آ گیا۔
“سالار صاحب! یہ تو زندہ بچ گیا۔ اب تو اور خطرناک ہو گیا ہے!”

سالار نے پُرعزم لہجے میں جواب دیا:
“زخمی شیر موت سے بھی زیادہ ہولناک ہوتا ہے۔ مگر یاد رکھو، ہمارا شکار ابھی ختم نہیں ہوا۔”


حصہ پنجم: تعاقب کی شروعات

خون کی لکیریں زمین پر دور تک پھیلی تھیں۔ سالار ان نشانات کو دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا جبکہ کاشف ہر آہٹ پر چونک رہا تھا۔ رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔

اچانک درختوں کے اوپر سے الو کی تیز آواز آئی۔ کاشف نے چونک کر کہا:
“یہ بدشگونی ہے حضور، ہمیں واپس چلنا چاہیے۔”

سالار نے تیز قدم بڑھاتے ہوئے کہا:
“کاشف! یہ الو نہیں، یہ جنگل کا اشارہ ہے کہ شیر یہیں کہیں چھپا ہے۔”

چلتے چلتے وہ ایک کھلے میدان میں پہنچے۔ چاروں طرف خاموشی تھی۔ کاشف نے گھبرا کر کہا:
“یہاں تو کچھ نہیں لگ رہا۔ ہو سکتا ہے وہ ہماری نظر سے بچ نکلا ہو۔”

سالار نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر مٹی چھوئی، پھر خون کے تازہ قطروں کی طرف اشارہ کیا:
“نہیں کاشف، وہ قریب ہے۔ بہت قریب…”

اور اگلے ہی لمحے ایک جھاڑی کے پیچھے سے دوبارہ وہی وحشی دھاڑ بلند ہوئی—اتنی قریب کہ دونوں کے کان سن ہو گئے۔

حصہ ششم: خوف کی گرفت

شیر کی قریب سے گونجتی دھاڑ نے جنگل کو ہلا دیا۔ کاشف کا رنگ پیلا پڑ گیا اور اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے ہکلاتے ہوئے کہا:
“سالار صاحب… وہ یہیں ہے… اور ہمیں گھیر چکا ہے!”

سالار نے بندوق کا گھوڑا دوبارہ چڑھایا، آنکھیں نیم وا کر کے آواز کا رخ پہچانا اور بولا:
“ہمت کرو کاشف! یہ جنگل اس درندے کا نہیں، ہمارا ہے۔”

دونوں آہستہ آہستہ جھاڑیوں کی طرف بڑھے۔ اچانک گھنی شاخوں کے بیچ سے شیر کا وحشی سایہ ابھرا، آنکھوں میں سرخی، دانت باہر نکلے ہوئے۔ وہ دھاڑتے ہوئے اتنی تیزی سے لپکا کہ زمین جیسے کانپ گئی۔


حصہ ہفتم: آتش اور خون

سالار نے لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر گولی چلائی۔ دھماکے کی آواز سے درختوں کی ٹہنیاں لرز گئیں۔ شیر ایک بار پھر زمین پر گرا مگر فوراً ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ اس بار اس کا غصہ کئی گنا بڑھ چکا تھا۔ اس کی دھاڑ میں زخمی ہونے کا قہر اور انتقام جھلک رہا تھا۔

کاشف نے خوفزدہ ہو کر چیخ مار دی اور درخت کے پیچھے چھپ گیا۔
“یا اللہ! یہ مر کیوں نہیں رہا!”

سالار نے تلوار میان سے کھینچی اور آگے بڑھتے ہوئے کہا:
“یہ وہ درندہ ہے جو موت کو بھی چیلنج دیتا ہے۔ مگر آج اس کی آخری رات ہے۔”

شیر نے دوبارہ جھپٹا۔ سالار ایک طرف لپکا اور تلوار شیر کی گردن کے قریب چمکی۔ خون کے فوارے چھوٹے، شیر گرجتا ہوا پیچھے ہٹا۔


حصہ ہشتم: جان لیوا خاموشی

چند لمحوں کے لیے جنگل پر سنّاٹا چھا گیا۔ کاشف نے لرزتی آواز میں کہا:
“خدا کے لیے واپس چلیں، حضور۔ یہ شیر عام نہیں… یہ خونی بلا ہے!”

سالار نے سخت لہجے میں جواب دیا:
“کاشف! اگر ہم آج پیچھے ہٹ گئے تو کل یہ درندہ ہمارے گاؤں کے بچوں کو بھی نگل لے گا۔”

اس دوران شیر غائب ہو گیا۔ چاروں طرف گہری خاموشی تھی۔ رات کا اندھیرا اور درندے کا نہ دکھائی دینا دونوں مل کر ایک ایسا خوف پیدا کر رہے تھے کہ کاشف کی ہمت جواب دے رہی تھی۔

سالار نے زمین پر خون کے قطروں کو دیکھا اور کہا:
“وہ زخمی ہے۔ وہ ہمیں اندھیرے میں شکار بنانا چاہتا ہے۔”

کاشف کی زبان لڑکھڑائی:
“یعنی وہ ہمیں گھات لگا رہا ہے؟”

سالار کی آنکھوں میں عزم جھلکا:
“ہاں… اور ہمیں بھی گھات لگانی ہوگی۔”


حصہ نہم: موت کے دہانے پر

سالار نے کاشف کو ایک درخت کے پیچھے پناہ لینے کا اشارہ کیا اور خود بندوق سنبھال کر زمین پر بیٹھ گیا۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ اچانک جھاڑیوں میں کھڑکھڑاہٹ ہوئی، پھر لمحہ بھر بعد شیر دوبارہ نمودار ہوا۔

اس بار وہ زخمی ضرور تھا مگر اس کی آنکھوں میں وحشت کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ وہ براہِ راست کاشف کی طرف لپکا۔ کاشف کی چیخ جنگل میں گونجی:
“سالار صاحب… بچائیے!”

سالار نے بندوق سیدھی کی اور گولی چلائی۔ دھماکے کے ساتھ شیر کا رخ بدل گیا اور وہ زمین پر لڑھک گیا۔ لیکن وہ اب بھی زندہ تھا، اس کے پنجے زمین پر رگڑ کھا رہے تھے اور دھاڑ سے کانپ اٹھ رہے تھے۔


حصہ دہم: آخری جنگ

سالار آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ شیر نے زخمی حالت میں آخری بار جھپٹنے کی کوشش کی۔ سالار ایک شیر کی سی پھرتی کے ساتھ ایک طرف ہٹا اور پوری قوت سے تلوار اس کے سینے میں اتار دی۔

ایک ایسی چیخ نکلی کہ پورا جنگل لرز اٹھا۔ پھر شیر زمین پر گر کر بے جان ہو گیا۔ اس کے دانت اب بھی باہر نکلے ہوئے تھے، مگر آنکھوں کی وحشت بجھ چکی تھی۔

کاشف روتے ہوئے باہر نکلا اور سالار کے قدموں میں بیٹھ گیا:
“حضور! آپ نے ہمیں موت کے منہ سے نکال لیا۔”

سالار نے تھکی مگر مضبوط آواز میں کہا:
“یہ جنگ ہماری بہادری کی نہیں، ہمارے گاؤں کی بقا کی تھی۔”


حصہ یازدہم: صبح کا اجالا

صبح کی روشنی پھیل رہی تھی۔ سالار اور کاشف شیر کی لاش کے ساتھ گاؤں واپس لوٹے۔ گاؤں کے لوگ حیرت اور خوشی سے تالیاں بجا رہے تھے، عورتیں دعائیں دے رہی تھیں۔ بچے شیر کی مردہ لاش کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

حاجی رحمت نے آنکھوں میں آنسو لیے سالار کو گلے لگایا:
“بیٹا! تم نے ہمارے گاؤں کو بچا لیا۔ یہ احسان ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔”

سالار نے دھیرے سے کہا:
“یہ صرف ایک درندے کی کہانی ہے۔ جنگل کے سینے میں ابھی اور کئی خوفناک راز چھپے ہیں۔ ہمیں تیار رہنا ہو گا۔”

اور یوں اندھی وادی کا خوف ختم ہوا، لیکن سالار غازی کی شکاری دنیا کی کہانی صرف شروع ہوئی تھی۔

حصہ دوازدہم: فتح کے بعد کی خاموشی

شیر کی لاش گاؤں کے بیچوں بیچ پڑی تھی۔ بچے حیرت سے اسے گھیرے کھڑے تھے، بوڑھے اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے، اور عورتیں سالار کے حق میں دعائیں دے رہی تھیں۔ مگر سالار کے چہرے پر خوشی کم اور سوچ زیادہ تھی۔

کاشف نے دھیمی آواز میں کہا:
“حضور، یہ تو کمال ہو گیا۔ اب تو آپ کا نام دور دور تک لیا جائے گا۔”

سالار نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا:
“کاشف، یہ نام یا شہرت کا کھیل نہیں۔ یہ صرف ایک آغاز ہے۔ ایک زخمی شیر نے ہمارے گاؤں کو خوف سے آزاد کیا، مگر جنگل میں اب بھی کئی بلا ہیں جو انسانوں کی بستیوں کو للکارتی ہیں۔”

اس نے نظریں آسمان کی طرف اٹھائیں جہاں سورج کی کرنیں نئے دن کا پیغام دے رہی تھیں:
“اصل امتحان ابھی باقی ہے۔”


حصہ سیزدہم: استاد کی نصیحت

چند دن بعد سالار اپنے پرانے استاد “اکرم خان” کے پاس پہنچا۔ استاد ایک بزرگ شکاری تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر وقت جنگلوں میں گزارا تھا۔

اکرم خان نے مسکراتے ہوئے کہا:
“میں نے سنا ہے تم نے اندھی وادی کے شیر کو مار گرایا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں۔”

سالار نے مؤدب ہو کر کہا:
“استاد جی، یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ لیکن میرا دل عجیب سا بوجھل ہے۔”

اکرم خان نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا:
“بیٹا، شکار کبھی کھیل نہیں ہوتا۔ یہ انسان اور درندے کے بیچ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں دونوں اپنی جان داؤ پر لگاتے ہیں۔ اگر تم نے یہ کام اپنی زمین اور اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے کیا ہے، تو یقین جانو تم کامیاب ہو۔ مگر اگر کبھی یہ شکار اپنی انا یا شہرت کے لیے کرنے لگے، تو یاد رکھنا… جنگل بدلہ ضرور لیتا ہے۔”

سالار نے استاد کے الفاظ دل میں اتار لیے اور عہد کیا کہ اس کی ہر مہم کا مقصد صرف انسانیت کا دفاع ہو گا۔


حصہ چہار دہم: نئی مہم کی دستک

ایک شام سالار غازی اپنے صحن میں بیٹھا تھا۔ کاشف پاس ہی بیٹھا بیلنے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اچانک گاؤں کا ایک نوجوان دوڑتا ہوا آیا، سانس پھولی ہوئی تھی۔

“سالار صاحب! خبر آئی ہے کہ شمالی پہاڑیوں میں ایک خونی ریچھ نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ وہ راتوں کو مویشیوں پر حملے کر رہا ہے۔ لوگ خوفزدہ ہیں۔”

سالار نے ایک لمحہ سوچا، پھر مسکرا کر کاشف کی طرف دیکھا:
“کاشف! لگتا ہے ہماری اگلی مہم شروع ہونے والی ہے۔ شیر کے بعد اب ریچھ ہمارا منتظر ہے۔”

کاشف کا چہرہ خوف اور تجسس کے امتزاج سے سفید پڑ گیا:
“یا اللہ خیر… یہ ریچھ شیر سے بھی زیادہ خونخوار ہوتا ہے!”

سالار نے بندوق پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے کہا:
“ڈر سے بڑھ کر اگر کچھ ہے تو وہ ہمت ہے۔ اور شکاری دنیا میں ہمت کے بغیر کوئی قصہ مکمل نہیں ہوتا۔”

دور کہیں پہاڑیوں کی طرف سے عجیب سی گرج دار آواز گونجی۔ یوں لگا جیسے جنگل خود سالار غازی کو للکار رہا ہو۔


✨ انجام اور نیا آغاز

یوں اندھی وادی کا خوف ختم ہوا اور سالار غازی کی پہچان ایک بہادر شکاری کے طور پر قائم ہوئی۔ لیکن یہ تو بس پہلی مہم تھی۔ آگے “خونی ریچھ” کی داستان اس سیریز کا اگلا دروازہ کھولنے کو تیار تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe