Sunday, November 30, 2025
HomeHunting Storiesشکاریات سیریز - خونی ریچھ – سالار غازی کا نیا امتحان

شکاریات سیریز – خونی ریچھ – سالار غازی کا نیا امتحان

شکاریات سیریز – خونی ریچھ – سالار غازی کا نیا امتحان

قسط نمبر 2

حسان احمد اعوان کے قلم سے 

شکاریات سیریز - خونی ریچھ – سالار غازی کا نیا امتحان

Listen This Audio Story here :

📖 شکاریات سیریز

خونی ریچھ – سالار غازی کا نیا امتحان


باب اوّل: پہاڑی گاؤں کی کہانیاں

شام کا دھندلکا آہستہ آہستہ پہاڑی گاؤں کی وادی پر اتر رہا تھا۔ چاروں طرف سرسبز درخت، پہاڑوں کی ڈھلوانیں اور ندی کا ٹھنڈا پانی بہہ رہا تھا۔ بظاہر یہ گاؤں جنت کا ایک ٹکڑا لگتا تھا مگر کچھ ہفتوں سے اس جنت پر خوف کے سائے چھا گئے تھے۔

بوڑھا حامد خان، جو گاؤں کا بزرگ سمجھا جاتا تھا، حجرے میں بیٹھے نوجوانوں کو ایک ہی بات سنا رہا تھا:
“یہ کوئی عام ریچھ نہیں… یہ خونی ریچھ ہے۔ جو رات کو نکلتا ہے، بھیڑ بکریوں کو نوچ ڈالتا ہے اور کبھی کبھی انسانوں پر بھی حملہ کرتا ہے۔”

نوجوانوں کے چہروں پر خوف اور تجسس دونوں جھلک رہے تھے۔ کچھ نے دل ہی دل میں قصے کہانی سمجھ کر ہنس دیا، مگر اگلی ہی رات جب گاؤں کے مشہور چرواہے کو خون میں لت پت پایا گیا تو یہ ہنسی خوف میں بدل گئی۔

گاؤں کے لوگ تذبذب میں تھے۔ یہ جانور ہے یا کوئی اور بلا؟ عورتیں بچوں کو جلدی گھروں میں باندھ دیتیں، مرد رات کے وقت باہر نکلنے سے ڈرتے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے پورا گاؤں ایک نہ دکھنے والے قیدی بن گیا ہو۔


باب دوم: ریچھ کا پہلا حملہ

اندھیری رات تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور بجلی کی کڑک ماحول کو مزید ڈراونی بنا رہی تھی۔ چرواہا کلیم اپنی بھیڑوں کے ساتھ چراگاہ سے لوٹ رہا تھا۔ اچانک جھاڑیوں سے ایک بھیانک سایہ نمودار ہوا۔ بھاری سانسوں کی آواز، تیز پنجے اور چمکتی ہوئی آنکھیں… لمحوں میں کلیم کا جگر دہل گیا۔

“یا اللہ مدد!” اس کے منہ سے صرف یہی نکلا۔

اگلے لمحے ایک خوفناک دھاڑ سنائی دی۔ بھیڑیں بدک کر بھاگ گئیں، کلیم نے بھاگنے کی کوشش کی مگر دیر ہو چکی تھی۔ ریچھ نے ایک ہی وار میں اس کے کندھے کو پھاڑ ڈالا۔ چیخ کی گونج پہاڑوں میں پھیل گئی اور پھر اچانک سب کچھ خاموش ہوگیا۔

صبح جب گاؤں کے لوگ چراگاہ کی طرف گئے تو انہوں نے کلیم کی لاش دیکھی۔ جسم پر پنجوں کے نشان اور جگہ جگہ خون جما ہوا تھا۔ گاؤں والوں کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔ اب یہ قصے نہیں رہے تھے، یہ حقیقت بن چکی تھی۔


باب سوم: سالار غازی کی واپسی

یہ خبر جلد ہی قریبی قصبے تک پہنچی۔ اور وہیں ایک آدمی نے یہ خبر سنی جس کا نام سن کر ہی لوگوں کے دل میں ہمت پیدا ہوتی تھی — سالار غازی۔

سالار غازی، ایک ایسا شخص جو اپنی جوانی سے ہی جنگلوں اور پہاڑوں کا ساتھی رہا۔ گولی چلانے میں ماہر، جال بچھانے کا ہنر جاننے والا اور سب سے بڑھ کر ایک نڈر انسان۔ لوگ اسے صرف شکاری نہیں بلکہ محافظ سمجھتے تھے۔

سالار غازی نے کلیم کی موت کی خبر سنی تو فوراً اپنے پرانے دوست کاشف بلوچ کو ساتھ لے کر پہاڑی گاؤں کا رخ کیا۔ کاشف بلوچ ایک سیدھا سادہ دیہاتی مگر دل کا مضبوط اور دوست کے لیے جان قربان کرنے والا انسان تھا۔ دونوں جب گاؤں پہنچے تو لوگ ان کے گرد جمع ہوگئے۔

“سالار بھائی! یہ کوئی عام جانور نہیں۔ یہ تو خون کا پیاسا ہے۔”
“سالار صاحب! آپ ہی کچھ کریں، ورنہ ہمارا گاؤں ختم ہوجائے گا۔”

سالار نے سب کی باتیں سنی، پھر پُرسکون لہجے میں کہا:
“ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ جب تک میں زندہ ہوں یہ ریچھ کسی پر ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ لیکن پہلے مجھے حقیقت جاننی ہوگی۔”

یہ کہہ کر اس نے ڈاکٹر سلیم کو بھی پیغام بھجوایا، جو حیوانات کے ماہر تھے اور سالار کے پرانے ساتھی بھی۔ سالار جانتا تھا کہ یہ کھیل صرف بندوق سے نہیں جیتا جا سکتا، اس کے پیچھے کچھ راز ہے جسے کھولنا ہوگا۔


باب چہارم: سچائی کی تلاش

رات کا اندھیرا چھا چکا تھا۔ گاؤں کے حجرے میں سالار غازی، کاشف بلوچ اور گاؤں کے چند معتبر بیٹھے تھے۔ چراغ کی مدھم لو میں سب کے چہروں پر خوف اور تجسس واضح نظر آ رہا تھا۔

“میں نے کلیم کی لاش دیکھی ہے،” ایک گاؤں والا بولا۔ “اس کے زخم عام ریچھ کے پنجوں کے نہیں لگتے۔ جیسے کوئی جنون میں ہو اور چیر پھاڑ ڈالتا ہو۔”

سالار نے گہری سانس لی اور کہا:
“کبھی کبھی زخمی یا بیمار جانور انسان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت جاننے کے لیے ہمیں نشانوں کا جائزہ لینا ہوگا۔”

اسی لمحے دروازہ کھلا اور ڈاکٹر سلیم اندر داخل ہوئے۔ وہ ہمیشہ کی طرح پرسکون مگر متفکر نظر آرہے تھے۔
“میں نے لاش کا معائنہ کیا ہے۔” ڈاکٹر نے کہا۔ “یہ واقعی ریچھ کے پنجوں کے نشانات ہیں۔ لیکن ایک بات عجیب ہے — یہ عام ریچھ کی طاقت سے زیادہ گہرا اور وحشیانہ حملہ ہے۔ جیسے ریچھ کو پاگل کر دیا گیا ہو۔”

سالار نے غور سے ڈاکٹر کی بات سنی، پھر کاشف کی طرف دیکھا۔
“کل صبح ہم جنگل کی طرف جائیں گے اور ان نشانات کا تعاقب کریں گے۔ یہی ہمارا پہلا قدم ہے۔”


باب پنجم: جنگل کی پراسرار خاموشی

اگلی صبح، سورج کی کرنیں پہاڑوں کے پیچھے سے جھانک رہی تھیں جب سالار غازی، کاشف بلوچ اور ڈاکٹر سلیم جنگل کی طرف نکلے۔ صوفیہ خان بھی کیمرا اور نوٹ بک کے ساتھ ساتھ تھی۔ وہ بطور صحافی اس مہم کو کور کرنا چاہتی تھی، مگر دل ہی دل میں وہ جانتی تھی کہ یہ صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا کھیل ہے۔

جنگل میں داخل ہوتے ہی عجیب سا سکوت چھا گیا۔ پرندے جو عموماً صبح کے وقت چہچہاتے تھے، خاموش تھے۔ پتوں کی سرسراہٹ بھی ڈراؤنی لگ رہی تھی۔

کاشف نے آہستہ سے کہا:
“سالار بھائی، یہ خاموشی دل دہلا رہی ہے۔ لگتا ہے جنگل کے جانور بھی کسی خوف میں ہیں۔”

سالار نے نشانات کا جائزہ لیا۔ تازہ پنجوں کے بڑے بڑے نشان زمین پر ثبت تھے۔
“یہ ریچھ ہے، اور یہ راستہ سیدھا پہاڑ کے غار کی طرف جا رہا ہے۔” سالار نے کہا۔

کچھ دیر بعد وہ ایک جگہ رکے جہاں زمین پر خون کے دھبے اور بھیڑ کی باقیات پڑی تھیں۔ صوفیہ نے تصویریں لیں اور آہستہ کہا:
“یہ صرف جانوروں کا قتل نہیں، یہ پورے ماحولیاتی نظام کو خطرہ ہے۔ کوئی اس ریچھ کو جان بوجھ کر مشتعل کر رہا ہے۔”

ڈاکٹر سلیم نے سر ہلایا۔ “ممکن ہے کسی نے اسے زخمی کیا ہو یا زہر دیا ہو، جس سے وہ پاگل پن میں مبتلا ہوگیا ہے۔”

سالار نے نظریں سخت کرلیں۔ “پھر ہمیں نہ صرف ریچھ کو روکنا ہے بلکہ یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ اس کے پیچھے ہاتھ کس کا ہے۔”


باب ششم: ولن کا پردہ چاک

اسی شام سالار اور ساتھی گاؤں لوٹے۔ لوگ بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ لیکن رات کے اندھیرے میں ایک اور ہولناک خبر آئی۔ گاؤں کے قریب کھیتوں پر حملہ ہوا تھا۔ اس بار ریچھ کے ساتھ دو مسلح آدمیوں کو بھی دیکھا گیا۔

“یہ کیا ہے؟” صوفیہ نے حیرانی سے کہا۔ “کیا انسان بھی اس خونی کھیل میں شریک ہیں؟”

سالار کے ماتھے پر پسینہ آ گیا، مگر آنکھوں میں غصہ بھڑک اٹھا۔
“میں جانتا ہوں یہ کس کا کام ہے…”

کاشف نے چونک کر پوچھا: “کس کا؟”

سالار نے آہستہ سے کہا:
“یہ سب کالیار خان کا کھیل ہے۔ وہی سفاک شکاری جسے برسوں پہلے میں نے ایک مہم میں شکست دی تھی۔ وہ جانوروں کو محض منافع کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اب اس نے ریچھ کو بھی ایک ہتھیار بنا دیا ہے۔”

ڈاکٹر سلیم نے تائید کی۔ “کالیار خان کے پاس ایسے ہتھکنڈے موجود ہیں۔ وہ جانوروں کو زخمی کر کے پاگل بناتا ہے تاکہ وہ انسانوں پر حملہ کریں اور پھر وہ شکار کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے۔”

سالار نے مٹھیاں بھینچ لیں۔
“اب یہ صرف شکار نہیں رہا۔ یہ جنگ ہے — ایک جنگ انسانیت کے تحفظ کے لیے۔”

باب ہفتم: خونی رات

گاؤں پر ایک بار پھر خوف کا سایہ چھا گیا۔ لوگ گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ رات کے اندھیرے میں اچانک ایک کڑاکے دار چیخ گونجی۔ کاشف اور سالار فوراً ہتھیار لے کر باہر نکلے۔ کھیتوں کی طرف سے دھویں اور شور کی آوازیں آ رہی تھیں۔

وہ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ خونی ریچھ کھیتوں میں مچل رہا تھا۔ اس کے ساتھ دو نقاب پوش آدمی گاؤں کے مویشی ہانک کر جنگل کی طرف لے جا رہے تھے۔ سالار نے فائر کیا، مگر ریچھ نے ایک ہی جست میں قریبی درخت کو اپنی طاقت سے ہلا ڈالا۔ گاؤں والے دہشت زدہ ہو گئے۔

“یہ عام ریچھ نہیں رہا…” ڈاکٹر سلیم نے لرزتی آواز میں کہا، “یہ زہر اور تشدد سے پاگل بنا دیا گیا ہے۔”

صوفیہ نے کیمرے سے سب مناظر محفوظ کیے۔ “یہ ثبوت ہیں کہ یہ سب کالیار خان کا کھیل ہے۔” مگر وہ جانتی تھی کہ یہ ثبوت جمع کرتے کرتے وہ خود بھی خطرے میں ہے۔


باب ہشتم: قید کی زنجیریں

اگلے دن، صوفیہ خبر اکٹھی کرنے کے بہانے تنہا جنگل میں گئی۔ مگر وہاں کالیار خان کے آدمیوں نے اسے پکڑ لیا۔ وہ صوفیہ کو زبردستی اپنے کیمپ میں لے آئے جہاں کالیار خان خود موجود تھا۔

کالیار خان ایک بلند قامت، سر پر پگڑی باندھے، آنکھوں میں غرور لیے شخص تھا۔ وہ طنزیہ ہنسی کے ساتھ بولا:
“تو یہ ہے سالار غازی کی صحافی دوست؟ تمہیں نہیں پتہ لڑکی، سچ لکھنے والے اکثر جنگل میں گم ہو جاتے ہیں۔”

صوفیہ نے حوصلہ نہیں ہارا۔ “تمہارے جرائم اب چھپنے والے نہیں۔ سالار ضرور آئے گا۔”

کالیار خان کی ہنسی اور گہری ہو گئی۔ “اسی لیے تو تمہیں قید کیا ہے… تاکہ سالار خود میرے جال میں پھنسے۔”


باب نہم: جنگل کی گہرائیاں

سالار غازی اور کاشف بلوچ نے صوفیہ کی گمشدگی کی خبر سنی تو فوراً جنگل کی طرف نکلے۔ ڈاکٹر سلیم نے راستے کے نشان دیکھ کر بتایا:
“یہ تازہ قدموں کے نشانات ہیں، اور قریب ہی ریچھ کے پنجے بھی۔ کالیار خان نے صوفیہ کو اپنے کیمپ میں رکھا ہے۔”

جنگل کی خاموشی اور بڑھتی ہوئی گھپ اندھیرا رات کو اور زیادہ خطرناک بنا رہا تھا۔ کہیں دور سے ریچھ کی خوفناک گرج سنائی دی۔ کاشف نے سالار سے کہا:
“بھائی، اگر وہ ریچھ سامنے آگیا تو؟”

سالار نے تلوار کی مانند چمکتی اپنی بندوق کو تھاما۔
“پھر ہمیں اپنی جان ہتھیلی پر رکھنی ہوگی۔ یہ صرف شکار نہیں، انصاف کی جنگ ہے۔”


باب دہم: آخری معرکہ

کالیار خان کا کیمپ ایک پہاڑی کے دامن میں تھا۔ جب سالار اور کاشف وہاں پہنچے تو کیمپ کے ارد گرد آگ کے الاؤ جل رہے تھے۔ نقاب پوش پہرہ دے رہے تھے۔ بیچ میں صوفیہ ایک ستون سے بندھی ہوئی تھی۔

سالار نے اشارہ کیا، اور کاشف نے ایک پہرے دار کو خاموشی سے بے ہوش کر دیا۔ مگر اسی لمحے خونی ریچھ دھاڑتا ہوا سامنے آ گیا۔ اس کی سرخ آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔

“کاشف! صوفیہ کو آزاد کراؤ، ریچھ میرے حوالے!” سالار نے دہاڑ کر کہا۔

کالیار خان سامنے آیا۔ “آخر کار مل ہی گئے، سالار غازی! دیکھو میرا خونی سپاہی کیسا ہے!” اس نے ریچھ کو مزید بھڑکانے کے لیے آگ میں لوہا ڈالا اور ریچھ کی طرف اچھالا۔

ریچھ غصے میں پاگل ہو گیا اور سالار کی طرف لپکا۔ سالار نے ہتھیار سنبھالا، دو گولیاں چلائیں مگر ریچھ ڈگمگانے کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔ سالار نے آخری لمحے پر اپنی شکاری چھری سنبھالی اور قریب آتے ہی ایک فیصلہ کن وار کیا۔ ریچھ دھاڑتا ہوا زمین پر گر گیا۔

صوفیہ آزاد ہو چکی تھی، اور کاشف نے کالیار خان پر جھپٹ کر اسے قابو کر لیا۔ ڈاکٹر سلیم نے زخمی سالار کو سہارا دیا۔


باب یازدہم: انجام اور اگلا سفر

کالیار خان کو گاؤں کے لوگوں کے حوالے کر دیا گیا۔ گاؤں میں امن واپس آ گیا، مگر سب جانتے تھے کہ یہ صرف ایک معرکہ تھا۔

سالار غازی نے گہری نظر سے افق کی طرف دیکھا۔
“یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اور بھی درندے ہیں جو جنگل اور انسانیت کے دشمن ہیں۔”

صوفیہ نے مسکراتے ہوئے کہا:
“پھر تمہیں میری رپورٹنگ برداشت کرنا پڑے گی، کیونکہ میں بھی اگلی مہم کا حصہ ہوں گی۔”

کاشف نے قہقہہ لگایا: “بس اگلی بار ریچھ کی جگہ کچھ چھوٹا جانور ہو تو بہتر ہوگا!”

سب نے ہنسی میں ڈوبا ہوا لمحہ بانٹا، مگر جنگل کے سناٹے میں اب بھی نئی مہمات کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
0FollowersFollow
0SubscribersSubscribe